بھارت کے خلاف پاکستان کا مقدمہ اور ملکی سیاسی حالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت تین پہلوؤں سے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ وہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنا چاہتا اور پاکستان کو سیاسی و معاشی لحاظ سے غیر مستحکم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ نے ایسی دستاویزات بھی پیش کیں جن میں ان کے بقول اس بات کے شواہد و ثبوت موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح بھارتی ایجنسیاں پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ معاملہ اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ اب خاموش رہنا ممکن نہیں اور پاکستانی قوم اور دنیا کو بھارتی سازشوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بتانا ضروری ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے اس موقع پر ان شواہد کی تفصیلات بتائیں جن کا ثبوت اس موقع پر جاری کردہ دستاویزات میں پیش کیا گیا ہے۔ ان میں افغانستان میں بھارتی سفارت خانہ میں کام کرنے والے اہلکاروں کے خطوط اور فون کالز کے علاوہ الطاف حسین کے ساتھی اجمل پہاڑی کے اعترافی بیان کا ذکر ہے۔

بھارتی دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کا مقدمہ تین نکات پر مشتمل ہے۔ ایک : بھارت بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی و عسکری مدد کرتا ہے تاکہ وہ پاکستان میں تشدد کا سبب بنیں۔ اس مقصد کے لئے افغانستان میں بھارتی سفارت خانہ اور قونصل خانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ دوئم: بھارت پاکستان سے بھاگے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں موجود عناصر کو دہشت گرد کارروائیوں کے لئے متحرک و آمادہ کرتا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ جو عناصر پاکستان نے مار بھگائے تھے، بھارت پاکستان دشمنی میں انہیں اکٹھا کر کے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ سوئم: بھارت متحدہ قومی موومنٹ کے بانی اور سابق لیڈر الطاف حسین کے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے کام کرتا ہے۔

ان تین نکات کے علاوہ آج کی پریس کانفرنس میں یہ نیا نکتہ پیش کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں داعش کے بھارت میں موجود عناصر کو پاکستان بھجوا رہی ہیں تاکہ پاکستان میں داعش کو منظم کیا جاسکے۔ اس طرح پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کروانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی اور میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی ایجنسیاں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ پر لانے کے لئے کام کرتی رہی تھیں اور اس گروپ کے حالیہ اجلاس کے دوران بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔

حکومت اور فوج کے نمائندوں کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات اور ان کی تفصیلات جان کر دونوں ملکوں کے درمیان گہری ہوتی دشمنی کا اندازہ تو کیا جاسکتا ہے اور یہ تاثر بھی قوی ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر سرگرم ہو کر نریندر مودی کی حکومت کو تنہا کرنا چاہتا ہے۔ اس موقف کو حال ہی میں امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امید وار جو بائیڈن کی کامیابی کی روشنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ذاتی اور گہرے تعلقات استوار کیے تھے اور موجودہ امریکی حکومت کی پالیسی میں انسانی حقوق اور مسلمہ عالمی اصولوں سے روگردانی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ عام طور سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت ٹرمپ کے مقابلے میں بنی نوع انسان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کردار ادا کرے گی اور اس کی پالیسی زیادہ انسان دوست ہوگی۔

اس تناظر میں شاہ محمود قریشی کا یہ اندازہ کسی حد تک حقیقت پسندانہ ہے کہ جنوری کے آخر میں جو بائیڈن کے صدارت سنبھالنے سے پہلے اگر بھارت کے خلاف مقدمہ مضبوط کر لیا جائے اور کچھ عالمی اداروں کو بھارتی حکومت کی پاکستان کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کے بارے میں اپنا ہمنوا بنا لیا جائے تو نئی امریکی انتظامیہ کو شروع میں ہی اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ کی سرپرستی اور آشیرواد سے بھارت پورے جنوبی ایشیائی خطے کے امن و امان کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس کے خلاف کسی سطح پر کوئی امریکی اقدام خطے اور دنیا کے امن کے لئے اہم ہوگا۔ اس طرح پاکستان امید کر سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ ایک انتہاپسند بھارتی حکومت کے خلاف پاکستان کی بات غور سے سنے گا۔

تاہم اس حوالے سے دو باتوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایک یہ کہ بھارت سال ہا سال سے اسی قسم کا مقدمہ پاکستان کے خلاف تیار کرتا رہا ہے اور عالمی و امریکی اداروں میں رسائی اور مضبوط لابی کے باوجود وہ پاکستان کو  ’دہشت گرد ریاست‘  قرار دلوانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ حالانکہ پاکستان ایک ایسے وقت میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی سرپرستی کر رہا تھا جب امریکہ ایک کے سر کی قیمت مقرر کرچکا تھا اور اسے اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہوا تھا۔ اس دوران پاکستان، چین کی مدد سے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کرواتا رہا تھا۔ سوچنا چاہیے کہ بھارت جو کام اپنے حجم، سفارتی و اقتصادی حیثیت و ضرورت اور مضبوط عالمی نیٹ ورک کے باوجود پاکستان کے خلاف کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکا، وہی مقصد پاکستان کیوں کر چند دستاویزات اور دعوؤں کی بنیاد پر بھارت کے خلاف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

اس کے ساتھ ہی یہ جاننا بھی اہم ہے کہ بین الملکی تعلقات میں ملکوں کے مفادات اور تعلقات اہم ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے اس بات پر غور نہیں کرتا کہ وہ ملک اپنے ہمسایہ کے ساتھ کس قسم کا ناجائز سلوک روا رکھتا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکی مفادات کو صرف ٹرمپ مودی تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما نے درحقیقت پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو اسٹریٹیجک پارٹنر بنانے کی حکمت عملی کو مستحکم کیا تھا جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے آگے بڑھایا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ جو بھی کہے لیکن یہ پہلو کسی بھی امریکی حکومت کی بنیادی ترجیح نہیں رہا بلکہ اس نعرے کو سیاسی مقاصد کے لئے ضرور استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بہتر مثال سعودی عرب اور ایران کے بارے امریکہ کی متضاد پالیسی ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یکساں طور سے شدید ہیں۔ امریکہ کو چین کے خلاف عالمی تجارت اور بحر جنوبی چین میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لئے بھارت کی ضرورت ہے۔ اس لئے واشنگٹن میں کوئی بھی حکومت ہو، نئی دہلی کے بارے میں اس کا رویہ نرم اور دوستانہ ہی رہے گا۔

پاکستان سی پیک کے ذریعے قومی معاشی احیا کا خواب دیکھ رہا ہے۔ کم از کم یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پاکستان کی سب سیاسی پارٹیاں اور عسکری قیادت متفق ہے۔ اس کے برعکس امریکہ سی پیک اور چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کو ایک طرف اپنے تجارتی مفادات کے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے تو دوسری طرف اسے لگتا ہے کہ اس منصوبہ کی کامیابی سے چین اس سے عالمی قیادت چھین لے گا۔ یہ ایک طویل المدت سفارتی اور معاشی لڑائی ہے جس میں علاقائی ممالک اپنی ضرورتوں کے مطابق حصہ دار بنتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اس حوالے سے ترجیحات کو واضح کرنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان کسی قیمت پر سی پیک سے دستبردار نہیں ہو سکتا جبکہ بھارت سی پیک کے خلاف امریکہ کا غیر مشروط ہمنوا ہے۔ پاکستان کو عالمی پلیٹ فارم پر بھارت کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ مضبوط کرنے کے لئے ان تمام عوامل کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔

وزارت خارجہ اور آئی ایس پی آر نے آج کی پریس کانفرنس میں جو مقدمہ پیش کیا ہے، وہ بھی نیا نہیں ہے۔ اس میں اختیار کیا گیا موقف پرانا ہے اور جن دستاویزی شواہد کو بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ بھی نئے نہیں ہیں۔ حیرت انگیز طور پر الطاف حسین نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کو مجرم ثابت کرتے وقت یہ غور نہیں کیا گیا کہ طویل عرصہ تک الطاف حسین کی وفاداری کا دم بھرنے والے ایم کیو ایم کے لیڈر اس وقت وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان یا بلوچ تنظیموں کے بارے میں دلائل بھی پرانے ہیں۔ پاکستان ان معاملات میں بھارت پر الزام تراشی سے پہلے اپنی پالیسیاں بہتر بنا کر ان عناصر کی ہلاکت خیزی سے نمٹ سکتا ہے۔ مثلاً تحریک طالبان پاکستان کے مٹھی بھر دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کے لئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کو سیاسی دھارے میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ لیکن بوجوہ پاکستانی حکومت اور ایجنسیوں نے نوجوان پشتونوں کی اس تحریک کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار کیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں عوام کی جائز شکایات کا ازالہ کر کے قوم پرست گروہوں کے نعروں کا زور توڑنا مشکل نہیں ہے۔ لیکن بلوچستان کو اسلام آباد کی سیاست کے لئے مہرے کے طور استعمال کرنے کے علاوہ اس خطے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

بھارت کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ پیش کرنے کے لئے وزیر خارجہ اور آئی ایس پی آر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے داخلی سیاسی مضمرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پریس کانفرنس گلگت بلتستان میں انتخابات سے ایک روز پہلے منعقد کی گئی ہے جہاں تحریک انصاف کی پوری کوشش ہے کہ اس بار مسلم لیگ (ن) کی بجائے اس کی حکومت قائم ہو جائے۔ روایتی طور پر یہ خواہش جائز و درست کہی جا سکتی ہے کیوں کہ اس خطے میں وہی پارٹی کامیاب ہوتی ہے جو اسلام آباد میں حکومت کر رہی ہو۔ تاہم اس بار تحریک انصاف کے خلاف چلنے والی اپوزیشن کی مہم اور فوج پر سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات کی روشنی میں گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی کامیابی، حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے لئے کسی بڑی مشکل کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔

اس وقت فوج کو حکومت کی سیاسی ضرورت و خواہش سے فاصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم آئی ایس پی آر کی وزیر خارجہ کے ساتھ مل کر میڈیا گفتگو سے عسکری قیادت کا جھکاؤ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس کو کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور اس پر ہونے والی تحقیقات کے علاوہ قومی اسمبلی میں ایاز صادق کی تقریر پر میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا۔ فوج کو قومی سیاسی تاریخ کے اس نازک موڑ پر زیادہ محتاط اور ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن کے تصادم میں فوج کو فریق کی بجائے غیر جانبدار اور خود مختار ادارے کے طور پر دکھائی دینا چاہیے۔ تاکہ سیاسی بحران اگر شدت اختیار کرے تو اعتماد کا کوئی تعلق تو موجود ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1677 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali