گلگت بلتستان۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے تہتر سال پہلے اسی ماہ نومبر کا پہلا سورج گلگت بلتستان کی آزادی کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد گلگت سکاؤٹس اور مہاراجہ کشمیر کی فوج کے مسلمان سپاہیوں اور افسران نے مہاراجہ کے نمائندہ گورنر کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس کی قیادت انگریز کمانڈنٹ میجر ولیم براؤن نے کی تھی اور یوں اس خطے کو آزادی نصیب ہوئی۔ آزادی کے بعد یہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی حکومت کو الحاق کے لیے پیغام بھیجا گیا جس پر حکومت پاکستان نے پس و پیش سے کام لیا۔ اسی اثنا میں ہندوستان قبائلی لشکروں کی کشمیر پر یلغار کے نتیجے میں سلامتی کونسل پہنچ گیا اور گلگت بلتستان کے آزاد خطے کو بھی کشمیر کے تصفیے سے نتھی کروا دیا۔ یوں پاکستان کی حکومت کی نالائقی اور بدقسمتی کی وجہ سے یہ خطہ آج تک پاکستان کا آئینی حصہ نہ بن سکا۔

تہتر سال گزرنے کے باوجود بھی یہاں کے لوگ ایک ایسی صبح آزادی کی تلاش میں سرگرداں ہیں جس کی سحر بقول فیض صاحب، شب گزیدہ نہ ہو اور جس کا اجالا داغ دار نہ ہو۔ یہاں کے باسی آج بھی ان آزادیوں کو ترس رہے ہیں جن کا خواب ان کے آبا و اجداد نے تہتر سال قبل دیکھا تھا۔ وہ آزادیاں جو اس خطے کا حق تھیں اور جن کے لیے یہاں کے لوگوں نے قربانیاں دیں۔ آج بھی، جب کئی برفوں کے پانی پگھل چکے ہیں، یہ لوگ دل و جان سے پاکستان کے ساتھ ہیں اور افتخار عارف کے الفاظ میں اس مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی چکاتے جا رہے ہیں جو ان پر کبھی واجب بھی نہ تھے۔

آزادی کے بعد سے آج تک یہاں کے باسیوں نے انتہائی صبر آزما اور کٹھن وقت گزارا ہے وہ وقت جب یہ لوگ چند انتہائی دشوار گزار راستوں سے گزرتے آزاد کشمیر میں داخل ہوتے تھے کہ وہ اس خطے کا باقی پاکستان سے واحد زمینی راستہ تھا۔ اگر چہ ہوائی سفر کی سہولت بھی کچھ حد تک موجود تھی لیکن اس سے صرف مٹھی بھر لوگ ہی استفادہ کر پاتے تھے۔ ان خوبصورت علاقوں کا صحیح معنوں میں پاکستان سے زمینی رابطہ ستر کی دہائی کے آخر میں ہوا جب چین کی مدد سے قراقرم ہائی وے کی تکمیل ہوئی۔

انیس سو ستر میں اس خطے کو ایک الگ انتظامی یونٹ کی شکل دی گئی اور اس کو ناردرن ایریاز کے نام سے جانا جانے لگا۔ قراقرم ہائی وے بن جانے کے بعد یہاں کے لوگ بقیہ پاکستان سے تیزی سے جڑنا شروع ہوئے اور جلد ہی اس خطے کی خوبصورتی نہ صرف پاکستان میں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی تیزی سے مقبول ہونا شروع ہوئی۔ اور اس طرح یہاں کے لوگوں کا سیاسی شعور بھی وقت کے ساتھ بڑھتا رہا جو اپنے حقوق کی جدوجہد سے کبھی بھی دستبردار نہ ہوا۔

دو ہزار نو میں جب پاکستان ایک اور آمریت کے سائے سے نکل کر جمہوری دور میں داخل ہوا تو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس خطے کو ایک بڑی کامیابی نصیب ہوئی جب اس خطے کو ایک پہچان ملی یعنی اس کو آخرکار ایک نام ”گلگت بلتستان“ ملا اور اسی صدارتی آرڈیننس کے تحت اس خطے کو صوبائی خد و خال سے نوازا گیا جس کے تحت وزیر اعلیٰ اور گورنر کے عہدے تخلیق ہوئے اور اس کی اسمبلی کو کچھ متعین معاملات میں قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔ لیکن ظاہر ہے یہ تو صرف شروعات تھیں۔ اس کے بعد جب دو ہزار نو میں یہاں انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی کو بھر پور کامیابی ملی جس نے تینتیس کے ایوان میں بیس سیٹیں حاصل کیں اور سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے۔ دو ہزار پندرہ میں ہوئے انتخابات میں مسلم لیگ نون کو بھر پور کامیابی حاصل ہوئی اور تینتیس کے ایوان میں بائیس سیٹیں مسلم لیگ کو ملیں۔ گلگت سے تعلق رکھنے والے حافظ حفیظ الرحمن کو اس خطے کے دوسرے وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

آج گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑوں کو ایک اور نومبر درپیش ہے جس کے بعد ان کی آزادی کا نامکمل سفر یقیناً مزید آگے کی طرف بڑھے گا۔ پندرہ تاریخ کو منعقد ہونے والے انتخابات اس خطے کے مستقبل پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوں گے۔ بلاول بھٹو نے جس بھر پور طریقے سے اس خطے کا مقدمہ یہاں کے عوام کے سامنے پیش کیا وہ ایک بھرپور سیاسی تربیت رکھنے والے لیڈر کے شایان شان ہی ہو سکتا ہے۔ بلاول نے جس بھرپور طریقے سے الیکشن کیمپین چلائی اور جس طرح وہ ایک ایک علاقے اور حلقے میں پہنچا وہ یقیناً انتہائی خوش آئند ہے۔

تقریباً گزشتہ ایک ماہ سے بلاول کی یہاں مسلسل موجودگی پاکستان پیپلز پارٹی کی اس خطے سے کمٹمنٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ بلاول کے اس رویے نے آج پورے پاکستان کو ان انتخابات میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہے اور اب اس بات کا قوی امکان ہو چلا ہے کہ اس دفعہ ان انتخابات کا نتیجہ روایات کے برعکس بھی نکل سکتا ہے یعنی موجودہ حکومتی پارٹی کو شکست بھی ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں بلاول کی اتنی محنت کے نتیجے میں بارہ سے تیرہ سیٹیں تو پیپلز پارٹی کو مل جانی چاہیے۔ بلاول کی کامیاب مہم کو دیکھتے ہوئے دوسری پارٹیوں کے لیڈران اور حکومتی پارٹی کے بھی کچھ کارندوں نے یہاں کا رخ کیا لیکن کم از کم انتخابی مہم چلانے تک بلاول یہ بازی مار چکا ہے۔

گلگت بلتستان کا یہ خطہ میرے جیسے پہاڑوں سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں بستا ہے اس لیے میری دلی دعا ہے کہ بہت جلد یہ خطہ پاکستان کا آئینی طور پر پانچواں حصہ بن جائے۔ گلگت بلتستان اب آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی اجتماعی سوچ یہی ہے کہ ان کو پاکستان کے دیگر صوبوں اور شہروں کی طرح برابر کے حقوق ملیں اور یہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •