جب گہرا دوست مر جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس کے وقت کے مطابق چاربج کے پینتیس منٹ، مغرب کی چار بج کے اکیس منٹ پرنماز پڑھ کے موبائل دیکھا توایک دوست کے بیٹے سہیل لاشاری جو میرے لیے بھی بیٹے سے بڑھ کے ہے، کی مسڈ کال تھی اور ساتھ ہی بھتیجے خبیب مرزا کا وٹس ایپ میسیج۔ علی پور سے یک لخت دو افراد کا رابطہ، تشویش ہوئی۔ میسیج کھولا تو دل بیٹھ گیا لکھا تھا، ”انکل خادم فوت ہو گئے“ ۔ خادم حسین جتوئی بلوچ میرا پہلی جماعت سے ہم جماعت تھا۔ شاید چھٹی ساتویں تک، وہ اپنے انداز میں مجھ سے دوستی کرنے کی کوشش کرتا رہا اورمیں اس کے اس غنڈہ گردانہ انداز سے گھبراتا رہا۔ مگر آٹھویں سے ہم باقاعدہ دوست بن گئے اورہماری دوستی گہری ہوتی گئی۔

دسویں کے بعد وہ ڈسٹرکٹ جیل میں وارڈن بھرتی ہو گیا اورمیں ایف ایس سی کرنے کے لیے گورنمنٹ کالج لاہورجا داخل ہوا۔ مجھے میڈیکل گریجویشن کے لیے نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخل ہونا پڑا۔ اب اکثر ملاقاتیں ہونے لگیں۔ میرے ہوسٹل قاسم ہال کے کمرے کی پرائیویسی سے ا س کا کوارٹربھی دکھائی دیتا تھا۔ پھر اس نے کسی لڑکے کو چاقو بھونک دیا۔ مارشل لاء کا دور تھا۔ اس کے معاملے کی تفتیش کے سلسلے میں کوئی میجر اقبال مجھے بھی ہوسٹل میں ڈھونڈتے پھرے جنہیں میں غچہ دے جاتا تھا کہ یار کے خلاف کیسے کوئی بیان دے سکتا تھا۔

خادم حسین جو اب خادم حسین بے وس کہلاتا تھا اورشاعر تھا کو سزا ہو گئی۔ چھ ماہ قید اوردس کوڑوں کی سزا پراس نے سمری ملٹری کورٹ میں یا علی مدد کا نعرہ لگاتے ہوئے کئی بیٹھکیں نکالی تھیں۔ اسی جیل میں جس میں وارڈن تھا اوراب قیدی، میں اس سے ملاقاتی کے طور پر ملنے گیا تھا۔ جنگلے کے پیچھے وہ تھا اورمیں سامنے۔ مجھے یاد نہیں کہ کیا باتیں ہوئیں مگر خادم ساری عمر لوگوں کو بتاتا رہا کہ ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا، ”خادم جیل سے کندن بن کے نکلنا“ ۔

کندن بن کے تو وہ کیا نکلتا مگر کچھ عرصہ بعد بطور سپاہی پولیس میں بھرتی ہو گیا تھا۔ کبھی ملتان میں تو کبھی علی پور میں ملاقات ہو جاتی۔ وہ میرا اس قدر مزاج شناس تھا کہ آپسی ملاقت کے دوران میرے چہرے پر اکتاہٹ کا پہلا پرتو دیکھتے ہی کہتا، ”ڈاکٹر یار تم بور ہو رہے ہو، چلو اللہ حافظ“ ۔

ہائی سکول کی کلاسوں میں وہ تعلیم سے بھاگتا رہا تھا بلکہ تعلیم دینے کے انتہائی رسیا ہمارے استاد گوہر علی صاحب نے تو اسے تین چاراورلڑکو کے ساتھ۔ ”صاحب تمہیں پنشن ہے“ کہہ کے سزا دینے سے بھی مستثنٰی کر دیا تھا مگر پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد اس کی ذہانت کے پردے کھلنے لگے تھے اور وہ تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتا گیا پھر مجبوری کے تحت کیونکہ اس کا چھوٹا بھائی ڈاکووں کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا، جسے ان کے خیال میں مخالفوں نے مامورکیا تھا، اسے پولیس انسپکٹر کے طور پر قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لینی پڑی تاکہ مقدمے کی پیروی کر سکے وگرنہ دو چار ماہ بعد وہ ڈی ایس پی ہونے والا تھا۔ قانون میں وہ طاق تھا اوربہت سے پولیس والے اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس سے قانونی مشورے لیا کرتے تھے۔

اس نے ایک عرصہ پہلے بے وس تخلص ترک کر دیا تھا اور اب خادم حسین خادم سگ مولا علی کہلوانے لگا تھا۔ اس میں فقیرانہ روش اپنے دادا سرور فقیر سے آئی تھی جنہوں نے جنگ عظیم دوم میں بطور انگریزی فوجی کے حصہ لینے کے بعد دنیا تج دی تھی، ملنگ بن گئے تھے۔ وہ مانگتے نہیں تھے بلکہ دینے کا حکم دیا کرتے تھے اور جو متمول ہوتے ہوئے بھی نہ دیتا، اس کی ایسی تیسی کر دیا کرتے تھے۔

خادم کے والد صاحب مولوی غلام حسین شیعوں کے جید عالم اور زبردست ذاکر تھے۔ وہ بھی مست رہنے والے آدمی تھے۔ ایک بار خادم نے ان سے کہا کہ ابا سئیں مولویوں ذاکروں نے تو بہت مال کمایا ہے مگر آپ نے کچھ نہیں کمایا، تو کہنے لگے، ”بابا کیوں کماتا اگر اس دولت سے تم عیاشی کرنے لگتے تو گناہ مجھے جاتا اور اچھے کام کرتے تو ثواب تمہیں“ خادم کیا جواب دیتا مسکرا کے رہ گیا تھا۔ میرا دوست شمعون سلیم ایک بات کو پٹھانے خان سے منسوب کرتا ہے مگر دراصل وہ بات چاچا غلام حسین نے بہت پہلے تب کہی تھی جب میں نے ان سے استفسار کیا تھا کہ ”چاچا سئیں آپ کے ذکرحسین میں وہ کیا خاص بات ہے کہ مجھ ایسا لامذہب بھی سن کے روئے بن نہیں رہ سکتا؟“ جس پر انہوں نے کہا تھا، ”بابا حسین کو کون روتا ہے، سب ہی اپنے دکھ روتے ہیں“ ۔ مگر خادم نے اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ کمایا تھا۔ سب کو گھر بنوا دیے۔ دو اڑھائی مربع زمین لی۔ ایک لنگر کئی سال سے چلا رہا تھا جہاں سے آ کر نہ کھا سکنے والوں کے لیے کھانا ان کے گھروں میں پہنچایا جاتا۔

خادم حسین کئی سال سے گھٹنوں کی سوزش کے سبب چلنے سے قریب قریب معذور تھا لیکن سہارا کسی کا نہ لیتا، لاٹھی کی مدد سے خود ہی اٹھ کے دو چار قدم بھر کے کار یا موٹر سائیکل پر سوار ہوتا۔ غذا میں کمی نہ کر سکا تھا اس لیے بہت موٹا ہو گیا تھا۔ اس کا بڑھایا واقعی پہلوان کا بڑھاپا ہو گیا تھا۔

ایسا کبھی نہ ہوا کہ میں علی پور پہنچوں اورا گرخادم گھر پہ ہو تو وہ دوچار گھنٹوں میں نہ پہنچا ہو۔ جب سے اس کی ٹانگیں چلنے سے عاری ہوئیں وہ کسی نہ کسی کو بھیج دیتا کہ مجھے اس تک پہنچا دے۔ اس بار بھی میں اسے دو بار ملا۔ پھر کورونا کے سبب میں گھر بند ہو گیا۔ اس کا فون آتا۔ ہنس ہنس کے مجھے کورونا کے ڈر کے طعنے دیتا جب میں اسے کہتا میں ڈاکٹر ہوں اور ڈرنے کی وضاحت کرتا تو کہتا، ”اللہ معاف کرے یار، لیکن جب آنی ہے تو آ ہی جانی ہے نا“ ۔ کبھی کھجوریں بھجوا دیں تو کبھی میٹھے۔ پھر جب لاک ڈاؤن کھلا تو میں نے کہا کہ ملیں گے۔ مجھے بھائی کی بیماری کے سبب اس سے ملے بغیر کراچی جانا پڑا اوروہیں سے میں ماسکو پہنچ گیا۔

24 اکتوبر اس کے سب سے چھوٹے بیٹے ابرار نے اپنے باپ کی تازہ تصویر فیس بک پر لگائی جسے میں نے پک کر کے نہ جانے کیوں 25 اکتوبر کو اس عنوان سے اپنی وال پر لگا دیا : آج کی تصویر: میرا یار، میرا جگر۔ سردار خادم حسین خادم جتوئی بلوچ، سابق انسپکٹر پنجاب پولیس۔

اور آج وہی تصویر مجھے اس عنوان کے ساتھ لگانی پڑی : میرا جگری یار، میرا دوست، میرا ہمدم، میرا بھائی خادم حسین خادم اس دنیا میں نہیں رہا۔

خادم جب بھی ملا یہی کہتا کہ یار ڈاکٹر علی پور آ کے پریکٹس کرو۔ میں زمین کا پلاٹ دے دیتا ہوں، اس پر ہسپتال بنا لو۔ میں یہ کہہ کے ٹال دیتا کہ یار زمین تو تم دے دو گے، ہسپتال بنانے کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ اب مجھے کون بار بار کہے گا کہ یار ڈاکٹر علی پور آ جاؤ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •