مائیک ٹائسن: پرس چھیننے سے حریف باکسر کا کان چبانے تک

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیک ٹائی سن
Getty Images
باکسرز عام طور پر بے رحم ہوتے ہیں اور مائیک ٹائسن ان بے رحم باکسرز میں کچھ زیادہ ہی سنگ دل واقع ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسے باکسر کے طور پر مشہور تھے جو اپنے حریفوں کو فولادی مکوں سے رنگ میں ڈھیر کر دینے میں وقت ضائع کرنے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے کرئیر کے 41 فیصد باکسنگ مقابلے پہلے ہی راؤنڈ میں جیتے تھے۔

غربت کے سائے اور جرائم کی دنیا

دنیا کے کئی بڑے باکسرز کی طرح مائیک ٹائسن نے بھی غربت کے سائے میں پل کر شہرت کی بلندیوں کی طرف سفر شروع کیا لیکن اس سفر میں جہاں انھوں نے کامیابیاں دیکھیں وہیں تنازعات اور جرائم بھی سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہے۔

مائیک ٹائسن نے نیویارک میں بروکلین کے علاقے براؤنسِول میں آنکھ کھولی جو آوارہ اور جرائم پیشہ افراد کے لیے مشہور تھا۔

مائیک ٹائسن کہتے ہیں کہ وہ خوف کی وجہ سے سکول نہیں جاتے تھے۔ انھیں لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔ ٹائسن بچپن میں موٹے تھے اور ان کی زبان میں لکنت بھی تھی لیکن وہ چاہتے تھے کہ وہ علاقے کے ان لوگوں جیسے طاقتور بن جائیں۔

پھر وہ بھی ان ہی جیسے لوگوں کے رنگ میں رنگ گئے اور کبوتر بازی شروع کر دی یہاں تک کہ وہ چوری اور لوٹ مار میں بھی ملوث رہے۔ خود ان کے ایک انٹرویو کے مطابق وہ 38 مرتبہ پکڑے گئے تھے۔

مائیک ٹائسن جب 12 برس کے تھے انھیں پرس چھیننے کے جرم میں ایک ایسے سینٹر میں بھیج دیا گیا جو کم عمر قانون شکنوں کے لیے مخصوص تھا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک سابق باکسر ٹرینر بابی سٹیورٹ سے ہوئی جو بگڑے ہوئے بچوں کی ذہنی حالت درست کرنے پر مامور تھے۔

یہ بھی پڑھیے

53 کی عمر میں ٹائسن رِنگ میں پھرتی دکھا سکیں گے؟

‘محمد علی فائٹ سے پہلے ہی جیت جایا کرتے تھے’

کھلاڑی کمایا ہوا پیسہ اتنی تیزی سے کیسے لٹا دیتے ہیں؟

حریفوں کو اشاروں پر نچانے کے ماہر

مائیک ٹائی سن

BBC

سٹیورٹ کے توسط سے ٹائسن باکسنگ مینیجر اور ٹرینر کانسٹنٹائن ڈی ایماٹو سے ملے جو سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن فلائیڈ پیٹرسن کی تربیت کر چکے تھے۔

وہ ٹائسن کے قانونی سرپرست بھی بنے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ انھوں نے ٹائسن کو باکسنگ رنگ میں حریف باکسرز کے لیے دہشت کی علامت بنا دیا تھا۔

مائیک ٹائسن نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ ایماٹو نے ان کی زندگی میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ وہ ان کے لیے باپ کا درجہ رکھتے تھے۔

مائیک ٹائسن سنہ 1984 کے لاس اینجلز اولمپکس میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن دو مقابلوں میں شکست کی وجہ سے وہ امریکی باکسنگ سکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے لیکن جب وہ پروفیشنل باکسنگ میں آئے تو انھوں نے اسی باکسر کو شکست دی جس نے اولمپکس میں ہیوی ویٹ گولڈ میڈل جیتا تھا۔

مائیک ٹائی سن

BBC

سب سے کم عمر عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن

بائیس نومبر 1986 کو مائیک ٹائسن نے پہلی بار ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ ٹائٹل جیتا۔ لاس ویگاس میں ہونے والے اس باکسنگ مقابلے میں ان کے حریف عالمی چیمپیئن ٹریور برِبک تھے جنھیں ٹائسن نے دوسرے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا۔

ٹریور بربک وہ باکسر تھے جنھوں نے عظیم محمد علی کو شکست دے رکھی تھی لیکن ٹائسن کے سامنے وہ بے بس نظر آئے تھے۔ اس مقابلے کے ریفری ملز لین کا کہنا تھا کہ ٹائسن کا ہر مکا اس قدر طاقتور تھا کہ جیسے اس پر لکھا ہوا ہو ʹگڈ نائٹ۔ʹ

ٹائسن نے یہ مقابلہ جیت کر نئی تاریخ بھی رقم کر دی۔ وہ 20 سال کی عمر میں ورلڈ باکسنگ کونسل کا ہیوی ویٹ عالمی چیمپیئن بننے والے دنیا کے سب سے کم عمر باکسر تھے۔

ٹائسن نے اس کے صرف چار ماہ بعد ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کا ورلڈ ٹائٹل جیمز سمتھ کو شکست دے کر حاصل کیا اور پھر اگست 1987 میں وہ ٹونی ٹکر کو ہرا کر انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن کے چیمپیئن بھی بن گئے۔

مائیک ٹائی سن

Getty Images
سنہ 2003 میں ٹائسن نے مالی طور پر دیوالیہ قرار دینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کمائے گئے تین سو ملین ڈالرز گنوا چکے ہیں

ٹائسن نے ان ٹائٹلز کا کامیابی سے دفاع کرنا شروع کیا۔ ان کی سب سے قابل ذکر کارکردگی صرف 91 سیکنڈز میں مائیکل سپنکس کو ناک آؤٹ کرنا تھی۔

ٹائسن جو دوسروں کو ناک آؤٹ کر کے خوشی محسوس کیا کرتے تھے خود اس صورتحال سے اس وقت دوچار ہوئے جب فروری 1990 میں بسٹر ڈگلس نے انھیں دسویں راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا۔

ٹائسن نے اس شکست کے بعد اعتراف کیا کہ فائٹ سے پہلے انھوں نے دو خواتین کے ساتھ وقت گزارا تھا۔

وہ پہلے بھی ہر مقابلے سے پہلے یہی کیا کرتے تھے اور مقابلے جیت لیا کرتے تھے لہذا انھوں نے سوچا کہ اس بار بھی ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ریپ کا الزام اور چھ سال قید کی سزا

ٹائسن

PA Media

مائیک ٹائسن کی ہنگامہ خیز زندگی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب جولائی 1991 میں ایک مقابلہ حسن میں شریک خاتون ڈیزائری واشنگٹن نے ان پر ریپ کا الزام عائد کیا۔

ٹائسن نے اگرچہ اس الزام کی تردید کی لیکن عدالت نے انھیں چھ سال قید کی سزا سنائی تاہم تین سال کی قید کے بعد وہ جیل سے باہر آ گئے تھے۔

اس دوران یہ خبر بھی آئی کہ ٹائسن نے جیل میں اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کا اسلامی نام ملک عبدالعزیز رکھا گیا ہے۔ ٹائسن کی ایک تصویر بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی جس میں وہ خانہ کعبہ میں احرام پہنے بیٹھے ہیں۔

وہ مارچ 1995 میں باکسنگ رنگ میں واپس آئے اور ورلڈ باکسنگ کونسل اور ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل دوبارہ حاصل کر لیے لیکن 1996 میں ایوینڈر ہولی فیلڈ نے انھیں شکست دے کر ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کا ٹائٹل حاصل کر لیا۔ دونوں کے درمیان دوبارہ ہونے والا مقابلہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

ایوینڈر ہولی فیلڈ کا کان چبانا

مائیک ٹائی سن

Getty Images
جون 1997 میں مائیک ٹائسن نے ہولی فیلڈ کو اپنے مکوں سے قابو کرنے کے بجائے دو مرتبہ ان کا کان ہی چبا ڈالا

جون 1997 میں ٹائسن اور ایوینڈر ہولی فیلڈ کے درمیان میں ہونے والا باکسنگ مقابلہ اپنی نوعیت کی منفرد فائٹ ثابت ہوئی جو ٹائسن کو ڈس کوالیفائی کیے جانے پر منتج ہوئی۔ انھوں نے ہولی فیلڈ کو اپنے مکوں سے قابو کرنے کے بجائے دو مرتبہ ان کا کان ہی چبا ڈالا۔

ٹائسن کو اپنی اس حرکت کا خمیازہ اس طرح بھگتنا پڑا کہ ان کا باکسنگ لائسنس معطل کر دیا گیا جو ایک سال بعد بحال ہوا۔

دو افراد کی پٹائی پر جیل

مائیک ٹائی سن

Reuters

ٹائسن کو اپنی زندگی میں ایک مرتبہ پھر جیل کی شکل اس وقت دیکھنی پڑی جب انھوں نے واشنگٹن میں ٹریفک کے ایک جھگڑے میں دو افراد کی پٹائی کر دی تھی جن میں سے ایک کی عمر 62 برس تھی۔ عدالت نے انھیں ایک سال کی سزا سنائی تاہم وہ ساڑھے تین ماہ جیل میں رہے۔

ٹائسن کی زندگی میں کبھی ٹھہراؤ نہیں آیا۔

انھوں نے تین شادیاں کیں لیکن ازدواجی زندگی ناخوشگوار رہی۔ ان کی پہلی بیوی رابن گیونز نے، جو ایک ادکارہ تھیں، طلاق کی درخواست یہ کہہ کر دی کہ ان کا شوہر انھیں جسمانی اور ذہنی اذیت دے رہا ہے۔ ان کی دوسری شادی بھی کامیاب ثابت نہ ہو سکی۔

سنہ 2003 میں انھوں نے مالی طور پر دیوالیہ قرار دینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کمائے گئے تین سو ملین ڈالرز گنوا چکے ہیں۔

ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب سنہ 2009 میں ان کی چار سالہ بیٹی گھر میں موجود ایکسرسائز مشین میں گردن پھنس جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16562 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp