لاہور، موسم سرما اور ابن انشا

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور شہر میں جب سردی آتی ہے تو اکیلی نہیں آتی۔ تقریبات کا ایک غیر مختتم سلسلہ ساتھ لاتی ہے۔ بقول شخصے، لاہور میں ہفتے کے دن سات اور میلے آٹھ ہوتے ہیں۔

شادیوں کی تقریبات اس قدر تسلسل سے برپا ہوتی ہیں کہ لگتا ہے اس برس پورے شہر میں کوئی کنوارہ نہیں بچے گا، لیکن اگلے برس یہ سلسلہ پھر اسی زور و شور سے جاری ہو جاتا ہے۔

شادیوں کے ساتھ ساتھ ادبی تقریبات بھی مقابلے پہ منعقد کی جاتی ہیں۔ کتابوں کی تقریب رونمائی تو اس شدت سے ہوتی ہے کہ کئی بار لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں اس قدر ادیب و شاعر موجود ہیں تو بے وجہ ہی خواندگی کی شرح کم بتائی جاتی ہے۔ یہ اور بات کہ ان میں سے بیشتر کتب کو ایک نظر دیکھنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی واقعی بہت کم ہے۔

تعلیمی اداروں کی تقریبات اس کے علاوہ ہوتی ہیں۔ سپورٹس ڈے، یہ ڈے، وہ ڈے۔ بعض اوقات تقریبات کی بہتات کے باعث مہمان خصوصی کا ایسا توڑا پڑتا ہے کہ راقم تک کو مہمان خصوصی بنا دیا جاتا ہے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ کس قدر تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔

لاہور کی سماجی زندگی چونکہ دسترخوان پہ ہی جمتی ہے اس لیے سردی آتے ہی تلی مچھلی کی دعوتیں، کنے، پائے، نہاری کے بلاوے اور ساگ مکئی کی روٹی کے نیوتے بھی آنے لگتے ہیں۔ کسی جگہ سے کھگے کے شوربے کا ڈونگا آتا ہے تو کہیں سے کڑھی کی پتیلی، کوئی شلجم کے اچار کا مرتبان چھوڑ جاتا ہے تو کوئی برابر سے کھوئے والا گاجر کا حلوہ بھجواتا ہے۔

ان دعوتوں، توشہ دانوں، محبت بھری محفلوں کے ساتھ ساتھ رات گئے آگ تاپتے ہوئے روسی ناول پڑھنے اور مونگ پھلی کھاتے ہوئے اوس نچڑتے درختوں تلے ابن انشا کی نظمیں گاتے ہوئے ٹہلنے کا بھی یہ ہی موسم ہے۔

لطافتوں سے بھرا موسم سرما دروازے پہ دستک دے رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کورونا کی دوسری لہر بھی سر اٹھا چکی ہے۔ کتنی ہی تقریبات، جن میں لاہور کا مشہور ’فیض فیسٹیول‘ بھی شامل ہے اس بار منعقد نہیں ہوئیں۔

تعلیمی اداروں کی تقریبات بھی منسوخ ہیں، ملنا جلنا، آنا جانا بھی کم سے کم ہے۔ وبا، چنڈال کی صورت دھند بھری گلیوں میں تاک لگائے بیٹھی ہے۔ سرد موسم کے ساتھ اس بار بھی کورونا کا خطرہ سر پہ منڈلا رہا ہے۔

لاہور کی رونقیں ماند ہیں۔ لوگ باہر تو نکلتے ہیں مگر ڈرتے ڈرتے۔ ابن انشا کی نظمیں اب بھی پڑھی جا رہی ہیں لیکن وہ سر خوشی کا عالم نہیں۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ جب وہ دن نہ رہے تو یہ دن بھی نہیں رہیں گے۔

کورونا کی اس وبا نے تباہ حال معیشت کا وہ حال کیا ہے کہ مت پوچھیے۔ جس کو دیکھو وہ پھٹی جیب سے انگلیاں لہرا کے دکھا رہا ہے۔ ویسے پہلے بھی یہاں کون سا ہن برستا تھا لیکن اب تو بالکل ہی پھونسڑے نکل آئے ہیں اور لتے لگ گئے ہیں۔

زندگی میں نرم گرم سب چلتا رہتا ہے۔ یہ وقت جب گزر جائے گا تو لاہور کی رونقیں پھر بحال ہوں گی۔ ویسے آپس کی بات ہے کورونا کی اس لہر کی لاہوریے کچھ خاص پروا نہیں کر رہے۔ گو پہلے کی طرح انھیں اس پہ عالمی سازش کا اس قدر پکا شبہ تو نہیں لیکن اب بھی انھیں اندر ہی اندر یہ یقین ہے کہ بین الاقوامی نہ سہی، مقامی ہی سہی مگر ہے یہ ایک سازش ہی۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس موسم سرما کے ساتھ ہی کورونا بھی رخصت ہوتا ہے یا جم کے بیٹھا رہتا ہے؟ ویکسین آئے گی تو اسے لگواتے ہوئے ہمیں وہی خطرات تو لاحق نہیں ہو جائیں گے جو پولیو کی ویکسین سے ہیں؟

چلتے چلتے ابن انشا کے کچھ اشعار سن لیجیے :
چاند نکلا ہے داغوں کی مشعل لیے
دور گرجا کے میناروں کی اوٹ سے
آ مری جان آ ایک سے دو بھلے
آج پھیرے کریں کوچۂ یار کے
اور ہے کون درد آشنا باورے!
ایک میں شہر میں، ایک تو شہر میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •