سیسل چوہدری راؤنڈ اباؤٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


\"rubina یہ میری خوش قستمی ہے کہ وطن کے اس مایہ ناز فرزند سے مجھے چند ایک نہیں درجنوں ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ مگر پہلی بالمشافہ ملاقات اتنی فکر انگیز اور دلچسپ تھی کہ وہ بقیہ ملاقاتوں کا موجب بن گئی۔ کوئی پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ معززین شہر کی لمبی قطار ہاتھوں میں سرخ گلابوں کے ہار لئے اپنے قومی ہیرو کی سرگودھا آمد پر والہانہ استقبال کے لئے کھڑی تھی جن سے وہ باری باری مل رہے تھے۔ مجھے اتنی شفقت سے ملے کہ کسی طور بھی پہلی ملاقات کا گمان تک نہ گزرا۔ اور پھر مکالمہ کچھ یوں ہوا۔
’’ٹھہرو روبینہ! پنڈال میں جانے سے پہلے میں تمہیں ایک ذمہ داری دینا چاہتا ہوں، انتہائی چوق و چوبند انداز میں پلٹے اور سیدھا جا کر اپنی کار کی سٹیشنری سے بھری ڈِگی کھولی۔ \”یس سر\” میں نے بھی اتنی ہی سرعت مگر حیرانگی سے جواب دیا ’’یہ کتابیں اور کاپیاں تم نے بھٹہ سکول خوشاب کے بچوں تک پہنچانی ہیں تعلیم کا حق محفوظ کئے بغیر چائلڈ لیبر کیسے ختم ہوگی۔ اگرچہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر دور افتادہ علاقوں کے ان پسماندہ طبقات کی مدد ہمارا فرض بھی ہے ‘‘۔
پنڈال تک جاتے ہوئے وہ مسلسل بچوں کے حقوق پر گفتگو کرتے رہے۔ مائک پر پرُجوش اناؤنسمنٹ ہو رہی تھی۔ 1965ء اور 1971ء میں جرات وشجاعت کے بے مثال کارنامے دکھانے والے ہمارے قومی ہیرو اور مایہ ناز فائٹر پائلٹ جن کے سینے پر ایک نہیں دو تمغے’ ستارہ جرات اور ستارہ بصالت‘ سجائے گئے۔ پنڈال سیسل چوہدری زندہ باد پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ چوہدری صاحب کُرسی صدارت پر براجماں ہوئے۔ مقررین نے اظہارِ خیالات کا سلسلہ شروع کیا۔ موضوع گفتگو ’’پاکستانی اقلیتیں اور جداگانہ طرز انتخابات‘‘ تھا۔ چوہدری صاحب نے مجھے پاس بلا کر کہا ’’یہ کمپیئر میرا نام غلط تلفظ سے بول رہا ہے مجھے تقریر کے لئے تم بلاؤ گی‘‘۔ جی سَر میں ! میرا ادب اور ہچکچاہٹ بھرا جواب سوال بن گیا۔ ’’ہاں بیٹا تم کیمسٹری کی لیکچرر ہو میرا نام پرؤنانس کرنا تمہارے لئے تو مشکل نہ ہوگا ‘‘۔
بہت وقار سے ڈائس پر آتے مائک ایسے ہی ذمہ داری سے سنبھالا جیسے امرت سرمشن سنبھالا تھا۔ جذبہ حب الوّطنی سے معمور بارعب آواز گونجی ’’سرگودھا میرا گھر ہے ‘میں نے دونوں جنگیں سرگودھا سے ہی لڑیں۔ ہاتھ کا اشارہ بے اختیار سرگودھا ایئر بیس کی طرف ہوا اور پاکستان میرا دل ہے اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں اس لئے ہمیں ہر حال میں متحد ہو کر ایک قوم بننا ہے۔ حکومت کو فی الفور جداگانہ طرز انتخابات ختم کر کے مخلوط انتخابات رائج کرنا ہوگا اگر حکومت نے جداگانہ طرز انتخاب ختم نہ کیا تو اقلیتیں 2001ء کے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی۔ سرگودھا کے شاہینوں! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ یہ سرگودھا کی تاریخ بھی ہے اور روایت بھی‘‘۔ پنڈال کا جوش وخروش دیدنی تھا۔
چائے کی میز پر جب مجھے مزید گفتگو کا موقع ملا تو فرمانے لگے’’ روبینہ تم نے جداگانہ طرز انتخابات کے موضوع پر بڑا زبردست آرٹیکل لکھا ہے میں نے خود بھی پڑھا اور دوستوں سے بھی شیئر کیا اپنی لکھنے کی عادت کبھی نہ چھوڑنا چاہے جس زبان میں بھی لکھو میں زمانہء طالب علمی سے لے کر اب تک باقاعدگی سے ریڈرز ڈائجسٹ، ٹائم میگزین اور ڈان نیوز پیپر کے لئے لکھ رہا ہوں‘‘۔
پھر خوشگوار مگر تنبیہ کن انداز میں بولے لکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں زبان بھی سیکھ کر بولنی چاہیے تا کہ تلفّظ نہ بگڑے‘ مجھے جب انگریز کہتے ہیں کہ آپ انگلش بڑی اچھی بولتے ہیں تو میں کہتا ہوں تم انگریزی بولتے ہو میں نے انگریزی سیکھی ہے۔
شستہ انگریزی میں گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’تم استاد ہو اور اساتذہ ہمارے بچوں کو سب کچھ سکھا سکتے ہیں یعنی زبان کی اصلاح، انسانی حقوق کا احترام اور جذبہ حُب الوطنی‘ میں نے یہ سب کچھ اپنے استادوں سے ہی سیکھا۔ اگرچہ میرے والد ایف-ای چوہدری قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور میرا بچپن اپنے والدین سے پاکستان بننے کی کہانیاں سنتے گزرا۔ ایک ایسے مُلک کی کہانیاں جہاں سب انسانوں کے حقوق کا احترام اور تحفظ ہو گا لیکن میرے اندر حب الوطنی کا سچا جذبہ میرے سکول کے پرنسپل اور آئرش مشنری برادر ہنڈرسن نے پیدا کیا۔ وہ طالب علموں کو قومی ترانہ زبانی یاد کر کے صحیح طور پر گانے کے لئے صرف ایک ہفتہ دیتے اور جو یہ نہ کر پاتا اُسے کان پکڑوا کر چھ چھڑیاں لگانا نہ بھولتے تھے۔ بچپن میں قومی ترانے کے لئے جگائی گئی یہ محبت میری حب الوطنی کی مضبوط اساس بن گئی۔‘‘

چوہدری صاحب سے اس پہلی ملاقات نے یہ آشکارا کر دیا کہ وہ صرف مایہ ناز فائٹر پائلٹ ہی نہیں بلکہ ذمہ دار ماہر تعلیم اور متحرک ہیو من رائٹس ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ وہ بلا تفریق دوسروں کو حقوق دلانے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ انہیں ذمہ دار یاں سنبھالنے کا حوصلہ، سوچ اور اعتماد بھی دیتے ہیں۔
قسمت کی دیوی مجھ پر مہربان ہوئی تو پھر خوب ہوئی۔ اگلے کچھ مہینے مجھے چوہدری صاحب کی راہنمائی میں جداگانہ طرز انتخاب کے بائیکاٹ کی مہم چلانے کا موقع ملا۔ خصوصاً سرگودھا، خوشاب اور میانوالی میں ان کے ہمراہ یاد گار سفر کیے۔ دوران سفر وہ کبھی 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کی انمول یادیں شیئر کرتے تو کبھی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کی حکمت عملیاں بیان کرتے۔ ہم نے سرگودھا خوشاب، میانوالی میں ایسی بھر پور کیمپین چلائی کہ اقلیتوں کے 2001ء کے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ میں سرگودھا ڈویژن سر فہرست رہی۔ بعد ازاں انہی علاقوں میں ہم نے سماجی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا جہاں چوہدری صاحب کے فٹ پرنٹ موجود تھے۔
کمپین اتنی موثّر تھی کہ بالآخر جنرل پرویز مشرف کو مخلوط انتخابات رائج کرنا پڑے۔ چوہدری صاحب نے مجھے فون پر مبارکباد دی اور کہا ’’ہم تمہیں پیپلز پارٹی کی طرف سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب نامزد کر رہے ہیں ‘‘۔ ’’جی سر ؟‘‘ ادب اور ہچکچاہٹ بھرا جواب ایسے ہی سوال بنا جیسے پہلی ملاقات میں بنا تھا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں تسنیم احمد قریشی، ڈاکٹر نادیہ عزیز اور ملک شعیب اعوان کے ساتھ الیکشن کمپین چلائی تو ہر قدم پر چوہدری صاحب نے میری راہنمائی اور تربیت کی۔ میرے الیکشن نہ جیتنے کا انہیں بہت افسوس تھا مگر ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہتے ’’اس تجربے نے تمہیں جو سیاسی بصیرت اور سیاسی پہچان دی ہے اُسے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بروئے کار لاؤ ‘‘۔ ان سے جُڑی ان گنت یادوں میں وژن، جرات اور جدوجہد کا رنگ نمایاں عنصر ہے۔
میری ان سے آخری مُلاقات بھی اتنی ہی فکرا نگیز اور دلچسپ تھی جتنی پہلی ملاقات تھی۔ امریکہ میں پی ایچ ڈی کے دوران جب میں چھُٹیوں پر پاکستان آئی تو لاہور ائیر پورٹ سے سیدھا ان کے گھر گئی وہ اسی طرح شفقت اور تپاک سے ملے۔ چہرے کی تروتازگی اور کیمیو تھراپی کے باوجود سر پر گھنے بال دیکھ کر کسی کو گمان تک نہ ہوا کہ وہ کینسر کے موذی مرض سے کس دلیری سے لڑ رہے ہیں۔ وہی خوشگوار اندازِ گفتگو۔ ’’ہاں روبینہ ! تمہاری پی ایچ ڈی کب مکمل ہو رہی ہے بھئی جلدی واپس آؤ ہم ایک لیڈر شپ اکیڈمی بنائیں گے انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے ہمیں اس کی سخت ضرورت ہے پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے۔۔ ‘‘
گفتگو گھنٹوں جارہی رہی مگر اس بہادر قومی ہیرو کے چہرے پر نہ تھکن اور نہ ہی بیماری کی جھلک نظر آئی۔ اگر نظر آیا تو صرف دفاع پاکستان اور انسانی حقوق کے تحفظ کا جذبہِ لازوال جسے موت بھی نہ مٹا سکی۔
انسانی حقوق کے تحفظ کی یہ وراثت انہوں نے اپنے خاندان اور معاشرے کے لئے یکساں چھوڑی۔ آج ان کا بیٹا اور بیٹی دونوں انسانی حقوق کی دو مختلف تنظیموں کے ایگزیکٹو ہیں اور میرے جیسے کئی شاگرد بھی کیمسٹ سے ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بن گئے۔ اس مساوی وراثت کا احساس مجھے 11 اگست کو ہوا جب ان کے بیٹے سیسل شان چوہدری اور میں نے ایک ساتھ حکومت پنجاب سے انسانی حقوق کا ایوارڈ وصول کیا۔ اور یہ بھی اُس وراثت اجتماع کی بانٹ ہی ہے کہ آج یونیورسٹی روڈ اور پی اے ایف روڈ کے سنگم پر نصب سیسل چوہدری راؤنڈ اباؤٹ شہریوں کو یہ بصیرت بخشتا ہے کہ چاہے وہ دفاع پاکستان کے لئے انسانی حقوق کے تحفظ اور چاہے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے دفاع پاکستان کے جراتمندانہ سفر کی کٹھن راہوں پر چل نکلیں بات تو ایک ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply