کیا کاملہ ہیرس امریکی تاریخ میں پہلی خاتون صدر بھی ہو سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں کاملہ ہیرس نائب صدر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ اور ان کے ساتھ اٹھتر سالہ جو بائیڈن بھی معمر ترین صدر کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ اب زندگی اور موت تو بوڑھے اور جوان میں تمیز کی روادار نہیں ہوتی پر بڑھاپا اور وہ بھی اسی پلس تک جانے کا ہو تو اس پر موت کے خدشات منڈلانے لگتے ہیں اور خدا نخواستہ ان آنے والے چار برس میں جو بائیڈن فوت ہوتے ہیں تو امریکن آئین کے مطابق صدر کے موت کے بعد نائب صدر کا پہلا کام صدارت کی چوکی سنبھالنا ہوتا ہے اور عین ممکن ہے کہ کاملہ ہیرس کو پھر بولنا پڑے کہ میں امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہوں لیکن آخری نہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ نوبت آئے، کاملہ ہیرس کے متعلق جاننا بھی ضروری ہے۔

کاملہ ہیرس 20 اکتوبر 1964 امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ انڈیا جبکہ والد جمیکا میں پیدا ہوئے تھے۔ والدین کی طلاق کے بعد کاملہ ہیریس کی پرورش بنیادی طور پر ان کی ہندو سنگل والدہ شیاملا گوپالن ہیریس نے کی جو کہ کینسر کے شعبے میں محقق اور شہری حقوق کی سرگرم کارکن تھیں۔ وہ اپنے انڈین ثقافتی پس منظر میں پلی بڑھیں اور اپنی والدہ کے ساتھ وہ انڈیا کے دورے پر آتی رہتی تھیں لیکن ان کی والدہ نے پوری طرح آکلینڈ کی سیاہ فام ثقافت کو اپنا لیا تھا اور انھوں نے اپنی دو بیٹیوں کاملہ اور ان کی چھوٹی بہن مایا کو اسی تہذیب و ثقافت میں رچا بسا دیا تھا۔

کاملہ 2003 میں سان فرانسسکو کی اعلیٰ ڈسٹرکٹ اٹارنی منتخب کی گئیں، 2010 اور 2014 میں کاملہ نے کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ کاملہ 1984 میں ڈیموکریٹک جیرالڈین فریرو اور 2008 میں ریپبلکن سارہ پیلن کے بعد کسی بڑی جماعت کے لئے تیسری خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدارتی امیدوار تھیں جنہوں نے اب کامیابی حاصل کر لی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیرولینا میں صدارتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی نائب صدارتی امیدوار کاملہ ہیرس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میری بیٹی ایوانکا، کاملہ سے بہتر صدارتی امیدوار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کاملہ ہیرس کو پسند نہیں کرتے، کاملہ پہلی خاتون صدر نہیں بن سکتیں، ایسا ہونا امریکا کے لیے بے عزتی کی بات ہو گی۔ خیال رہے کہ اگر جو بائیڈن صدارتی انتخابات جیت جاتے ہیں اور 2024 میں دوسری مدت کے لیے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے تو کاملہ ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار ہوں گی۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کے مخالف تھیں تاہم بائیڈن نے اپنے انتخاب کے بعد کملا کو اپنے نائب کے طور پر چن لیا تھا۔

کملا ہیرس صرف پہلی خاتون نائب صدر ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے جمیکا اور انڈیا سے تعلق کی وجہ سے وہ پہلی غیر سفید فام شخصیت بھی ہیں جو امریکہ کی نائب صدر بن رہی ہیں۔

وہ ریاست کیلی فورنیا کی سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں اور وہ نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے نظام میں اصلاحات کی بھی حامی رہی ہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں اب تک صرف دو خواتین کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر چنا گیا ہے۔ رپبلکن جماعت کی جانب سے سارہ پالن کو سنہ 2008 میں چنا گیا تھا اور جیرالڈین فیریرو کو ڈیموکریٹس کی جانب سے سنہ 1984 میں تاہم دونوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔

دی ٹرتھ وی ہولڈ نامی اپنی خود نوشت میں وہ لکھتی ہیں میری والدہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ وہ دو سیاہ فام بیٹیوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ انھیں پتہ تھا کہ ان کا اختیاری مادر وطن مجھے اور مایا کو دو سیاہ فام لڑکی کے طور پر دیکھے گا اس لیے وہ یہ یقین دہانی کرنا چاہتی تھیں کہ ہم پراعتماد اور فخر کرنے والی سیاہ فام خاتون کے طور پر بڑی ہوں۔

سینیٹر ہیرس نے بچپن میں کچھ وقت کینیڈا میں بھی گزارا۔ جب گوپالان نے میک گل یونیورسٹی میں تعلیم و تدریس کا انتخاب کیا تو وہ اپنے ساتھ کاملہ اور ان کی چھوٹی بہن مایا کو بھی لے گئیں جنھوں نے مونٹریال کے سکول میں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے امریکہ میں کالج کی تعلیم حاصل کی اور چار سال ہارورڈ یونیورسٹی میں گزارے جو کہ ملک میں تاریخی اعتبار سے سیاہ فام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے وہاں گزارے اپنے وقت کو اپنی زندگی کے سب سے تعمیری تجربات والی زندگی میں سے ایک بتایا ہے۔

کاملہ ہیرس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شناخت کے متعلق ہمیشہ مطمئن رہیں اور اپنے آپ کو محض ’امریکی‘ کہتی ہیں۔

سنہ 2019 میں انھوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ سیاستدانوں کو اپنے رنگ یا پس منظر کی وجہ سے خانوں میں فٹ نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا: ’میرا کہنا بس یہ ہے کہ میں جو ہوں سو ہوں۔ میں اس کے ساتھ اچھی ہوں۔ آپ کو اس کا اندازہ لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن میں اس کے ساتھ ٹھیک ہوں۔ ہارورڈ میں چار سال رہنے کے بعد کملا ہیرس نے ہیسٹنگز میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے قانون کی ڈگری کی اور المیڈا کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر سے اپنے کیریر کا آغاز کیا۔

وہ 2003 میں سان فرانسسکو کے لیے اعلی ترین ڈسٹرکٹ اٹارنی بن گئیں۔ اس کے بعد وہ امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں اعلی وکیل اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار کی حیثیت سے ابھریں اور کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام شخص منتخب ہوئیں۔

اٹارنی جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدے کی تقریباً دو مدتوں میں ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے کی حیثیت سے شہرت حاصل کی اور ترقی و شہرت کی اس رفتار کا استعمال کرتے ہوئے سنہ 2017 میں کیلیفورنیا کی جونیئر امریکی سینیٹر کی حیثیت سے اپنے انتخاب کو مہمیز دی۔

امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے کے بعد کاملہ نے سینیٹ کی اہم سماعتوں میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے نامزد امیدوار بریٹ کاوانوف اور اٹارنی جنرل ولیم سے تیکھے سوالات کرنے سے ترقی پسندوں میں مقبولیت حاصل کی۔

گزشتہ سال کے آغاز میں جب انھوں نے کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کے ہجوم کے درمیان صدارتی امیدوار بننے کی کوششوں کا آغاز کیا تو سنہ 2020 کے صدارتی امیدوار کے لیے ان کی امیدواری پر ابتدا ہی میں جوش و خروش دیکھا گیا

ہیرس نے اکثر کہا ہے کہ ان کی شناخت انھیں حاشیے پر رہنے والوں کی نمائندگی کرنے والوں میں منفرد بناتی ہے۔ اب جبکہ جو بائیڈن نے انھیں اپنے ساتھی کے طور پر نامزد کیا ہے تو وہ انھیں وائٹ ہاؤس کے اندر سے ہی ایسا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •