نانا پلازہ کی نوکری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”لیکن میں اس کمپنی کو کیوں چھوڑوں؟“ شاردہ نے اس سے پوچھا۔
”میں اس کمپنی میں خوش ہوں۔ وہ میری ہر بات مانتے ہیں۔“

اس ملاقات کے لئے وہ بصد اصرار راضی ہوئی تھی۔ دوست کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک مرتبہ ناظم سے مل لے۔ شاردہ بہت محنتی عورت تھی۔ جس کمپنی میں بھی کام کرتی، جو بھی ڈرگ اسے دی جاتی، دنوں میں ہی اس کی سیل بڑھ جاتی۔ کچھ مہینوں کے بعد وہ ٹاپ ٹن میں پہنچ جاتی۔ شاردہ اس فیلڈ میں پچھلے دس سال سے تھی۔ اس دوران دو کمپنیوں میں مختلف پراڈکٹس پر کام کر چکی تھی۔ ملاقات اسی دوست کے گھر ہو رہی تھی۔ دراز قد، ہینڈسم ناظم ایک نیشنل کمپنی میں ہیومن ریسورس منیجر تھا۔

وہ پورا ہوم ورک کر کے آیا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔ دس سال کا سارا ڈیٹا اس کے پاس موجود تھا۔ ایسا تیز طرار افسر اسے پہلی بار ملا تھا۔ کام کی تعریف کرتے کرتے جب بھی اسے موقع ملتا بہت ہی محتاط طریقے سے زیر لب تبسم سجائے اس کی پرسنیلٹی پر بھی بات کر جاتا۔ وہ سب سمجھ رہی تھی۔ شاردہ خود متوسط قد کی سانولی سلونی عورت تھی۔ عمر کی تین دہائیاں گزار چکی تھی۔ اسے اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اس کی باتوں میں کھو سی گئی۔

وہ اسے ہر شرط پر اپنی کمپنی میں لانا چاہتا تھا۔ کمپنی ایک نئی ڈرگ لانچ کرنا چاہتی تھی۔ یہ سالٹ پہلے بھی دو کمپنیاں مارکیٹ کر رہی تھیں۔ ان کی سیل متاثر کن نہیں تھی۔ اس کو کامیاب کرنا ایک چیلنج تھا۔ ناظم اسی چیلنج کو اس کے سامنے رکھ کر اس کی تعریفیں کر رہا تھا۔

”یہ ڈرگ کامیابی کے لئے تمہارا سہارا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ تمہارا نام ہمیشہ کے لئے جڑ جائے گا۔“ وہ کہنے لگا۔

دوسری ملاقات میں ناظم نے اسے اپنا گرویدہ بنا لیا۔

”تمہاری کامیابیوں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ پچھلے ماہ ہونے والی سالانہ فارما سوٹیکل کانفرنس میں جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تو حیران رہ گیا۔ میرا خیال تھا کہ خوبصورت جسم کند دماغ کے حامل ہوتے ہیں لیکن تمہیں دیکھ کر میں اپنی اس سوچ پر شرمندہ ہوں۔ ہماری کمپنی کے مالک بھی تمہاری پریزنٹیشن میں موجود تھے۔ تمہاری موٹی اور جھیل جیسی گہری آنکھوں میں تیرتے ذہانت کے بجرے دیکھ کر ہم دونوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ڈرگ کے لئے ہمیں تمہارے جیسی ہوشیار اور محنتی لڑکی کی ضرورت ہے۔“

ناظم اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتا جا رہا تھا۔

”تم جس ڈرگ کو بھی اپنے ہاتھوں میں لیتی ہو وہ کندن بن جاتی ہے۔ تمہارے نرم و نازک ہاتھ اسے جلا بخش دیں گے۔“

اپنی ٹیم کے بہترین فیلڈ ورکرز کے ساتھ اس نے نئی کمپنی جوائن کر لی۔ مارکیٹنگ منیجر نے ناظم کے زور دینے پر ابتدائی ٹریننگ کے لئے بنکاک ہلٹن کا انتخاب کیا۔

وہ ہوٹل کے کمرے میں پہنچی تو کچھ عجیب عجیب سا محسوس ہوا۔ کمرے میں ہر چیز سفید تھی۔ کمرہ بھرا ہونے کے باوجود خالی دکھائی دیتا تھا۔ سینٹڈ کینڈلز کے سلگنے سے دھواں دھار سی خوشبو در ودیوار کے ساتھ چمٹی دکھائی دے رہی تھی۔ ٹیبل پر اسارٹیڈ چاکلیٹس کا گفٹ پیک پڑا تھا۔ کچھ سوچتی واش روم میں داخل ہوئی تو واش بیسن پر ہائی انڈ لگژری برانڈ کی میک اپ کٹ، باڈی سپرے اور پرفیوم پڑا تھا۔ وارڈ روب کھول کر دیکھا تو اس میں ایک سلیولیس نائیٹی لٹکی ہوئی تھی۔

یہ سب ہوٹل کے پیکج میں تو شامل نہیں ہوتا۔ یہ سوچ کر اس کے اندر کی عورت جاگ گئی۔ وہ عمر کی بتیس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ ایک نارمل سی عورت تھی۔ اگر چہ حسین نہیں لیکن دیدہ زیب ضرور تھی۔ اس کا دل بھی دھڑکتا تھا لیکن کبھی بھی اس نے اسے حدود پھلانگنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ آج یہ سب دیکھ کر وہ اپنی دھڑکن بھول گیا۔ جی اتھل پتھل ہونے لگا۔ اوپری ہونٹ تھرتھرانے لگا، رگ گردن پھڑکنے لگی۔ حلقوم پسینے سے شرابور ہو گیا اور کچھ شریر قطرے کلیوج سے ہوتے ہوئے اس کے بلاؤز میں جذب ہو گئے۔

بھاگ کر باتھ روم میں چلی گئی۔ شاور کھول کر کافی دیر اس کے نیچے کھڑی رہی۔ ٹاول سے جسم کو صاف کیا، ہلکی سی لپ سٹک لگائی، زیر بازو باڈی سپرے استعمال کیا، بغیر بازو نائٹی پہنی اور آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھنے لگی۔ پہلے پیار کی حدت سے چمکتا دمکتا جسم بارش سے دھلے آکاش میں چودہویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔ سکائی بلیو سلک کی نائٹی بدن کی چاندنی سے چاک چاک ہو رہی تھی۔ وہ بھاگ کر بستر میں گھس گئی۔ پھر ساری رات ناظم کے بازوؤں میں جھولے جھولتی رہی۔

پہلے دو دن لیکچرز اور ڈسکشن میں گزر گئے۔ شام پانچ بجے ورکشاپ ختم ہوتی۔ پھر آفیشل ڈنر رات دیر گئے تک چلتا۔ اس دوران وہ ہر وقت اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتا۔ تیسرے دن بعد دوپہر ٹریننگ ختم ہو گئی۔ آخری رات ہر فرد کو انڈیپنڈنٹ گھومنے کا موقع دیا گیا۔ شاردہ کمرے میں آئی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد تیار ہو کر لابی کی طرف چل پڑی۔ لفٹ سے باہر آئی۔ ناظم سامنے ہی لابی میں پڑے لیزی بوائے مساجر پر بیٹھا اپنی ٹانگوں اور پاؤں کی چپی کروا رہا تھا۔ وہ بظاہر ہاتھ میں موجود سیل فون میں الجھا ہوا تھا لیکن دزدیدہ نگاہوں سے اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ شاردہ نے ادھر ادھر دیکھا تو ناظم اس کے پاس آ کر بولا ”سب چلے گئے۔“

” اور تم نہیں گئے؟“ شاردہ نے پوچھا۔
”میری ڈیوٹی ادھر ہی ہے۔ تم کہو تو تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔“
”میں اکیلی ہی ہوں اور پہلے کبھی بنکاک نہیں آئی۔ تم چلو گے تو میں بھی گھوم لوں گی۔“
”بس مجھے دس منٹ دے دو، میں ابھی تیار ہو کر آیا۔“

وہ دراز قد حسین مرد تھا۔ واپس آیا تو مختصر بازو کی شرٹ اور ڈینم شارٹس پہنے ہوئے تھا۔ مضبوط پکس اور ابیز شرٹ کو پھاڑ کر باہر نکلنے کو مچل رہے تھے۔ کھلے بٹنوں سے جھانکتے سینے کے گھنگھریالے الجھے بال دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکنیں اور بڑھ گئیں۔ اس نے نظر بھر کر ناظم کو دیکھنے کی ناکام کوشش کی اور اس کے ساتھ چل پڑی۔

” کہاں جانا چاہیں گی؟“
”جہاں تم لے چلو۔ مجھے تو بنکاک کے بارے میں بہت زیادہ پتا نہیں۔“
”اگر سب مجھ پر ہی چھوڑ دیا ہے تو چلو تمہیں حسن و عشق کی وادی میں لئے چلتے ہیں۔“
”وہ کہاں؟“
”حسن بن صباح کی جنت! حوریں اور نشہ۔“

وہ ٹرین پر سوار ہو کر سکھمفٹ روڈ کی طرف چل پڑے۔ نانا اسٹیشن سے باہر آئے۔ سوئی فور میں جوانیاں مست مست کلکاریاں بھر رہی تھیں۔ شور ہی شور تھا۔ کہیں رقص تھا کہیں جام چھلکائے جا رہے تھے۔ تھرکتی مچلتی لڑکیاں باہوں کی جنت کے در وا کیے سراپا دعوت بنی پکار رہی تھیں۔ ارادے گدگدا رہے تھے۔ فحش اشارے اور متبذل ڈانس دل و نگاہ کو برانگیختہ کر رہے تھے۔ شاردہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ ناظم اس کا خوف محسوس کرتے ہوئے بولا ”ڈرنے والی کوئی بات نہیں یہاں دیکھو عورتیں بچے سب گھوم رہے ہیں۔“ اس نے شرمندہ سی ہو کر ہاتھ چھوڑ دیا۔

”نانا پلازہ چلتے ہیں۔ آؤ! دنیا کی سب سے بڑی اڈلٹ پلے گراؤنڈ میں ہم بھی دلوں کو بہلا لیں۔“ ناظم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تو شاردہ کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک جھنجھناہٹ سی محسوس ہوئی اور اس کی طرف کھنچی چلی گئی۔

گو گو بارز، ہجوم طرب ہر طرف، ہر جگہ۔ ہر رنگ و نسل کا حسین جلوہ افروز تھا۔ پرتو ساغر و صہبا نے چہار سو ایک حشر برپا کیا ہوا تھا۔ تین منزلہ عمارت کے کونے کونے میں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں دلوں کو گرمائی نہیں پہنچتی ہو۔ ایک کارنر میں اونچی لمبی لڑکیاں نظر آئیں تو وہ اس طرف چل پڑی۔ ناظم بولا ”اس طرف نہیں جانا۔“

” کیوں؟“ اس نے حیرانی سے پوچھا۔

اس طرف رش کچھ زیادہ ہی تھا۔ وہ ایک بار میں داخل ہو گئی۔ عجب بھنبھناہٹ تھی۔ ایک چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی بانکی سجیلی لڑکی اس کی طرف بھاگی آئی۔

شہادت کی انگلی دائیں بائیں لہراتی ہوئی بولی ”ناٹ فار یو۔“
”وائے؟“
”لیڈی بوائز۔“
”اوہ!“ وہ کچھ سمجھتے، نہ سمجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔
Okay come on! But you might not prefer it.
(ٹھیک ہے آپ آ سکتے ہیں! لیکن شاید یہ سب آپ کی ترجیح نہ ہو۔ ) لیڈی بوائے اسے رستہ دیتی ہوئی بولی۔
اتنی دیر میں ناظم نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ واپس چل پڑے۔
وہ اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا۔ بہت عجیب نام تھا ’کیبجز اینڈ کنڈومز ریسٹورنٹ‘ ۔
”آؤ، ہم بھی کچھ کھا پی لیں۔“
بولی ”کھانے کی تو خواہش نہیں ہے۔ میں جوس ہی لوں گی۔ تم اپنے لئے کچھ اور بھی منگوا سکتے ہو۔“

”میں آفیشل ٹور پر نہیں لیتا۔ میں بھی جوس ہی لوں گا۔“ وہ حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ ابھی کل رات ہی وہ ہوٹل کے بار میں باس کے ساتھ بیٹھا وہسکی پی رہا تھا۔

کاؤنٹر پر بل ادا کیا تو ایک لڑکی شاردہ کے ہاتھ میں تحفہ پکڑاتے ہوئے بولی
Thanks for coming. Our food is guaranteed not to cause pregnancy but be conscious & be safe.

(تشریف آوری کا شکریہ۔ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ ہمارا کھانا آپ کو حاملہ نہیں کرے گا، لیکن محتاط رہیے اور محفوظ رہیے۔ )

شاردہ نے شکریہ کہتے ہوئے تحفہ دیکھا تو وہ کنڈومز تھے۔

اگلے دن واپسی تھی۔ ناشتہ کے ساتھ ہی باس کا خطاب تھا۔ باس نے اعلان کیا کہ اگر ایک سال میں یہ ڈرگ نمبر ون پوزیشن پر پہنچ گئی تو آپ سب کو پھر بنکاک کا دورہ کروایا جائے گا۔

محنتی وہ بہت تھی، نئی کمپنی میں اپنا نام بھی پیدا کرنا چاہتی تھی اور ساتھ ہی محبت کی آگ نے اس کے اندر جوالا مکھی دہکا دی تھی۔ فیلڈ فورس تیار کرنے میں اس نے دن رات ایک کر دیا۔ وہ ڈاکٹرز کے ساتھ انڈر ہینڈ ڈیلنگ کی قائل نہیں تھی۔ صرف فٹ ورک پر اعتماد کرتی تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد اسے پتا چلا کہ بڑے بڑے کنسلٹنٹس کو گاڑیوں کی بھی آفر کی گئی ہے۔ ناظم کے ساتھ اس نے ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا ”سب چلتا ہے اور یہ تمہارے لئے بھی مفید ہے۔“

وہ حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی تو ناظم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

جوں جوں وہ کامیابی کے قریب جا رہی تھی اسے اس طرح کی مزید بھی خبریں ملیں۔ ناظم سے اس نے پھر شکایت کی تو اس یہ کہہ کر اپنا دامن بچا لیا کہ یہ میرا شعبہ نہیں ہے۔ میں اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میری رائے ہے کہ تم بھی خاموشی سے اپنا کام کرو۔ اس کی نظروں میں سرد مہری اور دھمکی صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔

اس کے بعد اس کے ساتھ ناظم کا رویہ تبدیل ہوتا چلا گیا۔
سال پورا ہونے سے پہلے ہی وہ پہلی پوزیشن حاصل کر چکی تھی۔

دوسرا اختلاف اس وقت ہوا جب ایک اور ڈرگ کی لانچنگ تھی۔ اس سالٹ کا مارکیٹ میں بہت بڑا شیئر تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اس کو مارکیٹ کرے۔ لیکن ایک اور نئی لڑکی ڈھونڈ لی گئی۔

نئے سٹاف کی ٹریننگ اور اچیومنٹ ایوارڈ کا فنکشن باس کے وعدہ کے مطابق پھر بنکاک میں ہی رکھا گیا۔ ناظم نئی پراڈکٹ منیجر کی خدمت میں پیش پیش تھا۔ تیسری رات شاردہ نیچے آئی تو حسب روایت لابی میں ہی تھا۔ سیدھی اس کے پاس جا کر کہنے لگی ”آؤ! آج میں تمہیں نانا پلازہ لے چلوں۔“

”تھینک یو۔ لیکن میں مصروف ہوں۔“
”ہاں میں جانتی ہوں۔ تمہاری ڈیوٹی ادھر ہی تھی۔“ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی
”اسے دوسری لڑکیوں نے تمہارے بارے میں سب بتا دیا ہے۔ لیکن وہ تمہیں جل دے کر ان کے ساتھ چلی گئی ہے۔“

”نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔“ وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بول رہا تھا۔ ”میرے دل میں تمہاری خاص جگہ ہے۔“

”وہ مجھے پتا ہے۔ میں تو کب کی رزائن کر کے چلی گئی ہوتی۔ صرف اسی وجہ سے ادھر ہوں۔
آؤ چلیں۔ ”

وہ سیدھے نانا پلازہ پہنچے اور پھر تیسرے فلور میں لیڈی بوائز کے پاس۔ آج کسی نے اسے نہیں روکا۔ ڈانس جاری تھا۔ ٹیبل پر بیٹھتے ہی شاردہ بولی ”ون بوٹل آف وائن ود ٹو گلاسز۔“

”وائن اور دو گلاس! تم بھی پیو گی؟“ ناظم کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا۔

”ہاں۔ تم تو لو گے ہی کیونکہ آج تم آفیشل ٹور پر نہیں ہو۔ ویسے بھی ہم دونوں کو دھوکا ہوا ہے، دونوں ہی دکھی ہیں۔“

لیڈی بوائے بوتل اور گلاس رکھ کر چلی گئی تو شاردہ نے نمبر والی شرٹ پہنی ہوئی ایک لیڈی بوائے کو اپنے پاس بلایا۔ وہ ایک گلاس پکڑ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔ (نمبر والی شرٹ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ گاہک بار کا حصہ جسے بار فائن کہا جاتا ہے، دے کر اسے اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے۔ )

ایک سپ لیتے ہوئے شاردہ لیڈی بوائے کو پوچھنے لگی
”ول یو گو؟“
”ود ہوم؟“ اس نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ شاردہ نے فوراً جواب دیا ”مے بی، بوتھ۔“

”اوم۔“ اس نے وائن گلاس میں ڈالی۔ ناظم کو ایک نظر دیکھا۔ ترچھی چتون ناظم کے سینے میں خنجر کی طرح چبھ گئی۔ پھر شاردہ کی طرف دیکھتے ہوئے گلاس ہونٹوں سے لگا لیا۔ لمبی سی زبان باٹم سے ٹاپ تک پھیرتے ہوئے بولی ”یاہ، میم! یو بوتھ ول انجوائے۔“
شاردہ نے مسکراتے ہوئے ناظم کی طرف دیکھا۔ اس نے شرمندگی اور پریشانی سے پورا گلاس حلق میں انڈیل لیا۔
ہاؤ مچ یو ول چارج۔
ون تھاؤزنڈ باتھ فار ون آور۔ ( ایک گھنٹے کا ایک ہزار باتھ۔ )

”اوکے، لٹس گو۔“ شاردہ نے کاؤنٹر پر بار فائن کی ادائیگی کی اور چل پڑی۔ چلتے ہوئے ناظم کو بار میں دھکا دے کر بولی۔ ”تم ادھر ہی ڈیوٹی کر لو۔ اس نوکری میں زیادہ کما لو گے۔ کام تو یہ بھی وہی ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •