ڈرے سہمے بچے اور غافل سماج
26 ستمبر کی ڈوبتی سہ پہر، نور محمد کی حویلی میں مٹی کے اونچے ڈھیر پر آلتی پالتی مارے بیٹھا 10 سالہ بچہ ساحل آس پاس سے بے نیا ز مٹی کے گھروندے بنا تا، گراتا اور قہقہے بکھیرتا۔ بے شک بچپن اتنا ہی معصو م اور لاپروا ہو تا ہے۔ قریب ہی دو نوجوان ساول علی اور محمد امین گلی سے ہاتھ کی ریڑھی پر مٹی بھر بھر کر حویلی میں لا رہے تھے اور حویلی کی گہرائی بتدریج
Read more
