انقلاب اسلامی کے بارے میں تھیڈا سکافل کا نظریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب ایک اجتماعی روئیداد ہے اور کسی بھی انقلاب کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ اس کو قوانین علوم اجتماعی کی روشنی میں پڑھا اور پڑھایا جائے۔ علمی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی اہم ترین سیاسی و سماجی تبدیلیاں ہمارے ہاں آ کر اپنی اصلی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے کسی اجتماعی روئیداد کو بہت زیادہ توجہ مل بھی جائے تو اس کا دائرہ چند واقعات تک ہی محدود رہتا ہے جو عموماً اخباروں اور رسالوں کی زینت بن جاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک عظیم اجتماعی روئیداد انیس سو اناسی میں ہمارے پڑوسی ملک ایران میں وقوع پذیر ہوئی، اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اس سے پہلے کی سیاسی و اجتماعی روئیدادوں کے ساتھ ہوتا آیا تھا، یعنی اس عظیم انقلاب کو بھی چند صحافتی طرز کے تجزیوں یا اخباری معلومات کی حدتک ہی عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ البتہ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں سماجی علوم کے ماہرین نے اس انقلاب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مختلف علمی بنیادوں پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

مثلاً کسی نے اس انقلاب کی وجہ اس کا ثقافتی پہلو قرار دیا، کسی نے سماجی و اجتماعی بنیادوں کو انقلاب کی اصل وجہ سمجھا، کسی نے اقتصادی پہلو سے انقلاب اسلامی کو پیش کیا۔ بعض ماہرین علوم اجتماعی نے اس انقلاب کو جبر تاریخ کا نتیجہ قرار دیا اور بعض نے اس کو انسانی نفسیات سے جوڑا۔ چند ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مندرجہ بالا تمام پہلوؤں سے انقلاب اسلامی کا علمی و تحقیقی مطالعہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ہم قارئین کی خدمت میں انقلاب اسلامی کے حقیقی اسباب و عوامل کو بیان کرنے سے پہلے، ایک تمہید کے طور پر چند اہم مطالعہ جات و نظریات جو انقلاب اسلامی کے متعلق دنیا بھر سامنے آئے، پیش کریں گے۔

معروف امریکی ماہر سماجیات تھیڈا سکافل (Theda Skocpol) طویل عرصے تک ہارورڈ یونیورسٹی میں شعبہ علوم سماجیات میں بطور پروفیسر اور ڈین خدمات انجام دے چکی ہیں۔ 1979 میں چھپنے والی ان کی ایک کتاب سٹیٹس اینڈ سوشل ریولوشن (States and Social Revolutions) ان کی وجہ شہرت بنی جس میں انہوں نے فرانس، روس اور چین میں رونما ہونے والے انقلابات کا علمی و تحلیلی موازنہ کیا۔ یہ محقق ذاتی طور پر کارل مارکس کے نظریات سے متاثر ہے۔

کارل مارکس کے نزدیک سماج کی بنیاد اقتصاد ہے، اقتصاد ہی سے انسانی طبقات وجود میں آتے ہیں، یہ اقتصاد ہی ہے جو جاگیر دار طبقے کو حکومتیں بنانے پر مجبور کرتا ہے، حتی کہ مذہب، ثقافت، سیاست، دین سب کی بنیاد ایک ہے اور و ہ ہے اقتصاد۔ کارل مارکس کہتا ہے کہ سماج میں رونما ہوانے والی تبدیلیوں کی وجہ بھی اقتصاد ہی ہے، ایک مدت تک اقتصادی اعتبار سے محروم طبقہ، سرمایہ دار طبقے کے ظلم میں پستا رہتا ہے۔ احساس مالکیت اور احساس محرومی کا یہ فرق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی کے اسباب و عوامل پیدا کرتا رہتا ہے اور ایک دن محروم طبقہ سرمایہ داروں سے اختیارات چھین کر خود برسر اقتدار آ جاتا ہے۔

مارکسزم کی نظر میں سماجی تبدیلی کا یہ قانون در حقیقت انسان کے اندر مالکیت کا تصور ہونے کی وجہ سے ہے، لہذا جب تک روئے زمین پر احساس مالکیت موجود رہے گا تب تک سماجی تبدیلیاں خود کار طریقے سے وقوع پذیر ہوتی رہیں گی۔ مختصراً یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر انقلابات آتے رہے ہیں گے جس کے اندر انقلابی افراد کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ طبیعی طور پر آنے والے انقلاب کی زد چند افراد آ جاتے ہیں جو بعد میں انقلابی کہلانے لگتے ہیں۔

تھیڈا سکافل کے نزدیک انقلاب کی بنیاد صرف اقتصاد ہی نہیں بلکہ اقتصادی اور اجتماعی، دونوں عناصر انقلاب کی وجہ بنتے ہیں لیکن اس بات پر تھیڈا سکافل اور کارل مارکس دونوں متفق ہیں کہ انقلابات لائے نہیں جاتے بلکہ خود بخود آ جاتے ہیں۔ رہبری، آئیڈیالوجی، اور ارادے کا انقلاب لانے میں کوئی کردار نہیں بلکہ حالات اپنے طبیعی اسباب و عوامل کے تحت انقلاب برپا کر دیتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے زلزلہ بغیر انسانی اختیار کے اپنے طبیعی اسباب و عوامل کی وجہ سے آتا ہے۔

1979 میں انقلاب اسلامی دنیا کے منظر نامے پر سامنے آتا ہے، یہ اسلامی انقلاب اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب تقریباً تمام دنیا ماڈرنزم کے زیر اثر جا چکی ہے اور اب دین ومذہب کو ایک فرسودہ تصور سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں ایک مکمل اور مستقل نظام حکومت کا متعارف ہونا جس کی بنیاد دین ہو، جس کی برپائی میں سو فیصد دینی آیئڈیالوجی کار فرما ہو اور جس کی کامیابی میں انسانی ارادہ اور منصوبہ بندی شامل ہو۔

اس عظیم انقلاب نے کروڑوں افراد کی سماجی رائے بنانے والی، معروف ترین ماہر علوم سماجیات تھیڈا سکافل کو بھی اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ 1982 میں تھیڈا سکافل نے ایک مقالہ لکھا جس میں انقلاب اسلامی ایران سے متعلق اپنا تجزیہ و تحلیل پیش کیا۔ شہنشاہی حکومت کی غلطیوں کو بیان کیا کہ کس طرح شاہ ایران نے تعمیر وطن کے نام پر تعلیمی، اقتصادی، دینی و مذہبی اقدار اور اختیارات سے معاشرے کو محروم کر دیا۔

لیکن اس محرومی نے خود بخود عوام کے اندرحکومت کے خلاف بغاوت کو جنم نہیں دیا بلکہ تھیڈا سکافل کے مطابق معاشرے میں موجود شیعی اسلام، عزاداری امام حسین علیہ السلام اور مساجد کا نیٹ ورک، انقلاب اسلامی کے وقوع پذیر ہونے کے اہم ترین عناصر ہیں۔ تھیڈا سکافل نے اپنے نظریات ہی کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ واحد انقلاب جس کو ارادی و اختیاری کہا جا سکتا ہے وہ انقلاب اسلامی ایران ہے جس کے اندر ایک مکمل آیئڈیالوجی، قیادت اور منظم حکمت عملی کار فرما تھی، یہ انقلاب جبری عوامل کے تحت نہیں آیا بلکہ ارادے و اختیار سے لایا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •