روک سکو تو روک لو ”انسانیت“ آئی رے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے سوویت یونین کے بارے میں سوچ کر ہنسی آتی ہے۔ سوویت یونین پچھلی صدی کا سب سے بڑا اور برا مذاق تھا۔ سوویت یونین کا قومی ترانہ مع اس کے ترجمے کے یوٹیوب پر موجود ہے۔ کبھی موقع ملے تو سنئے گا۔ اس میں اعلان ہے کہ یہ عظیم لوگوں کا اتحاد ابد تک کے لئے ہے۔ وہ ’ابد‘ جب آیا تھا مجھے یاد ہے۔ سوویت یونین اور سوشل ازم کی لاش سے بدبو کا برامد ہونا میرے بچپن کا اہم واقعہ ہے۔ سوویت یونین ایک ایسی دھرتی تھی کہ جس پر سوشل ازم ہی نہیں بلکہ ساری مغربی تہذیب (اگر اسے تہذیب کہا جاسکتا ہے تو) برہنہ ہو کر سامنے آ گئی تھی۔ سوشل ازم، مادیت کے مغربی نظریے کی خالص ترین تجسیم تھی۔ اس مادیت پسند تصور کائنات میں روح کی کوئی گنجائش نہیں تھی، مذہب کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اب مذہب صرف عبادات و عقائد کا مجموعہ تو ہوتا نہیں۔ بلکہ اگر مذہب کو صرف سماجیات کے تناظر سے بھی دیکھئے تو انسانوں کو آپس میں جوڑنے والا ایک بہت اہم اور بین الاقوامی عامل مذہب ہی ہے۔ جب روس میں سوشل ازم کے نام پر مذہب کو دیس نکالا دیا گیا تو اس کی جگہ ’انسانیت‘ کے تصور کو ٹھونسا گیا۔ کہا گیا کہ ہم سب انسان ہیں اس لیے ایک ہیں۔ یہ ہی انسانیت کی ’پیپڑی‘ کرشن چندر اپنے ناول ’غدار‘ کے آخر میں بجاتے ہیں اور یہی راگ شوکت صدیقی کے ’کمرشل‘ ترقی پسند ناولوں میں بھی بار بار ظاہر ہوا۔

ہندو تو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا

یہ انسانیت کا ہیضہ نام نہاد ’ترقی پسند‘ دنیا کو جتنا تھا اتنا ہی سرمایہ دار دنیا کو بھی لاحق ہوا۔ وجہ وہی کہ مذہب تو سرمایہ داری میں بھی زندگی سے بے دخل ہوا۔ اب سماج کو کوئی چیز تو جوڑے گی اور وہ چیز ہوگی ’انسانیت‘ ۔ لیکن سرمایہ پرست مغرب اس لحاظ سے تھوڑا مختلف ہے کہ اس نے ’انسانیت‘ میں ایک بے چہرہ روحانیت (جس کا کہ کسی مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا) بھی ملائی اور یہ ’مشڑن‘ خوب مزے لے کر خود پیا اور سب کو پلایا۔ آج کی تاریخ میں ’پاوؤلو کوئیلو‘ اور ’ارہان پامک‘ جیسے لکھاری اس کیفیت کی انتہا کہے جا سکتے ہیں۔ انسانیت اور بے چہرہ روحانیت کے آمیزے کی دکان، علم نفسیات میں کارل یونگ نے کھولی تھی۔ ہندی سنسکریتی سے ’منڈالا‘ ، ’کرم‘ اور ’چکر‘ یورپ لے کر جانے والے یونگ صاحب اپنی حقیقت میں ہر مغربی فلسفی کی طرح مکمل طور پر مادیت کے ہی فلسفے کے ماننے والے تھے۔ انہوں نے بس کیا اتنا کہ ایک ایسا ابہام پیدا کیا کہ وہ مشرقی حکمت سے بہت واقف ہیں مگر یہ حکمت یونگ کے مادیت پرست فلسفے کو بدل نہ سکی بس ایسی ملمع کاری ہو گئی کہ یوں لگا کہ بات مذہب کی ہو رہی ہے۔

آج کی تاریخ میں سوویت یونین (مع سوشل ازم) ماضی کا قصہ ہوا مگر ’انسانیت‘ (مع بے چہرہ روحانیت) بڑی تیزی سے سکہ رائج الوقت بنتی چلی جاتی ہے۔ نام سرمایہ دار آزاد دنیا کیا لیا جاتا ہے اور راگ وہی کرشن چندر، شوکت صدیقی اور میکسم گورکی والا ہوتا ہے، ’ہندو تو بنے گا نہ مسلمان بنے گا۔ انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا!‘ مگر ہماری حیرت چوگنی ہوجاتی ہے یہ دیکھ کر کہ یہ انسانیت کا راگ ہندوستان میں تو سرکاری سرپرستی کھو چکا لیکن پاکستان میں اس کی سرکاری سرپرستی ہوتی ہے۔ پاکستان کے حاکموں نے یہاں سیکولر ازم کی چھوٹی سی ایک دکان کونے میں کھول رکھی ہے اور اس کی مستقل سرپرستی جاری ہے۔ یہ دلچسپ بات دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز بھی ہے اس لیے کہ ہمارا سابق ’باس‘ امریکہ بہادر یہ سمجھتا ہے (کہتا تو کم از کم ہے ) کہ ہمارے ملک کی حقیقی ریاست مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے مگر ہماری ریاست نے انسانیت کی دکان بھی کھول رکھی ہے اس کا اندازہ شاید نہ اس کے ناقدین کو ہے نہ حامیوں کو۔

اگر اس بات پر شک ہو تو پاکستان میں بننے والی خاص ’ریاستی‘ فلمیں دیکھئے ؛ ’جناح‘ ، ’خدا کے لئے‘ ، ’بول‘ ، ’ورنہ‘ ، ’مالک‘ ، ’وار‘ وغیرہ اور پھر وہ فلمیں دیکھئے جو کہ ظاہری طور پر یوں ایجنڈے سے بھری نہیں معلوم ہوتیں جیسے ’ہو من جہاں‘ ، ’میں شاہد آفریدی بننا چاہتا ہوں‘ وغیرہ۔ ان تمام ہی فلموں میں انسانیت کی دکان مع سیکولر لبرلازم کے بڑے زور و شور سے کھل کر موجود ہے۔ مگر یہ سب تو مشرف دور کی اختراعات ہیں شاید؟ اچھا جی؟ تو پھر سکہ بند اشتراکی شوکت صدیقی کے ناولوں پر ڈرامے کیسے پاکستان ٹیلی وژن پر بن گئے اور چل گئے؟ پھر ’نجات‘ اور ’ماروی‘ جیسے ’این جی او‘ برانڈ موضوعات کیسے آج سے تیس سال قبل اس ملک کے اس وقت کے سب سے مقتدر میڈیم پر ظاہر ہوئے؟

اسلام آباد میں ایک این جی او موجود ہے جو کہ ہر مہینے ورکشاپس کرواتی ہے۔ ان ورکشاپس میں سرکاری جامعات سے جونئیر اساتذہ کو مفت میں جہاز میں بیٹھا کر بلایا جاتا ہے بہت اعلی ہوٹل میں ٹھہرایا جاتا ہے اور خوب گھما پھرا کر اور کھلا پلا کر سیکولر لبرل انسانیت کا راگ پلایا جاتا ہے۔ وہاں نظریہ پاکستان، قرارداد مقاصد، قادیانیوں کی غیر مسلم مذہبی حیثیت اور دیگر آئینی معاملات پر تنقید کی جاتی اور پاکستان کو سیکولر لبرل انسانیت برانڈ ملک بنانے کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ مندوبین سے وعدے لئے جاتے ہیں اور ان سے اس ایجنڈے سے جڑ جانے کی ہامی پر مراعات کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ یہ سب اسلام آباد کے مرکز میں ہوتا ہے اور خدا جانتا ہے کہ جس طرح کا سلوک وہاں نظریہ پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے اس کا صرف ایک فیصد بھی کوئی لفظ بھی صرف راؤ انوار کے ہی خلاف کہہ دیا جائے تو قیامت آ جائے۔ مگر قرارداد مقاصد اور آئین پاکستان کو کھلونا بنانے پر کوئی قیامت نہیں آتی۔ دیکھنے والے سمجھتے ہیں ہمارے ملک کے حاکم تو بہت وسیع القلب ہو گئے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ وسعت قلب کی حد یہ ہے کہ یہ پروگرام ان کے ہی آشیرباد سے چلتا ہے۔

بات یہاں پر رکتی نہیں، بات یہاں سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس ملک کی ایک سرکاری جامعہ میں برطانوی لبرل حنیف قریشی صاحب انتہا پسند سیکولر ازم کے حق میں میں تقریر فرما کر چلے جاتے ہیں۔ یہاں پر امریکی قونصل خانہ سرکاری افسران اور دیگر سماجی شخصیات کو ٹوکری بھر کر امریکہ کی مفت سیر کرنے لے جاتا ہے۔ ان کو وہاں پر سیکولر لبرل انسانیت کی ’ڈوز‘ دی جاتی ہے اور واپس پاکستان بھیجا جاتا ہے۔ اس مفت کی سواری میں شامل افراد چھوٹے لوگ نہیں ہوتے بلکہ ان میں قبائلی سردار اور جامعات کے پروفیسرز سے لے کر پولیس کے ایس ایس پی تک شامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے مگر ہمارے حاکم اتنے کوتاہ بین ہیں کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا؟ نظر ہی نہیں آتا؟

بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ انسانیت کا منجن، یہ سیکولر ازم کی گولی، یہ لبرل ازم کی چٹنی، یہ سب جو بھی کچھ یہ ہے، ہمارے اصل حکمرانوں کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ وہ ان نظریات اور طبقات کو نہ صرف سماج میں رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کو پروان بھی چڑھانا چاہتے ہیں۔ یہی ان کا حقیقی نظریہ ہے۔ مذہب کو وہ صرف استعمال کرنا چاہتے ہیں ورنہ ان کی اصل ترجیح مذہب نہیں ایک بے چہرہ روحانیت ہے۔ کارل یونگ کی سی روحانیت جو کہ اصل میں مادیت کی ہی ایک تشریح کے علاوہ کچھ نہیں۔ مذہب کو استعمال کرنے کی پالیسی تو کبھی آتی ہے اور کبھی چلی جاتی ہے لیکن ملک کو ’انسانیت‘ کا دھرم قبول کروانے کی تحریک اتنی پرانی ہے کہ پی ٹی وی کے بہت پرانے ڈراموں میں بھی جھلکتی ہے اور درسی کتب میں بھی چھپی نظر آتی ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام کے لئے بنا تھا، انسانیت کے نام پر نہیں مگر کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان میں پچھلی 7 دہائیوں سے اسلام ہر جگہ ایک اجنبی کی طرح ہے۔ سماج کے سارے ادارے ہی اپنی نہاد میں مغرب کے اداروں کے نمونے پر قائم ہیں۔ ریاست میں بس چند علامات ہی اسلام کی باقی ہیں ورنہ سب کچھ بڑی تیزی سے ’انسانیت‘ کے شاستر کو پڑھ کر بنایا گیا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جب پاکستان کو سنگا پور بنانے کی بات ہوتی ہے تب تو سامنے ہوتا ہی سرمایہ دار مادہ پرست ماڈل ہے مگر جب ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کی جاتی ہے تو بھی ریاست مدینہ کی تشریح میں فوراً کینیڈا اور ہالینڈ کی فلاحی ریاست نکل آتی ہے پتہ یہ چلتا ہے کہ مدینہ کا نام لے کر بات انسانیت برانڈ مغربی نمونے کی ہی ہو رہی تھی۔ ہمارے حکمرانوں کے پاس یعنی اب زندگی کا کوئی اور نمونہ موجود ہی نہیں۔ انہوں نے سوچ لیا ہے کہ لبرل سیکیولر آرڈر تا ’ابد‘ قائم رہے گا اور ’انسانیت‘ میں ہی ان کی اجتماعی بقا ہے۔

ہندو تو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •