دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی بلاک: کثیر الجہتی کی جیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین کی قیادت میں دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک قائم کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں چین سمیت بحر الکاہل کے پندرہ ایشیائی ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے ”آزادانہ تجارتی معاہدے“ پر دستخط کر دیے ہیں۔ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے یہ معاہدہ طے پانے میں آٹھ سال لگے۔ توقع ہے کہ اس سے خطے کی 2.2 ارب آبادی مستفید ہو گی۔ دستخط کی تقریب اتوار کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ایک ورچوئل اجلاس کے بعد ہوئی۔

علاقائی جامع اقتصادی تعاون ”ریجنل کامپری ہینسیو اکنامک پارٹنرشپ“ (آر سی ای پی) نامی اس معاہدے کی رو سے ٹیکسوں میں کمی لائی جائے گی، تجارتی ضوابط نرم کیے جائیں گے اور کورونا کی وبا سے متاثرہ سپلائی چین میں بہتری پیدا کی جائے گی۔ چین کی قیادت میں قائم ہونے والے اس تجارتی بلاک میں ایشیا پیسیفک کے آسیان کے دس ممالک کے ساتھ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔

پندرہ تاریخ کو، علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (آر سی ای پی) پر دستخط کی تقریب ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوئی۔ پندرہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی امور کے وزرا نے معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے۔ معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی آزاد تجارتی زون کا باضابطہ آغاز ہوا، جس سے دنیا کی سب سے بڑی آبادی مستفید ہوگی، اس سب سے بڑے معاشی اور تجارتی نظام میں دنیا کے کسی بھی حصے سے زیادہ ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔

اسی روز چینی نائب وزیر تجارت اور نائب بین الاقوامی تجارتی نمائندے وانگ شووین نے کہا کہ آر سی ای پی پر دستخط ہونا آزادانہ تجارت اور کثیرالجہتی نظام کی بھر پور حمایت کا عکاس ہے، اس سے عالمی معیشت کے لئے مثبت توقعات پیدا کرنے میں مدد ملی ہے، اور اس پر عمل درآمد سے عالمی معیشت کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔

آر سی ای پی کے 15 رکن ممالک کی کل آبادی، معاشی حجم، اور تجارتی حجم کل عالمی حجم کا تقریباً 30 فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی معیشت ایک مربوط مارکیٹ بن گئی ہے۔ وانگ شووین کا خیال ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنا مشرقی ایشیائی علاقائی کے معاشی انضمام میں ایک نیا سنگ میل ہے۔

اس معاہدے کو اثر کے لحاظ سے شمالی امریکہ کے آزاد تجارت علاقے اور یورپی یونین کے برابر پہنچے گردان رہے ہیں۔ معاہدے پر دستخط سے رکن ممالک کے اندر زبردست معاشی سرگرمی پیدا ہوگی، جس سے خطے کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ آرسی ای پی سے چین کے پالیسی سازوں کی دنیا کے لئے کھلے پن کو جاری رکھنے کی کوششیں رنگ لائی ہیں۔

37 ویں آسیان سمٹ اور مشرقی ایشیا میں تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں رہنماؤ ں کا اجلاس پندرہ تاریخ کو اختتام پذیر ہوئے۔ مذکورہ اجلاسوں کے دوران، آسیان ممالک اور ان کے مکالمہ کار شراکت داروں نے وبا سے نمٹنے، وبائی مرض کے بعد بحالی، اور علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) معاہدے پر دستخط سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور اہم نتائج حاصل کیے ۔

اختتامی تقریب میں، آسیان کے موجودہ چیئرمین ملک ویتنام کے وزیر اعظم نگیوئن شیان فو ک نے کہا کہ 2020 ایک بہت ہی چیلنج والا سال ہے۔ اجلاس میں ناول کورونا وائرس کی وبا کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور معاشی بحالی کو فروغ دینے کے لئے تعاون کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ”آسیان کا جامع بحالی کا منصوبہ“ اور اس کے نفاذ کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اس کا مقصد کمپنیوں اور لوگوں کو اس وبا سے بحالی اور معاشی و سماجی استحکام کے فروغ میں مدد ملے گی۔

نگیوئن شیان فو ک نے کہا کہ اجلاسوں میں آسیان اور اس کے شراکت داروں کے تعلقات میں ترقی کو مزید توانا کرنے پر اتفاق رائے ہوا، جس میں کثیر الجہتی تعاون اور معاشی آزادی پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ آسیان کے مرکزی مقام کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے، بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے نیز اعتماد، شفاف، اشتراک اور قواعد پر مبنی علاقائی ڈھانچے کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ نہ صرف گزشتہ بیس سالوں میں مشرقی ایشیا کے اقتصادی انضمام کے سفر میں ایک بہت اہم کامیابی ہے بلکہ عالمی معیشت کے لئے بھی امید کی کرن ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی ممالک کی جانب سے کثیر الجہتی اور آزاد تجارت کی حمایت کے لئے مضبوط عزم کا اظہار ہوتاہے بلکہ اس بات کو ثابت کرتاہے کہ کھلے تعاون سے ہی تمام فریقوں کا باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی وابستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •