علامہ خادم رضوی کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر 2017 کے دھرنے سے شہرت پانے والی تحریک لبیک نے آج سارا دن راول پنڈی میں پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلی۔ آنسو گیس کے علاوہ دونوں طرف سے جی بھر کے پتھراؤ کیا گیا اور پولیس نے تحریک لبیک کے دو سو سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ موصول ہونے والی خبروں کے مطابق رات گئے تک فیض آباد کے گرد و نواح میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔

یہ تصادم فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ’پرامن‘ احتجاج کے لئے نکالی جانے والی ریلی کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے۔ تحریک لبیک نے اپنے حامیوں کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں جمع ہونے کی ہدایت کی تھی۔ یہاں سے مظاہرین نے جلوس کی صورت میں فیض آباد جانا تھا جہاں اسے ختم ہو جانا تھا۔ تاہم مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا آغاز سر شام لیاقت باغ کے گرد و نواح میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے توڑ پھوڑ شروع کی اور پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ تاہم تحریک لبیک کے ترجمان پولیس پر پہل کرنے اور تشدد کاالزام عائد کرتے ہیں۔ اس تصادم کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ مظاہرین کو کسی قیمت پر اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اسلام آباد کی ’حفاظت‘ کے لئے پولیس نے 300 کنٹینر جمع کئے تھے جن سے مختلف مقامات پر راستے روکے گئے تھے تاکہ مظاہرین دارالحکومت میں داخل نہ ہوں۔

اس سال جنوری میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی سمیت 86 افراد کو مختلف المدت سزائیں دی تھیں۔ انہیں یہ سزائیں اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ کی طرف سے ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے مقدمہ میں بری کرنے کے فیصلہ کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرنے پر دی گئی تھیں۔ تحریک لبیک نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ آسیہ بی بی کو پھانسی دی جائے۔ تاہم آسیہ بی بی کو چند ماہ تک پاکستان میں کسی خفیہ مقام پر رکھنے کے بعد حکام نے مئی 2019 میں کینیڈا جانے کی اجازت دے دی تھی جہاں ان کے خاندان کو پہلے ہی سیاسی پناہ دی جا چکی تھی۔

نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے سے شہرت پانے والی اس تحریک نے خود کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کروایا اور جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات میں اسے حیرت انگیز طور پر 22 لاکھ کے لگ بھگ ووٹ ملے تھے۔ یہ پارٹی سندھ اسمبلی کی دو نشستیں جیتنے میں بھی کامیاب ہوگئی تھی۔ تاہم اس کے امید واروں کا اصل کارنامہ پنجاب میں دیکھنے میں آیا جہاں اس نے مسلم لیگ (ن) کے ووٹ توڑ کر تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے راہ ہموار کی۔ اسی کامیابی کی بنیاد پر عمران خان اگست 2018 میں ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے اور مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کے امتحان کا آغاز ہؤا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں ان انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کرتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ اسٹبلشمنٹ نے ساز باز اور دھاندلی سے تحریک انصاف کو انتخاب جیتنے اور حکومت بنانے میں مدد فراہم کی تھی۔ اسی لئے عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔

تحریک لبیک اور تحریک انصاف 2018 کے انتخابات تک مسلم لیگ (ن) دشمنی میں ایک دوسرے کے قریب ترین ’حلیف تھے‘۔ نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنا کے موقع پر تحریک انصاف نے اس میں شرکت تو نہیں کی لیکن اس دھرنے کی اخلاقی و سیاسی حمایت کی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے دشمنی تھی جسے عمران خان اپنا سب سے بڑا سیاسی مخالف سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں تحریکوں کا یہ رومانس 2018 میں آسیہ بی بی کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد اختتام پذیر ہؤا۔ حکومت کو اس تحریک کو دبانے کے لئے سرکاری طاقت استعمال کرنا پڑی پھر پراسرار انداز میں نہ صرف تحریک لبیک کے تمام لیڈروں کو گرفتار کرلیا گیا بلکہ انہوں نے یکے بعد دیگرے معافی نامے بھی دینے شروع کر دیے۔ اس کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ تحریک لبیک وقتی ابال تھا جو ایک خاص وقت میں کوئی خاص مقصد حاصل کرنے کے لئے دیکھنے میں آیا تھا۔ جنوری میں اس جماعت کی اعلیٰ قیادت سمیت درجنوں اراکین کو سزائیں ملنے کے بعد یہ باب ختم ہوگیا تھا۔ تاہم آج راول پنڈی میں ہونے والی جھڑپوں نے اس تاثر کو غلط ثابت کیا ہے۔

اس مرحلہ پر یہ کہنا مشکل ہے کہ تحریک لبیک کا ’احیا‘ کسی بڑے سیاسی منصوبہ کا حصہ ہے یا بعض انتہاپسند مذہبی لیڈر ایک فوری وقوعہ سے پیدا ہونے والے عوامی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی منظر نامہ پر واپسی کی خواہش رکھتے ہیں۔ طاقت کے اس مظاہرہ کی ایک حجت جنوری میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ملنے والی سزاؤں سے کسی طرح جان چھڑانے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔ ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں اور جنوری میں تحریک لبیک کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ ہم ان سزاؤں کے خاتمہ تک جد و جہد جاری رکھیں گے‘۔ ہوسکتا ہے اسی امید پر اب ناموس رسالت کے نام سے احتجاج اور ریلی کا اہتمام کیا گیا ہو۔ لیکن یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ایک غیر ملک میں ہونے والے واقعہ کے خلاف منعقد ہونے والی ریلی کو تصادم میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی؟ کیا پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی بدحواسی کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی یا تحریک لبیک کی قیادت نے پہلے سے ارادہ کیا ہؤا تھا کہ وہ ناموس رسالت کے لئے نکالی جانے والی بظاہر پر امن ریلی کو پاور شو بنا کر ملکی سیاسی منظر نامہ میں اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کریں گے۔

تحریک لبیک کی نیت اور حکمت عملی کے بارے میں تو ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن پولیس نے ضرور اس حوالے سے بعض غلطیاں کی ہیں۔ اس ریلی کی اجازت دینے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا اور آخر وقت تک قائدین کو اسے ملتوی کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ایک طرف یہ بات چیت ہو رہی تھی تو دوسری طرف صوبے بھر سے تحریک لبیک کے حامیوں کو گرفتار کرکے جیلوں اور حوالاتوں میں بند کیا جا رہا تھا۔ اسلام آباد اور راول پنڈی پولیس نے اسلام آباد کو حصار میں لے لیا، موبائل سروس بند کردی گئی اور مظاہرین کے خلاف لیاقت باغ میں ہی تشدد کا آغاز کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ تاجروں کو اتوار کے روز مری روڈ پر اپنی دکانیں اور کاروبار بند کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ہوٹلوں سے کہا گیا کہ وہ تحریک لبیک کے کارکنوں کو ٹھہرنے کی سہولت فراہم نہ کریں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ انتظامیہ اس حوالے سے کس خوف میں مبتلا تھی۔

اصولی طور پر فرانس میں رونما ہونے والے واقعات کے حوالے سے علامہ خادم رضوی اور وزیر اعظم عمران خان ’ایک ہی پیج‘ پر ہیں۔ وزیر اعظم فرانس میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری اسلاموفوبیا کو قرار دیتے ہوئے فرانس کے صدر میکرون کے مؤقف کو مسترد کرچکے ہیں۔ انہوں نے متعدد بیانات میں واضح کیا ہے کہ جب تک یورپ مذہبی شخصیات کی توہین کے حوالے سے آزادی اظہار کی دلیل دینا بند نہیں کرے گا ، اس وقت تک نہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول ختم ہوگا اور نہ ہی تصادم بند ہوسکتا ہے۔ علامہ خادم رضوی صرف ایک قدم آگے بڑھ کر ان تمام عناصر کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت، تشہیر یا نمائش کا سبب بنے ہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ یہ واقعہ کہاں رونما ہؤا ہے اور کیا پاکستانی حکومت کسی ایسے ملک کے معاملات پر اثر انداز ہونے کی دسترس و قوت بھی رکھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر حکومت قوت ایمانی سے کام لے تو یہ کام چٹکی بجاتے ہو سکتا ہے۔

خادم رضوی کا یہ رویہ بھی عمران خان کی تعلیمات اور سیاسی و سماجی فلسفے سے ملتا جلتا ہے۔ سیاسی اور مذہبی طور سے اس قدر قرب رکھنے کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ تحریک لبیک کو تحریک انصاف کی حکومت نے خطرہ سمجھتے ہوئے دبانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تحریک ملک میں عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر پیدا کی گئی تقسیم اور انتہاپسندی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ اس جماعت کا کل اثاثہ مسلکی عقائد کی بنیاد پر استوار ہے۔ اس گروہ نے شروع میں ’تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ‘ کا نام اختیار کیا تھا، تاہم 2018 میں جب انتخابات میں شرکت کے لئے اسے پارٹی کے طور پر رجسٹر کروانا پڑا تو الیکشن کمیشن کی شرائط کی وجہ سے یہ محض تحریک لبیک رہ گئی۔ تصویر کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راول پنڈی میں آج ہونے والا تصادم دراصل ایک مزاج اور ملک بھر میں وسیع بنیاد پر پھیلنے والی مذہبی انتہا پسندی کا عشر عشیر ہے۔ مذہبی عقائد کی بنیاد پر تشدد اور تصادم کو ایک جائز ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی روایت ملک میں ایک عمومی علت بن چکی ہے۔ اس حوالے سے بھرپور کام کئے بغیر کسی ایک ریلی کو روکنے سے سماجی امن کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

نومبر 2018 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فیض آباد دھرنے پر فیصلہ میں اس دھرنا کے عوامل کا ذکر کرتے ہوئے 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنا سے قائم ہونے والی مثال کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لکھے ہوئے اس فیصلہ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پر بھی نکتہ چینی کی گئی تھی۔ دلچسپ بات ہے کہ آئی ایس آئی اور تحریک انصاف نے اس فیصلہ کو خود پر تنقید سمجھتے ہوئے، اس کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہوئی ہے۔

اس پس منظر میں تحریک لبیک کی طرف سے ایک بار پھر طاقت کا مظاہرہ اور انتظامیہ کی بد حواسی، ملکی سیاست میں ایک نئے موڑ کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا یہ حادثاتی وقوعہ ہے جو آج کا دن گزرنے کے ساتھ بھلا دیا جائے گا یا کسی بڑے اور سوچے سمجھے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ آخر نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے وقت کس نے سوچا تھا کہ چند ہزار افراد کے ساتھ مجمع لگانے والا ایک مولوی ملکی سیاست میں اہم مہرے کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1681 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali