اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ اول)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"waqar

گرمیوں کی شکر دوپہر تھی۔ طویل دن کٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کی بیٹھک میں بیٹھا تھا۔ اور اس کے ساتھ بیٹھنا معمول تھا تو ایسے تعلق میں خاموشی کے طویل وقفے بھی ملاقات کا حصہ ہی تصور ہوتے ہیں۔ موبائل تب نہیں آئے تھے کہ خاموشی کے وقفے ان پر صرف ہوں۔ اس دوران سر پیچھے کی جانب کرسی پر ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی جاتیں اور خیالات میں غوطہ زن ہو جاتے۔ ایسے ہی ایک طویل خاموشی کے وقفے کو توڑتے ہوئے دوست نے مجھ سے کہا،

تخیل کو حقیقت کے احساس میں تبدیل کر کے سوچنا ایک صلاحیت ہے، آپ میں وہ صلاحیت کس قدر موجود ہے؟ اگر میں آپ کو ایک منظر یا کیفیت بتاؤں تو کس حد تک آپ اس کو اپنے اوپر یوں اثر انداز کر سکتے ہیں کہ حقیقت لگے

لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پنکھا پچھلے ایک گھنٹے سے بند تھا۔ میرے دوست کے مسلسل گرتے پسینے نے اس کے چہرے کے خدوخال میں مستقل راستے تلاش کر لیے تھے اور انہی راستوں سے بہتا تھا۔ مجھے لگا کہ ان کے اس سوال کا پیش خیمہ شدید گرمی ہے اور دماغ کی خالی فضا سے اس قدر ہونق ہو گئے ہیں کہ فقط جمود کو توڑنے کے لیے انہوں نے یہ سوا ل داغا ہے۔

لیکن انہوں نے دوبارہ سوال کیا۔ سوال کی عبارت یوں ہی رکھی فقط میری کند ذہنی کے شائبے کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ چھ فقرے شرح کے ڈال دیے۔

میں نے اقرا ر کیا کہ ہاں کسی حد تک۔ بلکہ اس حد تک کہ جہاں موجودہ حقیقت بھولنے کے پاس پاس ہو جاتی ہے۔

دوست کے سگریٹ کے سر سے نکلتی دھوئیں کی لکیر اس کی دونوں آنکھوں کے مابین، کمال نظم سے اٹھتی تھی۔ کہنے لگے، اگر میں یہ کہوں کہ وہ سامنے جو پیلے رنگ کا گھر نظر آ رہا ہے اور اس میں ایک ٹاہلی کا درخت ہے، اس ٹاہلی کے درخت کے نیچے رسول پاکؐ بیٹھے ہیں، اور اگر آپ میری اس بات کو خیال نہ سمجھیں اور حقیقت کا احساس اپنے اوپر طاری کر لیں۔ تو۔

تو کیا۔ ؟
میں کشش ثقل سے قریبا آزاد ہو چکا تھا
آپ کا ممکنہ رد عمل جاننا چاہتا ہوں؟ اس لیے پوچھا ہے؟

میں نے کہا، محترم آپ کے تبحر علمی کا کیا مقابلہ؟ لیکن پھر بھی ہارٹ اٹیک کے لیے کئی آزمودہ نفسیاتی نسخے میرے پاس بھی موجود ہیں، اگر حکم کریں تو پیش کروں ان میں سے کوئی کیوں نہیں آزماتے؟

مسکرائے اور میں نے دیکھا کہ انہوں نے پشت صوفے سے جدا کر لی ہے اور آگے ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کی اس حرکت نے ان کے چہرے پر گرتے پسینے کے راستے یکسر تبدیل کر دیے تھے۔ بجلی ابھی نہیں آئی تھی لیکن ان کی توجہ میں روشنیوں کے جھماکے صاف نظرآتے تھے، مجھے مکمل احساس ہو گیا تھا کہ۔  ٹلنے والی نظر نہیں آتی۔ یہ بلا

میں نے تھوڑی دیر کیفیت کو طاری کیا اور کہا کہ۔
بھاگ جاؤں گا، زیادہ سے زیادہ رفتار سے مخالف سمت دوڑ لگا دوں گا۔
بالکل مخالف سمت بھاگوں گا۔ پیچھے مڑ کر دیکھوں گا بھی نہیں!
اب مغل صاحب صوفے سے اٹھ کر ٹہلنا شروع ہو گئے۔ پوچھنے لگے۔ جاننا چاہوں گا۔ کیوں؟

میں نے کہا۔ دیکھئے میں نے کیفیت طاری کی اور جو محسوس کیا آپ کو بتا دیا،
ہاں پس خیا ل ایک اور خیال بھی ہے کہ یہی کوئی دو کلومیٹر کی مسافت طے کی ہو گی کہ پیچھے سے کسی کی پکا ر سنوں گا۔ کوئی بدو سر پٹ میرے پیچھے دوڑتا مجھے آوازیں دے رہا ہو گا۔ اور صحرا کی تکلیف دہ تربیت اس کے کام آئے گی۔ مجھے آ لے گا۔ ہانپ رہا ہو گا اور تیز چلتی سانس کے کسی درمیانے وقفے میں۔ صرف اتنا کہ پائے گا۔
“وہ بلا رہے ہیں“

امم۔ پھر۔ پھر کیا کریں گے آپ؟
کیا کروں گا، دھڑکتے دل کے ساتھ بدو کے پیچھے ہو لوں گا
ہو لیے پھر۔ ؟

پھر کچھ نہیں۔ اب یہ موضوع بند۔ یہ بتائیں شام کو خان کی چائے والے ہوٹل پر اکٹھ ہے آج؟
اور یہ کہتے ہوئے میں نے دوست کا چہرہ دیکھا۔ لال سرخ تھا، گرمی کی وجہ سے یا شاید گرمئی خیال کی وجہ سے۔

شام کی شام کو دیکھیں گے۔ دوست نے کہا
میں تقریبا ہتھیار ڈال چکا تھا۔ میں نے کہا پھر کیا؟ وہ جہاں بیٹھے ہوں گے وہاں چلا جاؤں گا
پھر کیا ہو گا؟ پہلی دفعہ ایک ایسے شخص کو دیکھنا کہ جس پر آپ بچپن سے درود پڑھتے ہوں۔
میں جاننا چاہوں گا کہ وہ چہرہ جب پہلی دفعہ نظر آئے تو کیا کیفیت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے پوچھا۔
میں نے کہا، میرا یقین ہے کہ شاید میں نہ دیکھوں اور ایسے ہی نظریں جھکا ئے پاس جا بیٹھوں گا!
امم اور بات کیا کرو گے؟

کوئی بات نہیں کروں گا۔ میں بولا
اور اگر انہوں نے کہا کہ کچھ بولو، تو؟ خاموشی کیا پھر بھی مستحسن ہو گی؟

میرے دوست کے ہاتھ میں تلوار تھی، پچھلے قدموں آتے آتے، پشت پر مجھے دیوار محسوس ہوئی۔ اب میں تقریبا نکڑ سے لگ چکا تھا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ نکڑسے لگا شخص کیسے ننگی تلوار کی دھار پر بھی ہاتھ رکھ لیتا ہے
میں نے کہا۔ سن اوئے مغل۔ سن۔
اب سن۔

میں کہوں گا، یارسولؐ اللہ، مجھے ام ایمنؓ بہت یاد آتی ہیں، کیا بڑی عورت تھیں، میں یاد کرتا ہوں آپؐ کے اس سفر کو کہ جب آپؐ کی عمر پانچ سال تھی اور اپنی والدہ کے ساتھ، والد کی قبر پر گئے تھے۔ واپسی پر میں چشم تخیل میں دیکھتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا بچہ، بچے کی ماں اور ام ایمن۔ صحرا عبور کر رہے ہیں، ابوا کے مقام پر آپؐ کی والدہ وفات پا گئیں اور اب ام ایمنؓ ہیں اور آپؐ۔ اور پھر ام ایمن ؓکے ساتھ آپؐ وہ صحرا عبور کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ایک پانچ سال کے بچے کی کیفیت کیا ہو گی جو اپنے پیچھے دو قبریں چھوڑ کر آ رہا ہے۔ اور پھر آخری حج کے موقع پر بھی آپؐ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور سنتے ہیں کہ آپؐ بہت روئے تھے۔ ہچکیوں کے ساتھ۔ یا رسولؐ اللہ ہچکیوں کے ساتھ تو بچے روتے ہیں۔ آپؐ تو اتنے بڑے تھے اور پھر بھی ہچکیوں کے ساتھ روئے تھے، مجھے آپؐ کی زندگی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے یا رسولؐ اللہ۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے بچپن کی کچھ تصویریں آپؐ نے اپنی پوری زندگی دل میں رکھیں اور آخری عمر تک یاد کرتے رہے۔

آپؐ کس قدر فخر سے کہا کرتے تھے، ” میں بنی سلیم کی کریم خواتین کا فرزند ہوں“

اور۔ یا رسول اللہ، ام ایمنؓ کیا خوش قسمت تھیں کہ آپؐ کے سر پر اپنا ہاتھ رکھتیں تھیں۔ اور آپؐ ام ایمنؓ کو ماں کہ کر بھی پکارتے تھے۔ پھر جب آپؐ کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی تو آپؐ نے ام ایمنؓ کی شادی عبید ابن زیدؓ سے کرا دی۔ جس سے ایمنؓ بیٹا پیدا ہوا۔ پھر عبید ابنِ زیدؓ اور ایمنؓ دونوں شہید ہو گئے اور آپؐ نے ایک دن کہا کہ کیا تم میں سے کوئی ہے جو جنت کی عورت ام ایمنؓ سے شادی کر لے۔ اور پھر زید بن حارثؓ آگے بڑھے۔

اور پھر کیا خوبصور ت اور خوش قسمت بچہ پیدا ہوا۔ اسامہ بن زیدؓ۔ کہ آپؐ مجلس میں بھی ہوتے تو اسامہؓ آپؐ کی گود میں ہوتے اور آپؐ اس کی بہتی ناک صاف کرتے اور کہا کرتے۔ کہ اگر اسامہؓ بیٹی ہوتی تو اس کے کانوں میں بالیا ں پہناتا۔

اور بیٹیوں کی بھی عجیب بات ہے، کہ آج ہم میں سے کچھ پڑھے لکھے لوگ بیٹیوں سے محبت تو کرتے ہیں لیکن جو احترام اور محبت آپؐ نے دی وہ تصور بھی نہیں کرتے۔ آپؐ اس دور میں یہ سب کرتے تھے کہ جب بیٹیاں زندہ درگور ہوتیں تھیں۔ اور جب آپؐ بیٹی کو آتا دیکھتے تو احترام میں کھڑے ہو جاتے، اپنی چادر بچھاتے، بیٹی کے ہاتھ پر بوسہ دیتے۔ بیٹی کو بٹھاتے اور پھر خود بیٹھتے۔
اور پھرایسا بھی تو ہوا تھا کہ آپؐ بیٹی کے گھر تشریف لے گئے اور بیٹی نے کسمپرسی کا عالم بتایا کہ گھر کھانے کو کچھ نہیں ہے اور حسنؓ، حسینؓ بھوکے ہیں۔

تو آپؐ کا جواب جب یاد آتا ہے تو خنجر دل میں لگتا ہے۔ ’ کہ مت رو بیٹی، تمھارا باپ تین دن سے بھوکا ہے۔ ‘

۔ اور پھر یا رسول اللہ۔ یہ آپؐ کی نواسی امامہ بنت زینبؓ والا معاملہ بھی سمجھ نہیں آتا۔ آج کے دور میں تو یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ نماز کے وقت نواسی کندھوں پر سوار ہو اور رکوع کرتے وقت آپؐ اس کو نیچے کھڑا کر دیں اور رکوع و سجود سے فارغ ہو کر جب دوبارہ حالت قیام کی جانب آئیں تو دوبارہ نواسی کو کندھے پر چڑھا لیں۔ اس طرح تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ اوقات نماز میں بھی آپؐ امامہ بنت زینبؓ کو جدا نہیں کرتے تھے۔

طائف میں بچوں کا ایک گروہ جب آپؐ کو پتھر مار رہا تھا تو۔ یا رسول اللہ آپؐ منع تو کر دیتے۔ پتھر کھاتے رہے۔ حضرت زیدؓ نے بڑھ کر پتھر مارتے بچوں کو آپؐ سے دور کیا۔

میرے خیالات میں کوئی ربط نہیں ہے پھر آپؐ کا بچپن یاد آ گیا۔ عبدالمطلب بھی چلے گئے، تو میں وہ واقعہ جب بھی سوچتا ہوں تو بہت دکھی ہوتا ہوں کہ اب آپؐ کی پرورش کا ذمہ ابو طالبؓ کا ہے اور حضرت ابو طالبؓ تجارت کی غرض سے شام جانے لگے ہیں، قافلہ تیار ہے۔ اور آپؐ، کہ اتنی سی زندگی میں اتنے دکھ دیکھ چکے ہیں، دوڑتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں اور زار و قطار روتے ہوئے حضرت ابو طالبؓ کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ یا رسول اللہ آپؐ کے دکھ کو میرا تصور نہیں پہنچ سکتا لیکن ایسے ہی ایک اندازہ سا ہوتا ہے، تبھی تو تنہائی میں اس واقعہ کو یاد کر کے میری آنکھیں بھیگتی ہیں۔ وہ بچہ جو والد، والدہ، دادا کو کھو چکا ہے۔ وہ چچا کو ایسے کیونکر آسانی سے دور جانے دے گا اور پھر آپؐ کے چچا کا جملہ یاد آتا ہے، ’ خدا کی قسم میں اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور آئندہ کبھی اس کو اپنے سے علیحدہ نہیں رکھوں گا‘۔

اور پھر آپؐ قافلے کے ساتھ چلے، مجھے نہیں معلوم، نو سال کا بچہ، قافلے کو، قافلے والوں کو اور آس پاس مناظر کو کیسے دیکھتا ہو گا، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ چچا بھتیجا، سفر کاٹنے کے لیے آپس میں کیا باتیں کرتے ہوں گے، ہاں یہ معلوم ہوا کہ بصریٰ میں ایک جگہ آپؐ کے قافلے نے قیام کیا تھا جہاں آپؐ اونٹ چرا رہے تھے جب آپؐ کو ایک شخص بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ دانا، اور مروجہ علوم کا ماہر بحیرا، پوچھتا تھا کہ اس بچے کا ولی کون ہے؟ اور حضرت ابو طالبؓ نے کہا تھا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ تو بحیرا نے کہا کہ نہیں یہ بچہ تمھارا نہیں ہے۔ اس بچے کے باپ کو زندہ نہیں ہونا چاہیے، نشانیاں بتاتی ہیں، تو اس پر آپؐ کے چچا نے کہا۔ ہاں یہ میرا بھتیجا ہے۔ پھر میرے علم میں نہیں کہ آپؐ نے بحیرا کی حضرت ابو طالبؓ سے منت سماجت سنی یا نہیں، کہ اس بچے کو آگے لے کر نہ جاؤ، خدا کا واسطہ ہے اس کو واپس بھیجو۔ اور پھر بحیرا نے سات مشکوک آدمی دیکھے تھے جو ارادے کے نیک نہ تھے اور پھر بحیرا نے ان کو دلائل سے سمجھایا تھا۔ آپؐ کو حضرت بلالؓ کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا۔

میں سوچتا ہوں یا رسول اللہ، وہ بحیرا کتنا اچھا آدمی تھا جس نے آپؐ کو واپسی کے سفر کے لیے کھانے کا سامان دیا تھا اور۔ اس میں زیتون کا تیل بھی تھا۔

اور واپسی کے سفر میں مکہ تک نہ جانے آپؐ کیا سوچتے ہوں گے؟

اور پھر یا رسول اللہ، عفیف بھی کیا خوش قسمت انسان تھا، اس کی آنکھیں کیا خوش نصیب تھیں جنہوں نے دنیا کا خوبصورت ترین منظر دیکھا، عفیف سے ہی سنا کہ ’ وہ مکہ آیا اور عباس بن عبدالمطلبؓ کا مہمان ہوا، اس نے ایک صبح دیکھا کہ ایک جوان، کعبہ کی جانب آیا، اس نے آسمان کی جانب دیکھا۔ پھر ایک لڑکا آیا اور وہ بھی کھڑا ہو گیا اور پھر ایک عورت آئی اور وہ بھی کھڑی ہو گئی۔ وہ کوئی عبادت کر رہے تھے، عفیف نے عباسؓ کو کہا یہ تو بڑی اہم بات ہے جو ہو رہی ہے، عباس نے کہا جانتے ہو یہ کون ہیں؟ عفیف نے کہا نہیں، میں نہیں جانتا۔ یہ جوان محمدؐ بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے اور میرا بھتیجا ہے اور جانتے ہو یہ لڑکا کون ہے؟ عفیف نے کہا، میں نہیں جانتا۔ عباس نے کہا یہ علی ؓبن ابو طالب بن عبدالمطلب ہے اور میرا بھتیجا ہے۔ اور یہ عورت خویلد کی بیٹی خدیجہؓ ہے اور میرے بھتیجے محمدؐ کی بیوی ہے۔
عفیف نے عباسؓ سے کہا۔ یہ کیسا مذہب ہے؟ میں تو اس سے ناواقف ہوں
عباسؓ نے جواب دیا۔ بھتیجے نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ تمھارا رب وہ ہے جو آسمان کا رب ہے اور اس عبادت کا جو یہ اس وقت کر رہے ہیں یہ حکم اسی نے دیا ہے اورخدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ تمام روئے زمیں پر اس مذہب پر ان تینوں کے علاوہ اور بھی کوئی ہے؟
اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ میرا دوست اور میں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے سے اجتناب کرتے تھے۔
میں نے بات جاری رکھی۔

اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ دوئم)۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 158 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو (حصہ اول)۔

  • 10/12/2016 at 10:30 pm
    Permalink

    I wish Waqar Ahmad Malik ki tarah mein bhi haq apna kuch farz adaa kar sakta…….

    Allah aapko khush rakhay, aur aasaaniyaan ataa farmaaye.

Comments are closed.