غلیل بنانے اور چڑیائیں مارنے کا ورد کب تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصہ یوں ہے کہ ایک شخص کے گھر بہت خوبصورت اور صحت مند بچہ پیدا ہوا۔ والدین ہی کیا تمام لواحقین کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس کے سامنے بہت سارے کھیل کھلونے رکھے گئے مگر والدین کو پریشانی یہ تھی کہ وہ کسی بھی قسم کے کھلونے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتا تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے اسے کسی خاص کھلونے کی تلاش ہے۔ والدین نے سوچا کہ کیوں نہ اسے گود میں اٹھا کر بھرے بازار میں گھمایا جائے۔ ممکن ہے اسے اپنی پسند کے مطابق کوئی کھلونا پسند ہی آ جائے۔

بازار میں گھومتے گھومتے اچانک اس نے ایک جانب اشارہ کر کے شور مچانا شروع کر دیا۔ والد کی توجہ اس جانب گئی تو وہ ایک غلیل تھی۔ والد کو حیرت ہوئی کہ بچے کو کوئی کھلونا پسند بھی آیا تو غلیل آئی۔ خیر اس نے وہ غلیل اسے دلا دی۔ بچہ غلیل کو پاکر بہت خوش ہوا۔ وہ سارا دن اس سے کھیلتا رہتا۔ پھر ہوا یوں کہ بچہ آٹھ دس سال کا ہو گیا لیکن وہ والدین سے ہر وقت یہی کہتا رہتا کہ مجھے ربڑ دلاؤ میں غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا۔

والدین بہت سمجھاتے کہ بیٹے اب آپ بڑے ہو گئے ہیں، غلیل کی بجائے ائر گن یا اور کچھ لے لیں۔ ان کی اس بات پر وہ پاگلوں کی طرح رونے لگتا اور چیخ چیخ کر کہتا مجھے ربڑ دلاؤ، میں غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا۔ جب والدین نے اس کی یہ کیفیت دیکھی تو وہ اسے نفسیاتی ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں کے پورے پینل نے بچے کے والدین سے کہا کہ مرض قابل علاج ہے لیکن آپ کو اسے ہمارے پاس داخل کرانا پڑے گا۔ والدین نے ایسا ہی کیا۔

دو ڈھائی برس بعد ہسپتال والوں نے والدین کو یہ خوش خبری سنائی کہ آپ کا بچہ اب ٹھیک ہو گیا ہے آپ اسے لے جا سکتے ہیں۔ والدین خوشی خوشی ہسپتال پہنچے۔ بچے کو بلایا گیا۔ وہ والدین سے بہت ہی والہانہ انداز میں ملا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اب تم گھر جاکر کیا کرو گے، اس نے کہا اسکول میں داخلہ لوں گا ۔ پھر کیا کرو گے، کہا اسکول جانے کے لئے ابو سے کہوں گا کہ مجھے سائیکل دلا دیں۔ والدین بچے کی سمجھداری والی باتیں سن سن کر نہال ہوئے جا رہے تھے۔

ڈاکٹر نے پھر سوال کیا کہ اس کے بعد کیا کرو گے، کہنے لگا اسکول سے واپس آ کر سائیکل کا پہیہ کھول کر اس میں سے ٹیوب نکالوں گا ، ربڑ کاٹ کر غلیل بناؤں گا چڑیا ماروں گا۔ بچے کی یہ بات والدین کے لئے بہت ہی صدمے کا سبب بنی۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ بچے کو چھوڑ جائیں ہم اس کیس کو مزید دیکھتے ہیں۔ بچہ اب جوان ہو چکا تھا اور بیشمار سوالات کے درست جو بات پاکر ہسپتال والوں کو یقین ہو گیا کہ اب بچہ ایک نارمل انسان بن چکا ہے۔

والدین کو بلایا گیا۔ والدین نے بھی بیشمار سوال کے جوابات درست پاکر اطمینان کا اظہار کیا۔ پوچھا اب گھر جا کر کیا کرو گے۔ والدین کی خدمت کروں گا۔ اب یہ بوڑھے ہو چکے ہیں اس لئے اچھی سی ملازمت تلاش کروں گا۔ پھر ان سے کہوں گا کہ اپنے لئے بہو لے آئیں۔ میرے لئے دیگر کپڑوں کے علاوہ شادی کے سوٹ کے ساتھ انڈر وئیر بھی آئے گا۔ بس میں کمرہ بند کر کے اس میں سے ربڑ نکالوں گا ، غلیل بناؤں گا اور چڑیا ماروں گا۔

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے پھر اپنی پرانی بات کو دہراتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”کچھ بھی ہو جائے، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا “ ۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی فائلیں آ گئی ہیں، آنے والا وقت اور بھی شدید اور سخت ہوگا۔ اس سے کچھ دن قبل بھی وزیر اعظم یہ فرما چکے تھے کہ اب میں ایک مختلف روپ میں نظر آؤں گا اور ملک کی دولت لوٹنے والوں کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ سختی سے پیش آؤں گا۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب غلط بھی نہیں کہہ رہے۔ ایسے تمام ملک دشمن عناصر جو ملک کی دولت کو لوٹ کر پاکستان کی معیشت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ماضی بھی ایسے عناصر سے بھرا پڑا ہے، ان کو کسی بھی صورت نہیں بخشنا چاہیے لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس بہانے چند مخصوص افراد کو نشانہ بنانا اور ایسے عمل کا غیر شفاف اور جانبدارانہ ہونا اس کی سب سے بڑی خامی اور احتسابی عمل کے درمیان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

احتساب کا ہونا، ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی جیسا کام بے شک بہت ضروری سہی لیکن صرف اسی ایک معاملے پر سوئی کا اٹک جانا کہیں سے کہیں تک بھی دانشمندی نہیں۔ ویسے بھی پاکستان میں ہر کام کے لئے ادارے موجود ہیں۔ دیکھا جائے تو ایسے سارے افراد کے خلاف کارروائیاں عمل میں لانا وزارت عظمی کی براہ راست ذمہ داریوں میں تو آتا نہیں اس لئے بار بار ایک ہی بات کو ایک ہی انداز میں دہرائے چلے جانا کچھ نامناسب سی بات لگتی ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارا عدالتی نظام بیشمار نقائص کا حامل ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ نظام کے نقائص دور کیے جانے پر توجہ دی جائے ورنہ مجرم پکڑ تو لئے جائیں گے لیکن نظام میں موجود بڑے بڑے سوراخ اسے باہر نکل جانے میں ہمیشہ مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

وزیر اعظم سے عرض ہے کہ ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“ اس لئے ربڑ، غلیل اور چڑیائیں مارنے سے باہر نکلیں اور اس پر توجہ دیں کہ مہنگائی کی چکی میں پستے چلے جانے والے عوام کو کس طرح اس عذاب سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •