کرونا میں کہانی گھر گھر کی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا ہی اس کرونا کے شکار میں پھنسی اور جکڑ گئی ہے، مختلف ممالک میں آئے دن لاک ڈاؤن چل ہی رہا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار تو مکمل طور پر ہی بند ہو گئے اور بقیہ اپنے ملازمین کو آن لائن ورک فرام ہوم پر لے آئے۔

موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

لاک ڈاؤن کے جھمیلے میں ہم بھی پھنس گئے اور گھر کے کام کاج جہاں بڑھے وہاں طبیعت میں چڑچڑے پن میں رہنے لگے ایک دن روز کی طرح صبح کے ناشتے کے بعد ہم اپنے خاوند کے ساتھ بیٹھے تھے اور ان کو چائے دے کر یونہی ادھر ادھر کی بات چیت کرنے میں لگے تھے کہ اچانک انھوں نے ہماری بات روکتے ہوئے ہمیں نشاندہی کرائی۔

خیر، یہ تو ان کی پرانی ہی عادت ہے کہ بس اپنی بیگم کو پریشان ہی رکھو، آرام سے بیٹھی ہی کیوں ہے ہنہ۔ خیر، بولے کہ تمھاری آنکھوں کے گرد اتنے گہرے حلقے آ گئے ہیں ان کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے کیا؟ لگتا ہے آج کل موبائل اسکرین کا کچھ زیادہ ہی استعمال کرنے لگی ہو جس کی وجہ سے اتنے گہرے حلقے نمودار ہو گئے ہیں۔

یہ سنتے ہی ہمارا پارا چڑھا اور اپنے اندر بڑبڑائے کہ ”اب تو عینک لگانے کا ان کو کوئی فائدہ ہی نہیں۔ لگتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب تو مکمل طور پر ہی ان کی بینائی نے ان کا ساتھ ہی چھوڑ دیا ہے،

بتاؤ زرا، اپنی بیگم کا موبائل اسکرین کا استعمال نظر آ رہا ہے لیکن گزشتہ چند روز سے جو ہم نے کترینہ کے بجائے ماسی سکینہ کی طرح گھر کے کام کاج کرنے میں دن کو دن رات کو رات نہ جاننا میں لگے ہیں وہ ان موصوف کو دکھائی بھی نہیں دے رہا۔ مجال ہے جو ایک بار بھی گھر کے کسی کام میں ہاتھ بٹانے کا جھوٹے منہ بھی کہا ہو ”

ہم فوراً وہاں سے اٹھے اور سیدھا اپنے کمرے کے اندر جاکر زور سے دروازہ بند کر کے اپنی قسمت کو کوسنے اور رونے لگے کہ آج سے ہم ان کو بدصورت بھی لگنے لگے ہیں

ساتھ ہی ساتھ ان تمام حسین خواتین کی شکلیں ہمارے ذہن میں ایک وڈیو کی طرح چلنے لگی جس جس پر ہمیں شک آ رہا کہ کسی نہ کسی ماٹی ملی کی وجہ سے ہی میرے شوہر نے آج مجھے بدصورت کہا ہے

دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے اب تو ہم اس کی تہہ تک جائیں گے اور اصل وجہ تلاش ہی کر کے رہیں گے

اب ہم اپنی سوچ میں چھانٹی کرنے میں لگ گئے کیونکہ پہلے تو ہمارے میاں جی ہماری انہی آنکھوں کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں تھے کبھی انڈین فلمی ہیرو سنجے دت کی ماں سے ملایا کرتے تھے تو کبھی،

ایک منٹ،
ایک منٹ،
ہائے اللہ یہ کیا ہو گیا؟

حضرت ہمیں تو سنجے دت کی ماں سے ملایا کرتے تھے اور خود اپنے آپ کو انڈین فلمی ہیرو بوبی دیول سے، بھئی واہ!

یہ تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا یہ تو نیا پوائنٹ آ گیا، اب تو ہمارے دماغ کا میٹر مکمل طور پر شارٹ ہونے چلا،

فوراً اٹھے اپنے کمرے سے باہر وہاں گئے جہاں میاں جی بیٹھے اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف تھے،
ہم نے دیکھا آؤ نہ دیکھا تاؤ، بلند لہجے اور قہر کی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ

” ہاں! ہاں! آخر میں تمھیں اچھی ہی کیوں لگوں گی؟ تمھیں تو میں پہلے دن سے ہی سنجے دت کی ماں جیسی ہی لگتی تھی اور خود کو ہمیشہ ہیرو بوبی دیول سمجھتے تھے

تمھارے ساتھ تو پہلے دن سے ہی بہت بڑی نا انصافی ہو گئی ہے لیکن یاد رکھو میاں!
ہم نے اپنے ایک ہاتھ سے قریب خاموش بیٹھے اپنے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میاں جی سے کہا کہ
”یہ جو تمھاری ٹائیگر فورس ہے نہ ہم جہیز میں لے کر نہیں آئے تھے،

پھر ہم نے میاں جی کے لیپ ٹاپ کی طرف گھورتے ہوئے اشارہ کیا کہ اپنے ہتھکنڈے نہ چھوڑنا! ہمارے سکون پر ہی اپنی یہ موٹی موٹی نظریں گاڑے رکھنا، تمھیں لگا کہ ہم بھی موبائل کی اسکرین پر یہی کچھ کر رہے ہوں گے؟

ہم تمھارے جیسے نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے خاندان کا کوئی شخص بھی تمھارے جیسا،

غضب خدا کا! بھرم مارنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کاجل کی کجلوٹی اور پھولوں کا سنگار یقیناً لیپ ٹاپ کا کیمرا بھی آن ہوگا، تبھی تو نیچے دھوتی اور اوپر کوٹ اور ٹائی پہنے بیٹھے ہو

تمھارے خاندان کے شادی شدہ بچوں والے دنیا کی ہوا کھاتے پھرتے ہوں گے۔ ہمارے خاندان میں یہ سب نہیں چلتا۔

آہ! ہماری پھوپھو قیصر بالکل ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ ”خدا غارت کرے اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو، بسے بسائے گھروں میں آگ لگا رہی ہیں

ہم کو ان کی کہی بات یاد آتی گئی ہم بولتے جا رہے اور روتے جاتے

جس ٹیبل پر میاں جی اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھے وہیں قریب میں رکھی پانی کی بوتل کو لپک کر اس سے دو گھونٹ پانی پیا اور پھر دوبارہ سے میاں جی پر دھوں دھوں شروع ہوئے

ارے! میں پوچھتی ہوں کہ، ان ذات کی نیچی اسٹار پلس کی جلے پاؤں کی بلیوں کو کنوارے چھوڑ کر شادی شدہ مرد ہی کیوں نظر آتے ہیں؟

پڑے رہو آپ اسی دوزخ میں
ہمارے منہ میں جو آیا ہم نے بس زور زور سے کہہ کر اپنی بھڑاس نکال دی

یہ سب کہہ کر ہم واپس اپنے کمرے کی طرف پلٹے اور کمرہ اندر سے بند کر کے تکیہ میں منہ ڈالے رونا پھر شروع

دکھ اور تکلیف میں آخر ہر کسی کو اپنی ماں ہی یاد آیا کرتی ہے لہذا ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا

ہائے اماں! ہمیں معاف کردیں بلاوجہ میں ہم نے خالہ شہناز کے بیٹے انور کو انکار کروا کر آپ کی نافرمانی کر ڈالی تھی

ابھی پچھلے ماہ ہی تو دیکھا تھا، اف! کتنی شان سے انور کی بیوی اپنی چمکتی ہوئی گاڑی میں ”ماریہ بی“ کا لیٹیسٹ ڈیزائن کا سوٹ پہنے اتری تھی، کیا زبردست میچنگ کی سینڈل اور خوبصورت ہینڈ بیگ اپنے کاندھے پر لٹکائے ہوئی تھی ضرور ”گوچی“ یا ”جافر جی“ سے کم تو رہا ہی نہیں ہوگا حالانکہ پہلے دن سے ہی ہمیں انور کی بیوی کا منہ تھوڑا ٹیڑھا ہی لگتا رہا ہے

تھوڑی ہی دیر میں ہماری سوچ میں خودبخود ماضی کی گزری وڈیوز اور آڈیوز چلنے لگی اور ہم مزید ڈوبتے چلے گئے

ہمیں ایک دم سے یاد آیا کہ انس بھائی کے بیٹے کے ولیمے میں بھی ہمارے میاں جی اچھے خاصے ہمارے ساتھ شرافت سے خاموش بیٹھے ہوئے تھے پھر ایک دم سے پانی پینے کے بہانے وہاں تشریف لے گئے جہاں عشرت کی بہن فرح پہلے سے ہی چند لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی جو بلاوجہ میں بس کھلکھلائے جا رہی تھیں،

نہیں نہیں فرح نہیں ہو سکتی اس کی تو خود کینیڈا والے ماموں کے بیٹے کے ساتھ منگنی ہوئی ہے

ابھی ہم ان سوچوں میں ڈوبے ہی ہوئے تھے اور اس طرح کی کئی وڈیوز اور آڈیوز ہمارے ذہن میں چل ہی رہی تھیں کہ اچانک ہمارے موبائل پر میاں جی کا میسیج آیا

” کمپنی کے سی ای او نے آن لائن میٹنگ کے دوران تمھاری آواز سن کر پوری ٹیم کو کل سے واپس آفس سے کام کرنے پر بلوا لیا ہے اور کہا کہ اب انہی حالات میں آفس آ کر کام کرنا ہے کیونکہ کرونا پاکستان میں اتنا خطرناک نہیں رہا، یہاں دوسرے حالات زیادہ خطرناک ہیں“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صبا الصباح کی دیگر تحریریں