غیر قانونی قبائلی جرگے نے نو بچوں کی ماں کو کالی قرار دے کر قتل کرنے کا فیصلہ سنا دیا

عزیزالله خان - بي بي سي

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان
Getty Images
پولیس جرگے میں شامل تمام افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے جبکہ خاتون کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
پاکستان میں ایک قبائلی جرگے نے تقریباً ایک ماہ قبل خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی نو بچوں کی ماں کو کالی قرار دے کر قتل کرنے کا فیصلہ دیا ہے جس کے بعد خاتون کو اس کے بھائیوں نے دوسرے شہر میں ایک پیر کے آستانے پر تحفظ کے لیے بھیج دیا ہے۔

خاتون اپنی جان کے تحفظ کے لیے تگ و دو کر رہی ہے جو صوبہ پنجاب کے شہر تونسہ سے بھائیوں کی طرف راجن پور گئیں اور پھر وہاں سے ضلع جھنگ میں ایک پیر کے آستانے پر پہنچی ہیں۔

پولیس کے مطابق جرگے نے یہ فیصلہ ایک ماہ پہلے اس وقت دیا تھا جب خاتون حمل سے تھیں اور ان کا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ جرگے نے فیصلہ دیا تھا کہ کے بچہ پیدا ہونے کے بعد اس خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے گا جس کے بعد اس خاتون کو قتل کر دیا جائے۔

پولیس جرگے میں شامل تمام افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے جبکہ خاتون کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

غیرت کے نام پر قتل یا خودکشیاں ؟

’غیرت‘ کے نام قتل، سب سے زیادہ کہاں؟

خاتون کے بھائی عیسی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی بہن کا تحفظ کریں گے اور ان کا موقف ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں وہ اپنی بہن پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل، یا کسی بھی الزام کے تحت خاتون کو کالی یا بد چلن قرار دینے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں اس طرح کے جرگے طلب کر کے متوازی عدالت قائم کردی جاتی ہے جس میں اکثر من مانے فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے لورلائی سے تعلق رکھنے والی جاڑنہ بی بی کی شادی 18 سال پہلے مقام خان نامی شخص سے ہوئی تھی جس سے 6 بیٹے اور3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ مقام خان اور جاڑنہ بی بی کے خاندان سلمان خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ خانہ بدوش ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جاڑنہ بی بی کے دیور کلہ خان نے خاتون پر نور شاہ نامی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگایا تھا۔ جن دنوں یہ الزام عائد کیا گیا ان دنوں یہ قبیلہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں رہائش پزیر تھا۔

جاڑنہ بی بی کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے ان کا شوہر شروع دن سے انھیں مارتا پیٹتا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سال 23 جون کو میرے نور شاہ کے ساتھ کاروکاری کا جھوٹا الزام عائد کیا اوراسی روز نور شاہ کو قتل کر دیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق اس قتل کا الزام خاتون کے شوہر مقام خان کے بھائی کلہ خان پر عائد کیا گیا۔ نور شاہ کے بھائی گلاب خان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کلہ خان موٹر سائیکل پر آیا اور نور شاہ پر فائرنگ کر دی۔

جاڑنہ بی بی نے اپنی درخواست میں مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد اپنی جان کو خظرہ لاحق ہوا جس پر وہ اپنے بھائیوں عیسی خان اور نعمت خان کے پاس ضلع راجن پور کے علاقے داجل چلی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق چند روز پہلے 9 نومبر کو خاتون صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں پیر قاسم بابا کے ہاں چلی گئیں جہاں انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے یہاں آئی ہیں اور وہ خود کو یہاں محفوظ سمجھتی ہیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی جان کو ان کے شوہر سے خطرہ ہے اس لیے وہ اپنی مرضی سے پیر قاسم آغا کے پاس یہاں پہنچی ہیں۔

خاتون کی مختصر ویڈیو میں سامنے آئی ہے جس میں خاتون سے سوال کیے جا رہے ہیں اور خاتون کو سوالات کی سمجھ نہیں آتی تو ان کی مدد کے لیے جواب ان کے ساتھ موجود شخص دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ جرگہ کوئی دو ماہ پہلے یعنی 20 ستمبر کو صوبہ پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں منعقد ہوا اور یہ جرگہ اسی قبیلے یعنی سلمان خیل سے تعلق رکھنے والے نذر محمد نامی شخص کی سربراہی میں ہوا تھا۔

ڈیرہ غازی خان پولیس کے ترجمان حمیداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ یہ غیر قانونی جرگہ چوک قریشی مظفر گڑھ میں منعقد ہوا تھا جس میں خاتون کو کالی قرار دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ خاتون اس وقت حمل سے ہے اور اس کا بچہ پیدا ہونے والا ہے، اس لیے ابھی اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور جب بچہ پیدا ہو جائے گا اس کے بعد خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے گا اور اس خاتون کو قتل کر دیا جائے گا۔

اس جرگے میں کالے خان، مخان، روزی خان، اور آدم خان شریک ہوئے تھے۔ پولیس کو یہ اطلاع بھی موصول ہوئی تھی کہ اس جرگے کے لیے خاتون کے بھائیوں کو بھی بلایا گیا تھا۔

دوسری جانب خاتون کے بھائی عیسی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس جرگے میں نہ شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ اس جرگے کو تسلیم کرتے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افیسر فیصل رانا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خاتون کو تحفط فراہم کیا گیا ہے اور اس غیرقانونی جرگے کا نوٹس لے لیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp