لن یوتنگ کی کتاب: جینے کی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ سرمئی رنگ کی مضبوط جلد والی کتاب تھی۔ اسے دیکھ کر میرا پہلا تاثر یہ بنا کہ یہ کتاب زندگی سے لطف اٹھانے اور مشکلات سے نبرد آزما کے گر سکھاتی ہے۔ تناؤ کی سچوایشن میں موڈ کو خوش گوار بنانے کے لئے اکثر اس کا مطالعہ کرنے بیٹھ جاتا۔ ایک طرح سے یہ میری سیلف ہیلپ کی پہلی کتاب تھی۔

یہ لن یوتنگ کی ’جینے کی اہمیت‘ تھی۔ یہ کتاب زندگی گزارنے کے چینی فلسفے پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف سادہ اور ہلکے پھلکے انداز میں زندگی کے دل کش پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ گھر، فطرت، سفر، کھانے، ثقافت اور خدا کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتا ہے۔ انسان ہونے کا مطلب، ایک دانشور کی ذمہ داری اور انسانی زندگی پر دولت، شہرت اور کامیابی کے اثرات کا تجزیہ کرتا ہے۔

اس کتاب کی اہم بات یہ کہ یہ ہمیں روز مرہ زندگی کے انتہائی سادہ کاموں سے لطف اٹھانے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ جیسا کہ محض کرسی پر بیٹھے رہنا، چائے کی چسکیاں لینا، دوستوں سے باتیں کرنا، گھر میں بے کار بیٹھے رہنا اور گلیوں میں بلا وجہ مٹر گشتی کرنا وغیرہ۔

پھر ڈیل کارنیگی سے واسطہ پڑا۔ ان کی تقریباً تمام کتابیں گھر میں موجود تھیں۔ یہ کسی پرانے پبلیشر نے پاکٹ سائز میں چھاپی تھیں۔ انہیں خوبصورت خاکی جلد کرا کے شیلف میں رکھا گیا تھا۔ انتالیس بڑے آدمی، مانیں نہ مانیں، ابراہم لنکن کی سوانح حیات۔ میں نے ’پریشان ہونا چھوڑیے اور جینا شروع کیجئے‘ کا انتخاب کیا۔

یہ کتاب خوف پر قابو پانے، ماضی کے شکنجے سے نکلنے اور مستقبل کی فکروں سے نجات پانے کا سبق دیتی ہے۔ بس حال میں جئیں اور اپنے مسلوں کا ٹھنڈے ذہن سے تجزیہ کریں۔ جن حقائق کو آپ تبدیل نہیں کر سکتے انھیں تسلیم کر لیں۔ اپنے آپ کو مثبت کاموں میں مشغول رکھیں۔ شکر کی عادت اپنائیں۔ اپنی نعمتوں کا شمار کریں۔ اوروں کی مدد کریں۔ کیونکہ یہ آپ کے اپنے لیے مفید ہے۔ تنقید سے نہ گھبرائیں۔ اپنے ذہن کو آرام دیں۔ کاموں کو ان کی اہمیت کے اعتبار سے سر انجام دیں۔

پھر تعلیم کی غرض سے میں لاہور شفٹ ہو گیا۔ میں نے یہاں پرسنل لائبریری بنانا شروع کر دی۔ انار کلی بازار میں ایک بک اسٹور پر میری نظر ڈیل کارنیگی کی ’میٹھے بول کا جادو‘ پر پڑی۔ فوراً خرید کر پڑھنا شروع کر دی۔

وہ لکھتا ہے کہ اوروں پر بے جا تنقید کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح آپ لوگوں کو اپنے خلاف کر لیتے ہیں۔ اس کی بجائے آپ انھیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان کے حالات کے مطابق ان کے ذہنوں سے سوچیں۔ اس طرح ان کے دل آپ سے جڑ جائیں گے۔ آپ لوگوں میں قدرتی دلچسپی پیدا کریں۔ ان سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔ ان کو اہمیت دیں۔ اگر کسی پر تنقید کرنا بہت ضروری ہے تو پہلے اپنی کسی غلطی کا ذکر کریں۔ اپنے غصے پر قابو پائیں۔ میانہ روی اختیار کریں۔ حکم دینے کی بجائے استفسار کریں۔ یاد رکھیں کہ آپ کے کسی کے لیے دو میٹھے بول اس کی زندگی بدل سکتے ہیں۔

گھر کی لائبریری میں ایک کتاب اوروں سے کچھ نمایاں معلوم ہوتی تھی۔ سر ورق پر نیلے رنگ کے زینوں کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے سفید جلی حروف میں لکھا تھا: پر اثر لوگوں کی سات عادات از سٹیفن کووے۔ شخصیت میں تبدیلی کے زبردست اسباق۔ یہ تخلیقات پبلیشرز نے چھاپی تھی۔ لاہور میں اسے خرید کر ذاتی لائبریری کا حصہ بنا دیا۔ یہ اس طرح کی کتاب تھی جو آپ کے پاس زیادہ دیر ٹک نہیں سکتی۔ ’پر اثر لوگوں کی سات عادات‘ گھر سے چوری ہو گئی۔ بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے سالانہ بک فیئر سے اس کا انگریزی ایڈیشن خرید لیا۔ وہ بھی ایک دوست نے پڑھنے کے لیے مانگی مگر پھر واپس نہیں کی۔ کچھ سال قبل ای بک ڈاؤن لوڈ کر کے میں نے اسے مکمل کیا۔

اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر میں تبدیلی اور کچھ بنیادی عادات اپنا کر اپنی شخصیت میں انقلابی بہتری لا سکتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے اس چشمے کو جانچنا چاہیے جس سے ہم دنیا کا نظارہ کرتے ہیں۔ ایک عادت نالج، مہارت اور خواہش کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اثر انگیزی کا تعلق عادتوں کے توازن سے ہے۔ آپ خود کو اپنے جذبات اور کیفیات سے علیحدہ کریں۔ رد عمل دینے والے لوگ اپنے جذبات اور عادات کے غلام ہوتے ہیں۔ فعال لوگ کسی بھی موقع پر توقف سے کام لیتے ہیں۔ وہ اپنی پر وقار اقدار کے مطابق جواب دیتے ہیں۔

سات عادات:
1۔ فعال بنیں۔
2۔ انجام کو ذہن میں رکھ کر شروع کریں۔
3۔ اہم کام پہلے کریں۔
4۔ اس راستے کا انتخاب کریں جس میں سب کی جیت ہو۔
5۔ پہلے دوسرے کو سمجھیں پھر اسے سمجھائیں۔
6۔ اتحاد عمل یا تخلیقی تعاون کریں۔
7۔ آغاز نو یعنی حالات کے مطابق اپنی تجدید کرتے رہیں۔

پھر جینے کی اہمیت پر کتابیں پڑھنا ایک عادت بن گئی۔ سیلف ہیلپ کی کتابیں پڑھنے سے زندگی میں کتنی نمایاں تبدیلی آتی ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔ جاپان کے زین ماسٹر، انڈیا کے گرو، امریکا کے موٹیویشنل سپیکرز اور انڈیز کے قدیم قبائل کا سفر کرنے والے آپ کو زندگی کو سمجھنے، سلیقے سے گزارنے اور دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے گر سکھاتے ہیں۔ اس لٹریچر کی بدولت ملین ڈالرز کی انڈسٹری چل رہی ہے۔ آپ سیلف ہیلپ کی کتابیں پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن آپ جینے کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •