ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب اور عظیم بیگ چغتائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سلسلے کے پہلے مضمون میں ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب ”امہات الامہ“ جلائی گئی۔

اس کہانی کے بعد تو 1912 میں ڈپٹی نذیر احمد وفات پا گئے اور اس کتاب کی کہانی بھی بظاہر انجام تک پہنچتی نظر آئی مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوا۔ کچھ عرصے بعد مولانا راشد الخیری نے اس کتاب کو اپنی خواتین کے رسالے میں قسط وار شائع کیا مگر کسی نے احتجاج نہیں کیا۔

شاہد احمد دہلوی نے عظیم بیگ چغتائی پر اپنے خاکے میں جو بعد میں دہلی سے ”چند ادبی شخصیات“ نامی کتاب میں بھی 1983 میں شائع ہوا ہے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی ایک جلد کسی طرح سے حاصل کرلی اور سوچا کہ اس کتاب کو پھر شائع کرنا چاہیے مگر جیسے ہی کتاب چھپ کر آئی ایک اور مہم شروع ہو گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ اس کی تمام جلدیں ضبط کرلی جائیں۔

حکومت برطانیہ نے تو ایسا کام نہیں کیا مگر شاہد احمد دہلوی کو ان کے بزرگوں نے مجبورکرنے کی کوشش کی کہ کتاب کو واپس لے لیا جائے جو انہوں نے نہیں کیا۔ پھر شاہد احمد دہلوی کے خلاف جلسے جلوس شروع ہو گئے۔

شاہد احمد دہلوی ہمیں بتاتے ہیں کہ پھر عظیم بیگ چغتائی نے انہیں جودھ پور سے خط لکھا کہ ساری کتابیں انہیں بھیج دی جائیں اور اعلان کر دیا جائے کہ کتابیں اب عظیم بیگ چغتائی کے پاس ہیں اور جس میں ہمت ہے ان سے لے لے۔

شاہد احمد دہلوی نے 200 کتابیں بھیج دیں اور اعلان کر دیا کہ اس کتاب کی اشاعت بند کردی گئی ہے۔ مگر عظیم بیگ چغتائی بھی ایک ضدی انسان تھے انہوں نے ایک قدم اور اٹھایا اور اخبار میں اعلان کر دیا کہ کتابیں ان کے پاس ہیں جس میں ہمت ہے آ کر لے لے۔ اس پر ایک اور فساد کھڑا ہو گیا اور دو ہفتوں کے اندر چغتائی کے گھر کا گھیراؤ کر کے کتابیں اٹھالی گئیں۔

خود عظیم بیگ چغتائی کی بھی ٹھکائی کی گئی جس سے وہ زخمی بھی ہوئے۔ بالآخر چغتائی کو بھی معافی مانگنی پڑی گو کہ وہ کہتے رہے کہ کتاب انہوں نے نہیں بلکہ ڈپٹی نذیر احمد نے لکھی ہے۔ مگر چغتائی کی بات کسی نے نہ سنی اور چغتائی کو ایک بڑے مجمعے کے سامنے لایا گیا جہاں چغتائی معافی کے خواستگار ہوئے اور اپنے گناہوں پر شرمندہ بھی ہو کر انہیں توبہ کرنا پڑی۔

مجمع نے تمام کتابوں کو جلادیا بالکل اسی طرح جیسے پچیس برس قبل مولوی نذیر احمد کی زندگی میں ہوا تھا۔ یعنی اس کتاب کو دو مرتبہ جلایا گیا پہلے 1910 میں اور پھر 1935 میں۔ عظیم بیگ چغتائی نے لکھا کہ انہیں ایک ایسی قوم پر افسوس ہے جس نے ربع صدی گزرنے پر بھی کچھ نہیں سیکھا۔

شاہد احمد دہلوی نے یہ خاکہ پہلی بار نقوش کے لیے 1955 میں تحریر کیا تھا اس کے تیرہ سال بعد بیگم تاج فرخی نے 1968 میں کراچی سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ”الشجاع ’کے سال نامے میں اپنی تحقیق پیش کی جس کا عنوان تھا“ مولوی نذیر احمد کی آخری تصنیف ”امہات الامہ“

بیگم تاج فرخی نے مولوی عبدالحق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اکثر مشہورو معروف لوگوں کو اپنے عہد کے لوگوں کے جبرو نا انصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا ہی مولوی نذیر احمد کے ساتھ ان کے بڑھاپے میں ہوا۔ جیسے ہی ان کی کتاب ”امہات الامہ“ شائع ہوئی دلی میں فساد ہو گیا اور ان کے خلاف فتوے جاری ہونے لگے اور انہیں بہت تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ندوة العلما میں عالم جمع ہوئے اورانہوں نے تمام کتابیں زبردستی لے کر انہیں نذر آتش کر دیا اور جب شعلے بلند ہوئے تو مجمع ایسے خوش ہوا جیسے شکار مار لیا ہو۔

اس وقت لوگوں کو تاج برطانیہ کا خوف تھا ورنہ مولوی نذیر احمد کو بھی شاید آگ میں پھینک دیا جاتا بیگم تاج فرخی لکھتی ہیں۔ جنہوں نے کتاب نہیں پڑھی تھی وہ بھی اسے جلانے کے حق میں تھے۔ وہ مولانا شبلی نعمانی کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ امہات الامہ کی اشاعت کے بعد جب ندوة کا اجتماع دہلی میں ہونے والا تھا تو شبلی نعمانی نے معروف علما کی فہرست کا اشتہار دیا جن میں مولوی نذیر احمد بھی شامل تھے کہ یہ لوگ اجتماع میں شریک ہوں گے۔ پھر بعض لوگوں نے خود شبلی نعمانی پر کفر کے فتوے لگائے کہ انہوں نے نذیر احمد کو مولوی کیوں کہا۔

بیگم تاج فرخی ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ مولانا راشد الخیری نے امہات الامہ کو اپنے رسالے میں قسط وار شائع کیا تھا مگر اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ دراصل مولوی نذیر احمد کے بیٹے اور شاہد احمد دہلوی کے والد مولوی بشیر الدین احمد نے بعض احتجاجی رہنماؤں سے پوچھا کہ میرے والد کے بڑھاپے میں آپ لوگوں نے بہت شور مچایا تھا۔ جس پر ایک رہ نما نے جواب دیا کہ ہم تو دراصل مولوی نذیر کے ہی خلاف تھے۔

بیگم تاج فرخی کہتی ہیں کہ وہ لوگ کتاب پر نہیں بلکہ خود مولوی نذیر کی شخصیت سے نفرت کے باعث احتجاج کر رہے تھے۔ بیگم فرخی نے خواجہ حسن نظامی کے حوالے سے بھی لکھا کہ دہلی کے علما نے مولوی نذیر کے خلاف کوئی فتوی نہیں دیا بلکہ یہ کچھ مفاد پرست اور حاسد عناصر تھے جنہوں نے تنازع کھڑا کیا جب کہ اکثر باعلم لوگ اس جھگڑے سے دور رہے۔

بیگم فرخی نے شاہد احمد دہلوی کی کتاب ”گنجینہ گوہر“ مطبوعہ 1962 کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہی کچھ ہوا تھا۔

جاوید اختر بھٹی نے اپنی اعلیٰ تحقیقی کتاب ”مرزا عظیم بیگ چغتائی شخصیت و فن“ 2003 میں شائع کرائی جس میں انہوں نے ناقابل یقین تفصیلات جمع کر دی ہیں۔ ان کے مطابق مولانا عبدالماجد دریاباری نے ہی دراصل مولوی نذیر احمد کی موت کے پچیس سال بعد اس تنازع کو ہوا دی۔ دریابادی نے لکھنو سے اپنا اخبار ”سچ“ جاری کیا اور پھر 1935 میں ایک اور اخبار ”صدق“ کا بھی اجرا کیا۔ چوں کہ عظیم بیگ چغتائی ایک روشن خیال آدمی تھے اور کھل کر بولنے اور لکھنے کے عادی تھے اس لیے وہ دریا بادی کے اخبار کی نفرت کا نشانہ بنے۔

عظیم بیگ چغتائی

چغتائی ویسے تو طنزو مزاح کے لکھاری تھے لیکن وہ سماجی و مذہبی موضوعات میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ 1930 کے عشرے میں جب انہوں نے رقص اور پردے کے بارے میں لکھا تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مزاحمت وہ لوگ کر رہے تھے جن کے خیال میں یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وہ روایات کا دفاع کریں اور برے اثرات کے خلاف جو انگریزی تعلیم اور روشن خیالی سے پھیل رہے تھے جدوجہد کریں۔

اس دوران عظیم بیگ چغتائی نے تین اردو کتابچے لکھے جن کے عنوان تھے۔ ”قرآن اور پردہ“ ”حدیث اور پردہ“ اور ”رقص و سرود“ سرود کا مطلب گانا بجانا ہے مگر چغتائی کے خیالات اس دور کے تنگ نظر حلقوں کے لیے قابل قبول نہ تھے۔

جاوید اختر بھٹی نے بڑی محنت سے وہ خط و کتابت جمع کی ہے جو عبدالماجد دریا بادی کے اخبارات ”سچ“ اور ”صدق“ میں شائع ہوتی رہی۔ مثلاً نومبر 1932 میں کسی نے الہ آباد سے سچ کے مدیر کو خط لکھا۔ اس خط میں عظیم بیگ چغتائی کے کتابچوں کی مذمت کی گئی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ورنہ ہماری عورتیں بھی انگریز عورتوں کی طرح گلیوں میں نکل آئیں گی۔ مراسلہ نگار کی تجویز تھی کہ ان نئے خیالات کی سرکوبی کے لیے مولانا عبدالماجد دریا بادی اور سلیمان ندوی مہم چلانے کے لیے موزوں ترین تھے۔ پھر 1933 میں بھی دریا بادی اورسلیمان ندوی کے علاوہ شاہ معین الدین ندوی اور محمد علی مکی کی تحریریں لگاتار شائع ہوتی رہیں۔

پورے ہندوستان سے ”باضمیر“ مسلمانوں نے مراسلے لکھنا شروع کردیے جن میں عظیم بیگ چغتائی کو مذہب دشمن، کافر، ملحد اور نہ جانے کیا کچھ کہا گیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کیے گئے۔ مولانا دریا بادی خود ایک دل چسپ شخصیت کے مالک تھے جن کے اپنے الفاظ میں وہ بیس سال کی عمر میں انگریزی تعلیم سے متاثر ہو گئے تھے اور روشن خیالی، لبرل ازم اور جدید خیالات کو درست سمجھتے تھے۔ مگر تیس سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے وہ پھر اسلام کی طرف راغب ہوئے اور راسخ العقیدہ ہوتے چلے گئے حتیٰ کہ کسی بھی مسلمان کی اختلافی آواز کو برداشت کرنے کے روادار نہیں تھے۔

عظیم بیگ چغتائی روایت شکن تھے اور خاص طور پر کم عمری کی شادی کے شدید خلاف تھے وہ ہر لڑکی کو مرضی کی شادی کا حق دلوانا چاہتے تھے اور اپنی تحریروں میں مسلم عورتوں کی ناخواندگی پر افسوس کرتے تھے۔ ان کے خیال میں ہر عورت کو تعلیم اور ملازمت کا حق حاصل تھا اور وہ اپنی مرضی سے شادی بھی کر سکتی تھی اور طلاق بھی حاصل کر سکتی تھی۔ وہ عورتوں کو ڈھور ڈنگر سمجھنے کے مخالف تھے اور داشتاؤں یا رکھیل رکھنے کو بھی معیوب سمجھتے تھے۔

گوکہ مرزا عظیم بیگ چغتائی نے اسلامی تاریخ کے محترم ماخذ استعمال کیے جیسا کہ پہلے مولوی نذیر احمد کر چکے تھے۔ مگر ان کے خیالات کی مخالفت کی گئی اور تنازع کھڑے ہوئے۔ چغتائی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام میں موسیقی جائز ہے اور اس پر ناک بھوں چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حتی کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موسیقی کی تعلیم سے اچھے انسان بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مرزا عظیم بیگ چغتائی نے شوہروں کی جانب سے من مانی طلاقوں کی مخالفت کی اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا تاکہ وہ بے جا طلاق سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن چغتائی صاحب کے خلاف مخالفت شدید تھی اور پھر کچھ ان کی اپنی تحریریں اور کچھ مولوی نذیر احمد کی کتاب کے تنازع نے عظیم بیگ چغتائی کو بڑی ذلت کا نشانہ بنایا۔ جب انہیں معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا تو اس کے چند سال بعد وہ 1941 میں صرف چھیالیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •