اٹھارہ سالہ دشمنی: وطن عزیز میں معززین علاقہ نے صلح کروا دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح ناشتہ کے بعد کمپیوٹر پر پاکستانی اخبار جنگ نکالا۔ تو انٹرنیٹ ایڈیشن میں فیصل آباد کی خبریں دیکھتے ایک ”خوش گوار“ خبر نے چونکا دیا۔ یہ چھبیس مارچ دو ہزار چھ کا دن تھا۔ خبر بتا رہی تھی کہ سابق آئی جی جیل خانہ جات ناصر وڑائچ اور معززین علاقہ کی کوششوں سے 209 رب کے دو خاندانوں میں اٹھارہ سالہ دشمنی ختم کرا کے صلح کروا دی گئی ہے۔ اور حاجی محمد ریاض کے قاتل ثاقب عرف ثاقی کو۔ جو پھانسی کا منتظر تھا۔ حاجی محمد ریاض کے ورثاء نے معاف کر دیا ہے۔

پاکستان کے اسلامی حدود کے قانون کے دیت اور قصاص کے اصول کے تحت یہ فیصلہ کتنا خوش کن تھا۔ قاتل کو معافی۔ دو خاندانوں میں صلح۔ ورثاء کی فراخ دلی۔ مگر مجھ پر جیسے بجلی گری ہو۔ میرا لقمہ حلق سے اترنے سے انکاری تھا۔ اور یا اللہ خیر یا اللہ خیر کی دعا نکل رہی تھی۔

(2)

فروری دو ہزار چھ کی ایک صبح انٹر نیٹ پر اسی طرح اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک افشین عثمان آن لائن ہو گئیں۔

” ارے بیٹی بہت عرصہ بعد رابطہ کیا۔ کہاں ہو۔ تمہارے خاوند کی تعیناتی کہاں ہے۔ امی بھائی وغیرہ کیسے ہیں۔“ میں نے بے شمار سوال اکٹھے داغ دیے۔ جو جواب ملا مختصراً یہ تھا۔ ”انکل آپ کو آن لائن دیکھا تو رہا نہیں گیا۔ ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ ہم پر بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے۔ دو ہفتہ قبل بھائی زید کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اور اغوا کنندگان نے مطالبہ کیا ہے۔ کہ ماموں ریاض کے قاتل کو معاف کر کے رہائی دلواؤ ورنہ زید کی لاش کے ٹکڑے ملیں گے۔

” اس سے اور کچھ لکھا نہ گیا۔ فوراً سلیم کے بڑے بھائی ڈاکٹر اشرف چوہدری ( اب مرحوم ) سابق پروفیسر قائد اعظم یونیورسٹی جو شکاگو آ چکے تھے۔ کو فون کر کے تفصیل لی۔ اور پھر بھابھی ریحانہ سلیم کو کال کیا۔“ بھائی جی لئیق۔ یہاں فون نہ کیجئے۔ ہر فون وہ سنتے ہیں۔ بس دعا کیجئے۔ ہم نے ہر مطالبہ مان لیا ہے وہ کہتے ہیں پہلے معافی نامہ لکھو۔ ہم کہتے ہیں پہلے بیٹا واپس کرو۔ بھائی لئیق۔ میں منع کرتی تھی آپ کو۔ بھائی ملک نہ چھوڑو۔ اب میرا بیٹا واپس زندہ آ جائے۔ نکال دوں گی ان کو ملک سے۔ دعا کیجئے سلامت نکل جائیں ہم۔ ”

فروری کے دوسرے ہفتہ میں زید کے زندہ واپس گھر پہنچ جانے کی خوش خبری مل گئی۔ معززین نے صلح کی ضمانت دی تھی۔

( 3)

افشین عثمان کے والد چوہدری سلیم اختر میرے کالج کے روز اول سے بنے دوست بعد میں علاقہ مریدوالا ماموں کانجن کی با اثر اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ میاں بیوی ضلع کونسل کے ممبر رہے۔ ماموں کانجن مارکیٹ کمیٹی کے چیئر مین رہے۔ جب تک میری دکان فیصل آباد سرکلر روڈ پر رہی۔ ان کا سب آفس رہی۔ حاجی محمد ریاض کے والد محترم ( چوہدری سلیم کے خسر ) کارخانہ بازار سے غلہ منڈی داخل ہوتے ہارڈوئیر کی دکان کرتے اور ریاض بھی کئی مرتبہ آ جاتے۔

پیاری اور با رعب مگر دھیمی طبیعت کے جوان رعنا کی حیثیت سے ان کی شکل میرے ذہن میں محفوظ تھی۔ سلیم کی چھوٹی بیٹی افشین میری چھوٹی بیٹی کی کلاس فیلو اور دوست۔ حاجی ریاض کو گاؤں میں زمین کے تنازعہ پر شاید انیس سو اٹھاسی کے لگ بھگ قتل کر دیا گیا تھا۔ اور کیس کی زیادہ تر پیروی سلیم نے پوری محنت سے کی۔ اور قاتل کو سزائے موت سنائی گئی۔ شاید میرے پاکستان سے آنے کے بعد تمام اپیلوں کے باوجود یہ سزا برقرار تھی۔ اور چوہدری سلیم دو ہزار پانچ میں ہیپاٹائٹس کے باعث خدا کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔

” تو گویا یہ یوں ہے“ جنگ میں شائع شدہ اٹھارہ سالہ دشمنی ختم کرا دینے کی قابل فخر خبر میرے سامنے تھی اور میں سوچ رہا تھا۔ حاجی ریاض مقتول مرحوم کی بہن ریحانہ سلیم ان دنوں میں کتنی بار مری۔ زید کے بیوی اور بچوں کا لہو کتنی بار خشک ہوا۔ زید کے بھائی اور بہنوں کے بین کہاں تک پہنچے۔ قانون کہاں رہا۔ اور صلح کرانے والے معززین کی خدمات کے لئے کیا کچھ ہوا کینیڈا میں بیٹھے مجھے کچھ علم نہ تھا۔ ہاں صلح کی خبر پڑھ لی تھی۔ اخبار اٹھارہ سالہ دشمنی ختم ہو نے کی نوید سنا رہا تھا۔

( 4)

وقت گزرتا گیا۔ افشین اور بھابھی سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ پڑتی۔ دو چار سال بعد پتہ چلا کہ جب مجاز عدالت کے سامنے قاتل کی رہائی کے لئے صلح نامہ رکھا گیا تو یا تو قاتل کے نصیب یا قدرت کہ شک پڑنے پر صلح کا پس منظر سامنے آ گیا یا کیا ہوا تفصیل کا مجھے علم نہیں البتہ قاتل کی سزا برقرار رہی اور اسے پھانسی دے دی گئی۔

ادھر اغوا کنندگان بھی کسی پولیس مقابلہ کا شکار ہو گئے۔

دو تین دن قبل یونہی دل چاہا تو افشین بیٹی کو پیغام دیا کہ شکل دیکھنے کا جی چاہتا ہے تو تھوڑی دیر بعد وہ ویڈیو کال پر موجود تھی۔ باتیں کرتے اچانک میرے ذہن میں چند دن قبل پرانے کاغذات چھانٹتے نظر سے گزرا جنگ کا یہ تراشہ آ گیا اور پوچھ بیٹھا۔ ”تو بیٹا ہاں وہ آپ کے ماموں کے بچے کیسے ہیں“

” انکل آپ کو نہیں پتہ ماموں ریاض کا بیٹا احسن بھی قتل کر دیا گیا تھا“ اس کی آواز گلو گیر ہو گئی تھی۔ اور میں بولنے سے عاری۔ اور فون بند کر دیا۔

اب دعا گو ہوں کہ پاکستان کے قصاص قانون کے تحت پھر کوئی معززین کی کی کرائی گئی صلح کی خبر نہ سننا پڑے۔

قوم ہر روز نیا جشن منا رہی ہے ابھی مڑھ بلو چاں میں جمعہ کی نماز پڑھ کرنکلنے والوں پر فائرنگ اور قتل کا جشن بی بی سی پر پڑھ کے ہٹا ہوں۔ پہلے پشاور میں کامیاب جہاد کی خبریں آئی تھیں

ہم جیسے پاگل ملک چھوڑ بس کرونا کے ڈر سے گھر بیٹھے کبھی کبھی گنگنا لیتے ہیں
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
اس امید میں کہ
رات کٹ جائے گی۔ گل رنگ سویرا ہوگا
اور درد دل سے یہ درخواست کرتے ہوئے
کس جگہ رس رہا ہے یہ ناسور
اصل میں آگ ہے کہاں سوچو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •