پاکستانی اقلیتیں اور اسلامو فوبیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک فقیر کے آگے آگے ایک عورت چلتی جا رہی تھی۔ بناؤ سنگھار سے تو لگ رہا تھا کہ وہ کسی شادی یا خوشی کی تقریب پر جا رہی ہوگی ورنہ عام حالات میں عورتیں اتنا سجتی سنورتی ہی کب ہیں۔ عورت کے پیچھے پیچھے ایک بچہ جس کے تن پر کپڑے بھی پورے نہیں اور پاؤں میں جوتا بھی نہیں تھا۔ بچہ ماں کے پلو پکڑے عورت کے ساتھ ساتھ رہا تھا اور رو بھی رہا تھا۔ ایسے میں فقیر نے بچے کی طرف دیکھا اور عورت کو مخاطب کر کے بولا۔

بیٹی ذرا ڈھانپ کر چلو تم پیچھے سے ننگی ہو رہی ہو۔ عورت نے ایک نظر فقیر کی طرف دیکھا اوراپنا پلو سیدھا کر لیا۔ اس کے ساتھ قدموں کی رفتار تھوڑی اور تیز کردی۔ تھوڑا آگے چل کر فقیر نے پھر آواز لگا۔ بیٹی ذرا ڈھانپ کر چلو، تم پیچھے سے ننگی ہو رہی ہو۔ عورت نے دوبارہ اپنا پلو سیدھا کیا اور اپنے آپ کو دوبارہ اچھی طرح کور کر لیا۔ فقیر نے جب تیسری دفعہ وہی الفاظ کہے تو عورت سے رہا نہ گیا۔ عورت رکی اور فقیر سے کہنے لگی۔ بابا جی۔ میرا سب کچھ ڈھانپا ہو ا ہے پھر آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ننگی ہو رہی ہوں۔

فقیر نے اس ننگے، بے لباس اور گندے بچے کی طرف انگلی کر کے کہا۔ بیٹی! کیا یہ تیرا بچہ ہے۔ عورت نے کہا۔ جی با با جی۔ یہ میرا ہی بچہ ہے۔ فقیر مسکرایا اور کہا۔ تم خود اتنی بنی سنوری ہو اور تیرا بچہ بے لباس۔ ننگ دھڑنگ۔ تم کو ذرا بھی نہ لگا کے تم بے لباس ہو رہی ہے۔ بیٹی بچے عورت کا سنگار اور عورت مرد کا سنگار ہوتی ہے۔ اگر بچے ننگے، بے لباس اور بھوکے ہوں تو ماں لاپراہ۔ اور گھر کا سربراہ۔ ننگا، بے لباس اور قابل ترس ہوتا ہے۔

میرے سلطان۔ میری یہ بات آپ سمجھ تو گئی ہوں گے ؛ آپ کی سلطنت میں بالخصوص اقلیتیں پورے ملک کا صرف تین فیصد ہیں اور بالعموم وہ جو آپ کی سلطنت کے ستانوے فیصد ہیں جس کا کسی طور بھی مقابلہ نہیں کر سکتی ماسوائے اس کے کہ آپ یعنی ریاست ان کے ساتھ نہ ہو۔ لیکن میر ے سلطان آپ کی ریاست کے سارے ستون اقلیتوں کے ٹھٹھے اوڑھا رہے ہیں۔ یعنی آپ کے قاضی، آپ کے سپاہی، آپ کی بے بس نادرہ، آپ کی اعلی ٰ مذہبی قیادت۔ میرے سلطان آپ دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ دنیا آپ کے دین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ( جو کہ قابل مذمت ہے ) ہے۔

مذاہب کا احترام انسانیت کی بقا ء کے لیے لازم ہوتا ہے۔ آپ کے جذبات مجروع ہوئے یہ ساری دنیا کو پتا چل چکا ہے۔ اس لیے آپ کی سلطنت کے وہ آزادی شہری (اقلیتیں ) جن کو آپ کے آئین نے ذمی بنا رکھا ہے جب جب آپ سمیت ستانوے فیصد عوام کے جذبات مجروع ہوئے اقلیتوں نے ایک دوسرے کے کندے پر سر رکھ کر آپ کی خاطر آنسو بہائے۔ ستانوے فیصد کی آواز کے ساتھ آواز ملائی اورپورے ملک میں آپ کے ساتھ مل کر کر احتجاج ریکارڈ کروائے۔

اب اور کوئی حکم ہو عالی جاہ فرما دیں۔ لیکن آپ اور آپ کی سلطنت نے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ اقلیتوں کو کسی قلیدی عہدوں پر رکھ کر ملک کی فیصلہ سازی میں بھی جگہ دے دی جائے۔ مجھے معلوم ہے آپ کو اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ تین فیصد ملک پر قبضہ نہ کر لیں۔ حوصلہ رکھیں ایسا نہیں ہوتا۔ بھلا اپنے ملک پر بھی کوئی قبضہ کرتا ہے۔ اور ویسے بھی جس کو آپ اقلیتیں کہتے ہیں وہ پچھلے چار ہزار سال سے بھی پہلے یہاں رہ رہی ہیں۔

وہ کہیں سے ہجرت کر کے نہیں آئیں اگر کہیں ایسا ہوا بھی ہو تو کبھی کسی نے اپنے نام کے ساتھ کوئی لاحقہ لگا نے کی کوشش نہیں کی۔ ثبوت کے طور پر پورے پاکستان میں کوئی ایسا اقلیتی شخص دیکھا دیں جس نے اپنے نام کے ساتھ جلندری، لکھنوری، شیرازی، گیلانی، سہر وردی، لکھنوی اور بٹالوی وغیرہ لگایا ہو۔ اس لیے کہ یہ سب اسی مٹی سے پیدا ہوئے اور یہاں ہی دفن ہوں گے۔

میرے سلطان۔ مجھے یقین ہے ؛سرکاری طور پر ارطغرل غازی جیسے ڈرامے کی اردو ڈبنگ کروا کر اور نشر کرنے کایہ قتعاً مقصد نہیں تھا کہ اس ڈرامے سے متاثر افراد آپ کی سلطنت کے سب سے آبادی کے لحاظ سے کمزور ترین طبقے کے قتل کے درپے ہو جائیں گے۔ ان کی کمسن بیٹیوں کو اغوا کریں گے۔ اور پھر زبردستی ان کو مشرف بہ اسلام کر ینگے۔ ان چھوٹی چھوٹی بچیوں کے نکاح بالجبر کریں گے۔ آپ بخوبی جانتے ہیں یہ سیاسی طور پر یتیم طبقہ آپ کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے اور یہ بھی سچ ہے لیکن یہ یاد رکھیں ظلم کی بھی اک تاریخ ہوتی ہے۔ اور یہ تاریخ اقلیتیں نہیں بلکہ جبر خود تحریر کر رہا ہے۔ اوریہ لکھا جائے گا۔ کہ ستانوے فیصد نے تین فیصد کی بیٹیا ں اٹھائیں۔ ان کے گھر مسمار کیے ۔ اور ایمانی تسکیں کی خاطر ان کی عبادت گاہیں جلائیں۔ اور یہ بھی کہ کچھ لوگوں نے اس ظلم کو کروڑوں میں بیچا اور اپنے کھتے بھرے۔

میرے سلطان۔ ہم سب نے مر جانا ہے۔ ہمیں شہید مت کریں۔ ہم وطن پر شہید ہونے والے۔ وطن میں شدت غم سے مرنا نہیں چاہتے۔ دنیا کو اسلامو فوبیا ہوگا۔ لیکن اس میں آپ کی سلطنت عالیہ میں بسنے والی معاشی غر یب اقلیت کا کیا قصور۔ میں اور آپ بخوبی جانتے ہیں۔ خدا کمزوروں کی لڑائی لڑتا ہے۔ اور اگر ایسا ہو گیا تواس پر نہ آپ کی کوئی چلے نہ ہماری۔ باقی آپ کی مرضی۔ میرے سلطان آپ کا اقبال بلند ہو۔ اقلیتوں پر نہ سہی پاکستان پر ہی کچھ ترس کھا لیں۔ سلطنت ظلمت نئی عمارتیں تعمیر کر رہی ہے اس کو بچا لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •