امریکی صدارتی انتخابات مشیگن کے وہ ’مردہ ووٹرز’ جو ابھی بھی زندہ ہیں

جیک گڈمین، کرسٹوفر جائلز، اولگا روبنسن،جیک ہورٹن - بی بی سی ریئلٹی چیک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم نے مشیگن سے تعلق رکھنے والی ماریہ اری آرڈونڈو کو فون کیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ 'میں 72 سال کی ضرور ہوں۔لیکن میں زندہ ہوں اور سانس لے رہی ہوں۔ میرا دماغ ٹھیک کام کر رہا ہے اور میں صحت مند ہوں۔'

ماریہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بائیڈن کو ووٹ دیا اور اُنہیں یہ سن کر حیرت ہوئی کہ اُن کا نام ریاست میں مبینہ طور پر مردہ ووٹرز کی ایک فہرست میں شامل ہے۔ ہم نے مشیگن میں دوسرے ایسے افراد سے بات کی جن کے حالات ماریہ سے ملتے جلتے ہیں اور ہم نے اسی طرح کی صورتحال پائی۔

یہ بھی پڑھیں

کیا نتائج سے متعلق ڈراؤنا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے؟

صدر ٹرمپ: امریکی انتخاب 2020 ملتوی کر دیں، ’فراڈ‘ کا خدشہ ہے

امریکی انتخابات میں حصہ لینے والی انڈین اور پاکستانی خواتین

ماضی میں امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ایسے مواقع آئے ہیں جن میں مردہ افراد نے بظاہر ووٹ ڈالے تھے۔

یہ اہلکاورں کی غلطیوں کی وجہ سے ممکن ہوسکتا ہے یا شاید اُن گھرانوں کے دیگر افراد کے نام بھی ملتے جلتے ہوں اور انہوں نے اُن ناموں سے ووٹ ڈالا ہو، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے الزام لگایا ہے کہ اِن انتخابات میں بڑے پیمانے پر ایسا ہوا ہے۔

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اس دعوے کے کوئی شواہد موجود ہیں۔

مشیگن میں’ 10000 مردہ غیر حاضر ووٹرز’؟

اس کہانی کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حامی کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے تقریباً 10000 ناموں کی فہرست سے ہوا ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دعوی کیا ہے کہ امریکی انتخابات میں ایسے افراد کا نام استعمال کرکے ہزاروں ووٹ ڈالے گئے جو مر چکے ہیں۔

ایک ٹویٹ جس میں دعوی کیا گیا کہ دس ہزار مردہ ووٹرز کے ووٹ ڈالے گئے

BBC

بظاہر اس فہرست میں ایسے لوگوں کا نام شامل تھا جو مر چکے ہیں لیکن مشیگن میں صدارتی انتخابات میں اُن کے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

اس طرح کے دعوے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد بار دہرائے گئے ہیں اِن دعوؤں کی تشہیر منتخب ریپبلکن سیاستدانوں نے بھی کی۔

دس ہزار افراد کی فہرست میں نام، زپ کوڈ اور بیلٹ وصول کرنے کی تاریخ درج ہے۔ اس کے بعد فہرست میں اِن افراد کی تاریخ پیدائش اور وفات کا دن بھی دیا گیا ہے۔ اس فہرست کے مطابق کچھ افراد کی 50 سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل موت ہوئی تھی۔

مشیگن میں ایک ڈیٹا بیس موجود ہے جس میں کسی فرد کا نام، زپ کوڈ ، پیدائش کا مہینہ اور پیدائش کا سال ڈالیں تو وہ یہ بتا دیتا ہے کہ اس فرد نے اس سال غیر حاضر بیلٹ کے ذریعہ ووٹ ڈالا یا نہیں۔ لہذا آپ آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ آیا فہرست میں شامل لوگوں نے ووٹ ڈالے تھے۔

ایسی متعدد امریکی ویب سائٹس بھی ہیں جن میں موت کے ریکارڈ کا ڈیٹا بیس دستیاب ہے۔

لیکن 10000 کی اس فہرست میں ایک بنیادی مسئلہ ہے۔

اس طرح کی جانچ سے آپ کو غلط نتائج مل سکتے ہیں۔ مشیگن میں انتخابات کے دوران جنوری 1940 میں پیدا ہونے والے ایک شخص نے ووٹ ڈالا لیکن امریکہ میں کسی اور جگہ جنوری 1940 میں پیدا ہونے والا ایک اور شخص جس کا وہی نام ہے مگر اُس کی اب موت واقع ہو چکی ہے۔ ایسا اتنے بڑے کسی بھی ملک میں یقیناً ہوسکتا ہے جتنا بڑا امریکہ ہے جہاں 328 ملین افراد رہتے ہیں اور خاص طور پر اُس صورت میں جب ایسے افراد کا نام بھی مشترکہ ہو۔

فہرست کو جانچنے کے لیے ہم نے بغیر کسی ترتیب کے 30 نام چنے۔ اس فہرست میں ہم نے سب سے بوڑھے شخص کو بھی شامل کیا۔

31 ناموں کی اس فہرست میں سے ہم 11 افراد یا اُن کے گھر کے کسی فرد ، پڑوسی یا کیئر ہوم میں کام کرنے والے کارکنان سے براہ راست بات کرنے میں کامیاب ہوئے تاکہ اس بات کی تصدیق کرسکیں کہ جس شخص کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ابھی تک زندہ ہے۔

17 افراد کی موت کا کوئی عوامی ریکارڈ موجود نہیں تھا اور ہمیں اس بات کے واضح ثبوت ملے کہ وہ 10000 کی فہرست میں اُن کی موت کی دی گئی مبینہ تاریخ کے بعد بھی زندہ تھے۔ ایک بات واضح ہوئی اور وہ یہ کہ غلط ریکارڈز کو ملا کر ایک جھوٹی تصویر پیش کی گئی تھی۔

بل آخر ہمیں اس فہرست میں شامل تین ایسے افراد کے نام ملے جو واقعتاً مر چکے تھے۔ ہم ان کی جانچ آگے جا کر کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی مظاہرین

Getty Images
مشیگن کے شہر ڈیٹرائیٹ میں شہریوں نے سڑکوں کا رخ کیا اور یہ دعوی کیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔

جو ہم نے دریافت کیا

سب سے پہلے ہم نے مشیگن کے سرکاری انتخابی ڈیٹا بیس کی جانچ پڑتال کی یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا ہمارے منتخب کردہ 31 افراد نے اپنے بیلٹ بھیجے تھے۔ ہمیں پتا چلا کہ اِن سب نے بیلٹ بھیجے تھے۔

اس کے بعد ہم نے اموات کے ریکارڈ کو دیکھا اور یہ دیکھ کر جلد ہی شک ہوا کہ اِن میں سے بڑی اکثریت مشیگن میں نہیں مری تھی بلکہ اِن کی موت امریکہ میں کہیں اور ہوئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے جاری کردہ لسٹ کا سکرینشاٹ

BBC
ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دعوی کیا کہ اُن کے پاس مردہ افراد کی فہرست ہے جن کے نام پر ووٹ ڈالے گئے۔

ہم نے سوچا کہ کیا اسی نام کے لوگ اس وقت مشیگن میں رہتے ہیں۔

مشیگن ریاست کے عوامی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اور رائے دہندگان کے پوسٹل کوڈ دیکھتے ہوئے ہم ووٹ ڈالنے والوں کی قطعی تاریخ پیدائش تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

لہذا ہم یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم دو بالکل مختلف افراد کی معلومات دیکھ رہے تھے۔ وہ لوگ جنھوں نے ووٹ ڈالے تھے اور بالکل اُسی نام اور عمر رکھنے والے ایسے افراد جن کی موت کہیں اور واقع ہوئی تھی۔

لیکن جو ہم چاہتے تھے وہ یہ تھا کہ ہم بذات خود اِن رائے دہندگان سے بات کرسکیں۔

‘میں زندہ ہوں!’

ہم نے مشیگن میں ایک ریٹائرڈ استاد روبرٹو گارسیا کو فون کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا: ‘میں یقینی طور پر زندہ ہوں اور میں نے یقینی طور پر بائیڈن کو ووٹ دیا تھا – ٹرمپ کو صرف اُس ہی صورت میں ووٹ دیتا اگر میں مرگیا ہوتا۔’

ہمیں ایک 100 سالہ خاتون بھی ملیں جو ‘مردہ ووٹرز’ کی فہرست کے مطابق 1982 میں فوت ہوگئی تھی۔ وہ زندہ تھیں اور اس وقت مشیگن کے ایک نرسنگ ہوم میں رہ رہی ہیں۔

لیکن ہماری جانچ پڑتال کے نتائج ہمیشہ اتنے سیدھے نہیں تھے۔

جب ہم نے ایک اور سو برس کے فرد کی تلاش کی جس کی موت اس فہرست کے مطابق 1977 میں ہوئی تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ستمبر میں پوسٹل بیلٹ بھیجنے کے وقت زندہ تھیں۔ تاہم اُن کے ایک ہمسائے نے ہمیں بتایا کہ وہ خاتون چند ہفتوں پہلے فوت ہوگئی تھیں۔ ہم نے اس کی تصدیق اکتوبر میں اُن کے اعلان وفات سے بھی کی۔

اگر رائے دہندگان بیلٹ جمع کروانے کے بعد انتخابی دن سے پہلے ہی مر جاتا ہے تو اُس صورت میں مشیگن کے حکام کے مطابق اُن کے بیلٹ کو مسترد کر دیا جائے گا۔

ہم یہ معلوم نہیں کر سکے کہ آیا اس خاتون کا ووٹ گنا گیا تھا ۔

جیورجیا میں ایک عورت بیلٹ پیپرز کو دیکھ رہی ہے

Getty Images
ابھی ووٹوں کی گنتی جاری تھی جب ووٹنگ میں دھاندلی کے دعوی وائرل ہونا شروع ہوئے۔

جن لوگوں سے ہم فون پر رابطہ نہیں کرسکے اُن کے زندہ ہونے کی تصدیق دوسرے ذرائع استعمال کر کے کی گئی۔

مثال کے طور پر ایسے افراد کی کاروباری سرگرمیاں جن کا اندراج ریاستی اور مقامی حکام کی طرف سے عوامی ریکارڈ میں شامل ہے دیکھا گیا۔

ایک ایسی عورت جس کا فہرست کے مطابق 2006 میں انتقال ہوا تھا، اُن کا جنوری 2020 میں ایک کمپنی کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات پر دستخط موجود تھا۔

رائے دہندگی کے ڈیٹابیس کے مطابق ہماری 31 افراد کی فہرست میں شامل دو دیگر افراد جن کے پوسٹ کوڈ اور پتے درست تھے کچھ عرصہ قبل فوت ہوگئے تھے مگر پھر بھی ان کے ناموں پر ووٹ ڈالے گئے تھے۔

ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دونوں مرد حضرات کے ایک ہی نام کے تھے جن کا اندراج فی الحال اُس ہی پتے پر ہے جن پر اُن کے باپ کا نام رجسٹرڈ تھا۔

دونوں ہی کیسز میں مردہ باپوں کا بیلٹ بھیجا گیا تھا۔

مقامی انتخابی عہدیداروں نے ہمیں بتایا کہ ووٹوں میں سے ایک کی گنتی ہوچکی ہے لیکن بیٹے کے ووٹ ڈالنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

دوسرے کیس میں دراصل بیٹے نے ووٹ ڈالا تھا لیکن یہ کسی کلرک کی غلطی کی وجہ سے والد کے نام پر درج کیا گیا تھا۔

مشیگن میں نئے صدر کی حمایت کے لیے آنے والا شخص

Getty Images
مشیگن میں رہائشی جو بائیڈن کی کامیابی کی خوشی منانے سڑکوں پر نکلے۔

‘یہ صرف اعدادوشمار کی بات ہے’

ہماری طرف سے چنے گئے 31 افراد دس ہزار ووٹرز کی فہرست میں شامل ناموں کا صرف ایک چھوٹا سا نمونہ ہے لیکن اس نے ٹرمپ حامیوں کی طرف سے شیئر کیے گئے ڈیٹا بیس میں موجود خامیوں کی واضح نشاندہی کردی ہے۔

ہماری تحقیقات سے یہ بات واضح ہے کہ ہمارے 31 منتخب ناموں میں سے تقریباً تمام کیسز میں مشیگن میں حقیقی ووٹروں کے اعداد و شمار کو پورے امریکہ میں اسی نام اور پیدائش کے مہینے اور سال رکھنے والے مردہ افراد کے ریکارڈ کے ساتھ جوڑاگیا تھا تاکہ جھوٹی تصویر سامنے آئے۔

جمہوریت کے قانون کے ماہر پروفیسر جسٹن لیویٹ کا کہنا ہے کہ ‘اگر یہ فہرستیں صرف نام اور تاریخ پیدائش کی بنیاد پر جڑی ہوئی ہیں تو مشیگن جتنی بڑی ریاست میں یہ یقینی ہے کہ غلط ڈیٹا مل سکتا ہے۔’

یہ سالگرہ کے مسئلے کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ جس میں اس بات کا بہت امکان ہو کہ ایک ہی کلاس کے دو طلبہ کی ایک ہی سالگرہ ہو۔

لہذا اگر آپ مشیگن میں لاکھوں ووٹرز کا موازنہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والی اموات کے ڈیٹا بیس سے کریں تو آپ کو ملتے جلتے ریکارڈ ملیں گے، خاص طور پر اگر ووٹر کے ڈیٹا بیس میں اس مہینے کا دن شامل نہیں ہوتا ہے جس میں وہ شخص پیدا ہوا ہو۔

پروفیسر جسٹن لیویٹ کا کہنا ہے کہ ‘یہ صرف اعدادوشمار کی بات ہے۔ اگر آپ لاکھوں دوسرے ریکارڈز کے ساتھ لاکھوں ریکارڈز کا موازنہ کریں تو آپ کو بڑی تعداد میں ملتے جلتے مگر غلط نتائج ملیں گے۔ ہم پہلے بھی یہ دیکھ چکے ہیں۔’

اپنے ووٹ کو محفوظ طریقے سے ڈالنے اور اس کے گنے جانے کے بعد ماریا اریارڈونڈو ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ نئی انتظامیہ کی منتظر ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ‘جو بائیڈن اوباما کے دور میں ایک بہت زبردست نائب صدر تھے۔ میں بہت خوش ہوں۔ میرے کندھوں سے بھاری بوجھ اتر گیا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16595 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp