جدید سائنس اور اردو شاعری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس ایک منطق طریقہ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے سائنس میں تجربے یا مشاہدے سے حاصل شدہ معلومات کو عقلی اور منطقی دلائل سے پرکھا اور جمع کیا جاتا ہے۔ سائنسی علم کی تردید یا تصدیق کے لیے تجربہ ہی واحد کسوٹی ہے۔ سائنس کا علم دنیا کے ٹھوس حقائق کے انکشافات کے علم کے ساتھ کائنات اور انسانی بقا ء کی اصلیت کوجاننے کا علم ہے۔ شاعری انسانی خیالات وجذبات، اقداروروایات، مدح و ذم، حالات و واقعات وغیرہ کو غیر معمولی انداز میں موزوں کر کے پیش کرنا شاعری کہلاتا ہے۔ اردوشاعری (نظم اور غزل ) کے ذریعے بھی کائنات کے اسرارورموز کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ یعنی اگر کوئی شاعر سائنسی فکر رکھتا ہے تو وہ منطقی ذہن کے ساتھ استدلال اور ادراک کی نظر سے دنیا کو دیکھنے کا عادی ہوتا ہے اور زمان و مکان کو اپنی شاعری میں پرونے کی کوشش کرتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے سائنس اور ادب کا دیرینہ تعلق رہا ہے۔ قدیم دور سے لے کر ادب یا شاعری کی ابتداء اور اس کے بام عروج پر فائز ہونے تک ہمیں بے شمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جو اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ قدیم دور کا انسان مختلف صلاحیتوں کا حامل تھا، وہ بیک وقت فلسفہ، مابعدالطبعیات، مذہب، تاریخ، تہذیب، تقویم، آرٹ، لسانیات، شاعری، ارضیات، جغرافیہ، معدنیات، علم روشنی، کیمیا، علم ہیت، اور ریاضی سے واقفیت رکھتا تھا۔

اس کی شخصیت میں تحقیق و تجسس کے عناصر بھی ہوا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ارسطو کا نام پیش کیا جاتا ہے اس کی ذات میں فلسفہ، علم و حکمت اور ادب سے دلچسپی سب کچھ تھا۔ اردو کا دور آیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کے مشہور و معروف شاعر حکیم مومن خاں مومن ایک بہترین حکیم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز شاعر اور ادیب بھی تھے۔ جدید سائنس کے حوالے سے اردو شاعری کا مطالعہ ایک حیرت انگیز اور دلچسپ موضوع ہے۔ سائنس انسان کی زندگی کا مطالعہ کرتی ہے اس طرح شاعری بھی انسانی زندگی کی ترجمانی کرتی ہے۔

اگر ہم دیکھیں تو شاعر اور طبیب دیکھنے میں ہمیں بہت مختلف نظر آئیں گے مگر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک مشترکہ احساس اور قدریں دونوں میں پائی جاتی ہیں جس طرح ایک ماہر طبیب غور وفکراور تجزیہ سے کسی شے کو دریافت کرتا ہے اس طرح ایک شاعر بھی اپنے تجربات اور تجزئیات کا اظہار اپنے اشعار میں کرتا ہے۔

سائنس ستاروں سے ان کی خوبصورتی چھین کر ان کو گیس کے گولے قرار دیتی ہے۔ شاعر اشعار لکھتے ہوئے انہی ستاروں میں روشنی اور خوبصورتی پیدا کر کے راحت کا سماں مہیا کرتے ہیں۔ اردو کے تمام بڑے شعرا کے ہاں سائنسی اصطلاحات پائی جاتی ہیں۔ اردو غزل کے نامور شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کے ہاں سائنسی شعور کی جلوہ گری بہت زیادہ تعداد میں ملتی ہے ڈاکٹر محمد حامد نے تو مرزا غالب کے سائنسی شعور پر ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔

اردوکے تمام نامور شعراء کے ہاں ایک بڑی تعداد میں سائنسی شعور پایا جاتا ہے مثلا، علامہ محمد اقبال، پروین شاکر، احمد فراز، ن، م، راشد، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، امجد اسلام امجد، وغیرہ کی نظم اور غزل میں سائنس فکشن کے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید دور کے اردو شعراء کے ہاں بھی جدید سائنسی رجحانات پائے جاتے ہیں۔

اردو نظم اور غزل کے ارتقا ء کی تاریخ اس بات کی گواہی پیش کرتی ہے کہ اردو شاعری نے زمانہ کی تیز رفتاری میں ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ اس نے ہر دور کی فکر ی، ذہنی، اور جذباتی تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ ہر زمانے کے فلسفیانہ حقائق اردو شاعری میں بے نقاب نظر آتے ہیں یہ ہر دور کی زندگی، زندگی کے مسائل اور بنیادی خیالات سے ہم آہنگ رہی ہے۔ سائنس کے ارتقاء نے لوگوں کے اذہان میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو سائنسی دور ہے اور اس سائنسی دور میں شاعری کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے نزدیک شاعری کا تعلق جذبات سے ہے اور جذبات کا عقل و شعور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا حالانکہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ شاعری جذبات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ شاعری ایک آرٹ ہے اور آرٹ انسان کے لیے اپنی ہستی کو محسوس کرنے اور اسے پہچاننے کا ذریعہ ہے۔

شاعری کے مستقبل کا فیصلہ سائنس کے ارتقا ء پر منحصر ہے۔ یعنی سائنس کی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو ایک نئے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیاہے وہاں شاعری کے لیے بھی نئے نئے موضوعات مہیا کیے گئے ہیں۔ سائنس کی ترقی سے غزل اور نظم میں زیادہ با قاعدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے جوں جوں شاعری کے موضوعات کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اس کے ساتھ انداز بیان اور طرز ادا میں بھی جدتیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ نئی تشبیہات، نئے استعارے، نئی علامات، اور اشارے اردو شاعری کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔

آج اگر علم کی ترقی سے الفاظ کے معنی محدود اور بہت سی باتوں کی واقفیت انسان کے خیال سے محو ہو گئی ہے۔ مگر زبان پہلے کی نسبت زیادہ لچکدار اور اکثر مقاصد کے بیان کرنے کے زیادہ لائق بن گئی ہے۔ بہت سی تشبیہیں بلاشبہ اس دور میں بے کار ہو گئی ہیں مگر ذہن نئی تشبیہیں اختراع کرنے سے عاجز نہیں ہوا اور حقیقت تو یہ ہے کہ سائنس کی بدولت شاعروں کے لیے نئی نئی تشبیہیں اور تمثیلات کا لا زوال ذخیرہ جو پہلے موجود نہ تھا مہیا ہو گیا ہے۔

لہذا جب تک اس دنیا میں حسن موجود ہے، جب تک عشق انسان کے دل میں حکمران ہے، جب تک قوموں میں حب الوطنی کا جذبہ موجود ہے، جب تک بنی نوع انسان میں ہمدردی کا جذبہ موجزن ہے اور جب تک حادثات و واقعات انسانی زندگی میں خوشی اور غم، نفرت اور دیگر جذبات پیدا کرتے رہیں گے شاعری کا ذخیرہ ختم نہیں ہو سکتا۔ سائنس کی ترقی کے دور میں بھی شاعری اور شاعروں کی اہمیت کمزور نہیں ہو سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •