گلگت بلتستان الیکشن کے دلچسپ نتائج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

15 نومبر کو منعقد ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج نے سب اندازے، تبصرے اور تجزیے الٹ کر دیے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے عموماً یہ بات کی جاتی تھی کہ یہاں اس پارٹی کی جیت ہوتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو۔ یہ بات اس حوالے سے بھی درست تھی کہ 2009 میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جیت ہوئی اور وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ 2015 کے دوران میں وفاق میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی وہیں پر گلگت بلتستان میں بھی مسلم لیگ نون کی حکومت بنی۔

اب جب 2020 میں گلگت بلتستان میں انتخابات ہوئے تو وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے۔ لیکن الیکشن کی سرگرمیوں میں تیزی اور ولولہ اس وقت آیا جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے گلگت بلتستان کا رخ کیا اور انتخابی مہم میں براہ راست حصہ لیا۔ خاص طور پر بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کو زیادہ اہمیت دی اور انھوں نے سرحدی گاؤں سکسہ گانچھے سے لے کر داریل دیامیر تک جگہ جگہ کانر میٹنگز کی اور بڑے بڑے جلسے کیے ۔

ان کے جلسوں میں ایک بات یہ دیکھی گئی کہ ان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک رہی۔ پھر مریم نواز آ گئی اور وہ بھی گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گئی اور بڑے بڑے جلسے کیے ۔ ان دو بڑی جماعتوں کی لیڈرشپ کی گلگت بلتستان کے الیکشن میں دلچسپی کی وجہ سے نیشنل لیول کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے بھی یہاں کے انتخابات کو نمایاں کوریج دی۔

اس کے ساتھ ساتھ یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان گلگت آئے اور عبوری صوبہ بنانے کا عندیہ دیا۔ پھر تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے کے لئے وفاقی وزراء آئے اور ہر ضلع میں جلسوں کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات بھی کر دیا۔

لیکن الیکشن کے نتائج کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ بلتستان ریجن میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے مذہبی جماعت وحدت المسلمین کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہوا تھا نیز آخری دنوں میں دوسری مذہبی جماعت اسلامی تحریک نے بھی تحریک انصاف کے امیدواروں کی حمایت کی۔ بلتستان ڈویژن میں تحریک انصاف نے کل 09 حلقوں میں سے 08 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جبکہ ایک حلقہ میں وحدت المسلمین کی حمایت کی تھی۔ نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو بلتستان ڈویژن سے 03 نشتیں ملی جبکہ اس کی اتحادی وحدت المسلمین نے بھی ایک نشست جیت لی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بلتستان ڈویژن میں 09 امیدوار اترے تھے مگر اسے ضلع گانگچھے سے صرف ایک سیٹ ملی ہے۔ بلتستان کے نتائج دلچسپ اس حوالے سے بھی ہیں کہ یہاں سے سابق وزیر اعلی سید مہدی شاہ ( پیپلز پارٹی ) ، سابق سینئر وزیر اکبر تاباں ( نون لیگ) ، سپیکر صوبائی اسمبلی فدا محمد ناشاد ( تحریک انصاف) ، سابق وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی ( تحریک انصاف) ، سابق سینئر منسٹر محمد جعفر ( پیپلز پارٹی) ، سابق منسٹر اقبال حسن ( نون لیگ) ، سابق وزیر غلام حسین ( نون لیگ) اور چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سکندر علی ( تحریک اسلامی) ہار گئے۔

بلتستان ڈویژن میں وحدت المسلمین کی سیٹ سمیت کل 04 آزاد امیدوار بڑے بڑے برج الٹ کر جیت گئے ہیں۔ گلگت ڈویژن میں بھی نتائج مختلف رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ ضلع گلگت اور ضلع نگر سے بیک وقت دو نشتیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد نے سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان اور تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری فتح اللہ کو پچھاڑ دیا۔ جب کہ ضلع ہنزہ سے تحریک انصاف جیت گئی۔ ضلع غذر کی تین نشستوں میں سے ایک پر آزاد نواز خان ناجی، دوسری میں تحریک انصاف اور تیسری میں نون لیگ بازی لے گئی۔ ضلع استور کی دو نشستوں میں تحریک انصاف دیامیر ڈویژن کے چلاس، داریل اور تانگیر کی چار نشستوں میں آزاد، تحریک انصاف اور نون لیگ جیت گئی ہے۔

یوں اگر صورتحال کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو بلتستان ریجن میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی نہایت خراب رہی۔ بلاول بھٹو کی جانب سے بلتستان کے کونے کونے میں منعقد کیے گئے جلسوں اور تیاریاں دیکھ کر نہ صرف مقامی تجزیہ نگار اور ملکی سطح کے مبصرین سمجھ رہے تھے کہ یہاں سے پیپلز پارٹی اچھی خاصی نشتیں جیت جائیں گی مگر نتائج اس کے برعکس رہے۔ دوسری جانب بلتستان ریجن میں مسلم لیگ نون بری طرح پٹ گئی اور اس پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں جانے والے بڑی بڑی قد آور شخصیات بھی ہار گیں ہیں۔ جبکہ گلگت ریجن میں پیپلز پارٹی نے اچھا مقابلہ کیا اور 03 نشتیں جیت لیں۔ یہاں سے مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف دونوں کو بڑی شکست ہوئی۔ خاص طور پر نون لیگ کے سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان ہار گئے ہیں۔

ایک لحاظ سے یہ نتائج اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ وفاقی حکومت والی پارٹی کو بھی سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی اگرچہ آزاد ارکان کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی۔ حیرت انگیز طور پر آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے۔ ان آزاد امیدواروں کی اکثریت نے پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا اور بڑے بڑے تجربہ کار سیاستدانوں کا تختہ الٹ دیا۔ پہلی بار یہ تاثر بھی زائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ وفاق پر براجمان پارٹی ہی گلگت بلتستان الیکشن میں لینڈ سلائیڈ کامیابی حاصل کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •