کیا بلتستان نے الیکشن میں ”سٹیٹس کو“ توڑ دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان میں ہر جگہ 15 نومبر والے الیکشن زیر بحث ہیں۔ پہلی بار آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیت کر سامنے آئے ہیں۔ باقی اضلاع سے قطع نظر صرف بلتستان ریجن جس کے چار ڈسٹرکٹ ہیں، پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 04 آزاد امیدواروں نے معرکہ سر کر لیا اور پہلی بار اسمبلی کی سیڑھیاں چڑھ گئے ہیں۔ اس کو یار لوگ ”سٹیٹس کو“ کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آئے دیکھتے ہیں کہ صورتحال کیا رہی ہے۔

ضلع گانگچھے کے حلقہ نمبر 01 میں جب سے ہمیں یاد ہے پیپلز پارٹی کے محمد جعفر یا محمد ابراھیم، ثنائی ( پہلے ق لیگ پھر نون لیگ) جیتے آرہے تھے۔ اسی حلقے میں اب کے الیکشن میں مشتاق حسین بطور آزاد امیدوار پہلی بار آئے اور دونوں پرانے سیاست دانوں کو سیاسی منظر نامے سے نکال باہر کر دیا۔ گانگچھے کی ہی حلقہ نمبر 02 میں کبھی غلام علی حیدری اور کبھی محمد اقبال اور بعد ازاں آمنہ انصاری اور غلام حسین کا نام چلتا تھا۔ اب کی بار حاجی حمید جو کہ بطور آزاد امیدوار سامنے آیا اور غلام علی حیدری ( پیپلز پارٹی) ، آمنہ انصاری ( تحریک انصاف ) اور غلام حسین (ن لیگ) کو شکست دے گیا۔ البتہ حلقہ نمبر 03 میں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل چھٹی بار مسلسل جیت گئے ہیں۔

اب ذرا ضلع کھرمنگ پر نظر ڈالیں تو یہاں کبھی سید اسد زیدی شہید کا سکہ چلتا تھا تو کبھی سید محمد علی شاہ کا شملہ اونچا رہتا۔ 2015 کے الیکشن میں دو نئے چہرے سید امجد زیدی اور اقبال حسن سامنے ائے اور نون لیگ کے اقبال حسن نے میدان مار لیا اور وزیر بھی بننے۔ مگر 2020 کے الیکشن میں سید امجد زیدی نے نشت اپنے نام کرلی۔ جبکہ ضلع شوگر میں صورتحال جوں کی توں رہی ہے۔ کبھی پیپلز پارٹی کے عمران ندیم تو کبھی راجہ اعظم خان یوں اس ضلع میں بڑے عرصے سے کوئی نیا چہرہ سامنے نہ آسکا۔

رہی بات ضلع سکردو کی چار نشستوں کی تو اس بار یہاں بڑا زلزلہ آیا ہے۔ سب سے زیادہ تبدیلی کی لہر اسی ضلع میں چلی اور بڑے بڑے درخت اکھاڑ لے گئی۔ سکردو حلقہ نمبر 03 سے فدا محمد ناشاد (تحریک انصاف) ، وزیر وقار (پیپلز پارٹی) اور وزیر سلیم بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے۔ اس حلقے میں فدا محمد ناشاد صاحب عرصہ دراز سے جیتے چلے آرہے تھے۔ انھوں نے ضلع کونسل کی چیرمین شپ سے لے کر ناردرن ایریاز کونسل کے ڈپٹی چیف اور گزشتہ اسمبلی کے سپیکر کا عہدہ تک اپنے نام کیا۔ اس بار کے الیکشن میں ان کا سامنا دونوں نوجوان اور کم تجربہ کار مخالف امیدواروں سے تھا۔ اکثریتی رائے تھی کہ اس بار بھی ناشاد صاحب الیکشن جیت جائیں گے اور غالباً نئی اسمبلی کے وزیر اعلیٰ ہونگے مگر ہوا ایسی چلی کہ آزاد امیدوار وزیر سلیم سب کو حیران کر گئے اور نشت جیت گئے۔

حلقہ نمبر 01 جو کہ سکردو کا میونسپل ایریا ہے یہاں کبھی پروفیسر سلیم تو کبھی پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ اور پھر بعد ازاں وزیر ولایت اور نون لیگ کے محد اکبر تابان بھی معرکے سر کرتے رہے۔ اسی حلقے سے 2009 میں الیکشن جیت کر سید مہدی شاہ اس وقت کی صوبائی اسمبلی میں پہلے وزیر اعلی بنے۔ 2015 کے الیکشن میں نون لیگ کے محد اکبر تابان نے نشت اپنے نام کر لیا اور سینئر منسٹر ہوئے۔ اب کے 2020 کے الیکشن میں سید مہدی شاہ اور محمد اکبر تابان کے مدمقابل راجہ زکریا خان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر آئے اور دونوں یعنی سابق وزیر اعلی اور سینئر منسٹر کو ہرا بیٹھے۔

سکردو کے حلقہ نمبر 02 میں کبھی آغا محمد عباس تو کبھی شیخ نثار سرباز پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے اسمبلی کے ممبر بنتے گئے۔ 2015 میں ایک نوجوان کاچو امتیاز نے ان دونوں متذکرہ پرانے سیاست دانوں کو آؤٹ کر دیا۔ اور اب 2020 کے الیکشن میں ایک اور نئے تعلیم یافتہ نوجوان کاظم میثم نے وحدت المسلمین کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر کاچو امتیاز اور پیپلز پارٹی کے آغا محمد علی شاہ کو میدان سے باہر کی راہ دیکھا دی۔

ضلع سکردو کے حلقہ 04 روندو میں کبھی کپٹن سکندر ق لیگ تو کبھی وزیر حسن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں ممبر رہے۔ 2015 میں کپٹن سکندر تحریک اسلامی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور پیپلز پارٹی کے وزیر حسن اور نون لیگ کے ایڈووکیٹ غلام عباس کو ہرا کر چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنے۔ لیکن 2020 کا الیکشن کچھ اور کہہ گیا۔ وزیر حسن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر آئے، غلام عباس نون لیگ کے ٹکٹ پر جب کہ کپٹن سکندر حسب سابق تحریک اسلامی کے ٹکٹ پر مگر ایک نوجوان راجہ ناصر علی خان جو کہ آزاد اور پہلی بار الیکشن لڑ رہے تھے سب کو بہا کر لے گیا اور اگر پہلے نہیں تو دوسرے کم عمر ممبر اسمبلی بنے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو بلتستان ریجن میں ایک درجن کے قریب معروف اور کئی بار الیکشن جیتنے والے سیاست دان اب کی بار نئے چہروں کے ہاتھوں اپنی اپنی سیٹیں کھو بیٹھے ہیں۔

شکست کی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں مگر عام عوامی رائے یعنی سٹریٹ وزڈم کا خلاصہ کیا جائے تو دو بڑے پہلو سامنے آتے ہیں۔

شکست خوردہ امیدواروں کی اکثریت ہر بار الیکشن کے قریب پارٹی بدل لیتے تھے جس کی وجہ سے ان کے ووٹروں کو دفاع کرنا مشکل پڑ رہا تھا۔ اس بار خاموش عوام کی اکثریت نے بار بار پیراہن بدلنے کے رجحان کو برا سمجھا اور اس بدعت کی بیخ کننی کی۔ دوسری جانب ایسے سیاست دان جو بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم پھر تے رہے اور اپنے حلقے کے صرف بالائی طبقہ سے ہی راہ ؤ رسم رکھا اور کامیابی کی خوشی فہمی میں رہے اور وہ ادراک نہیں کر پائے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔ یوں ردعمل کے طور پر عام آدمی جو کہ مزدور، دیہاڑی دار، غریب، بلائی طبقہ سے نالاں اور معاشی و سماجی طور پر کچلا ہوا ہے نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسے امیدواروں کو غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔ اب کیا آگے ان محروم طبقات کی بھی سننی جائے گئی یا ان کی اذان صدا بہ صحرا ثابت ہوگی یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •