ڈرے سہمے بچے اور غافل سماج

26 ستمبر کی ڈوبتی سہ پہر، نور محمد کی حویلی میں مٹی کے اونچے ڈھیر پر آلتی پالتی مارے بیٹھا 10 سالہ بچہ ساحل آس پاس سے بے نیا ز مٹی کے گھروندے بنا تا، گراتا اور قہقہے بکھیرتا۔ بے شک بچپن اتنا ہی معصو م اور لاپروا ہو تا ہے۔ قریب ہی دو نوجوان ساول علی اور محمد امین گلی سے ہاتھ کی ریڑھی پر مٹی بھر بھر کر حویلی میں لا رہے تھے اور حویلی کی گہرائی بتدریج

Read more

غربت، تعلیم اور بچوں سے مشقت

میں سیمینار کے اختتام پر جونہی سٹیج سے اتری ایک خوبرو نوجوان بجلی کی سی سرعت کے ساتھ میری طرف لپکا۔ ”ڈاکٹر صاحبہ! ٓپ نے مجھے پہچانا؟ میں آپ کے سکول میں پڑھتا تھا۔ میرا نام وسیم ہے۔ آپ نے جو سکول قالین باف بچوں کے لئے بنایا تھا۔ کیامیں آپ کو یاد ہوں؟ آپ جب بھی سکول آتیں میرے گریڈز دیکھ کر مجھے شاباش دیتیں۔ میں ایم فل کر رہا ہوں۔ ۔ ۔“ ۔ آنکھوں کی چمک اور الفاظ

Read more