کیا سال 2030 تک دنیا سے تمام اینٹی بائیوٹک ادویات ناپید ہو جائیں گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال نومبر میں عالمی سطح پر لوگوں میں اینٹی بائیو ٹکس سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لئے ایک ہفتہ مختص کیا جاتا ہے، سال 2020 میں آگاہی کی یہ مہم 18 سے 24 نومبر تک چلائی جا رہی ہے جس میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا اور غلط استعمال سے زندگیوں کو لاحق خطرات سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس مسئلے کو دنیاکے 10 بڑے صحت سے متعلق مسائل کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے اس رجحان کی وجہ سے وہ بیماریاں جو پہلے ان ادویات سے ٹھیک ہوجاتی تھیں اب اینٹی بائیوٹکس کے بے جا اور غلط استعمال کی وجہ سے یہ اپنی افادیت کھورہی ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مدافعت کا مطلب یہ ہے کہ جب جراثیم میں ان کے خلاف قوت پیدا ہوجاتی ہے تو پھر یہ ادویات ان پر اثرانداز نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے بیماری پر قابو نہیں پایا جاسکتا اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

اینٹی بائیوٹکس کی افادیت ختم ہو نے کی اہم وجہ اس کا غلط استعمال ہے، مثال کے طور پر آپ کو نزلہ، زکام اور کھانسی تھی جو کہ عام ادویات سے دور ہو سکتی تھی مگر آپ نے غیر ضروری طور پرڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر اینٹی بائیو ٹک کا استعمال شروع کر دیا، یا ڈاکٹر نے آپ کو 14 دن کی اینٹی بائیو ٹک صبح و شام کھانے کو دی تھی مگرآپ نے وہ دوا 5 دن کھا کر چھوڑ دی یا پھر دوا، خوراک میں ناغہ کر کے کھائی اور 14 دنوں کی خوراک 20 دنوں میں پوری کی، تو یہ تمام وجوہات اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر زائل کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اور اگر آپ نے دو تین مرتبہ ایک ہی اینٹی بائیوٹک کے ساتھ یہی سلسلہ روا رکھا تو یہ دوا مستقبل میں آپ کے جسم میں موجود بیکٹیریا، وائرس یا فنگس کے لئے کوئی اثر نہیں رکھے گی اور یا تو آپ کو اینٹی بائیوٹک تبدیل کرنی پڑے گی یا پھر اس کی مقدار میں اضافہ کرنا ہوگا جو کہ آپ کی صحت کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آبادسے تعلق رکھنے والے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر اعجازاحمد خان کا کہنا تھا کہ ہر سال تقریباً 7 لاکھ لوگ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت پیدا ہوجانے کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں، اسی لیے عالمی ادارہ صحت نے اسے انسانیت کے لئے انتہائی خطرناک قرا ر دیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اینٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت پیدا ہو جانے کی وجہ سے سال 2030 تک 30 کروڑ ( 300 ملین) افراد موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے گلوبل ایکشن پلان کے نام سے باقاعدہ مہم آغاز کیا ہوا ہے تاکہ اس خطرے سے نمٹا جا سکے، پاکستان بھی اس مہم کا حصہ ہے اور یہاں بھی اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے ایک تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال غلط طریقے سے ہو رہا ہے جس کا ایک واضح ثبوت ٹائیفائیڈ کی اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت ہے، چند سال قبل تک جن ادویات سے ٹائیفائیڈ کا علاج ممکن تھا وہ اب کارآمد نہیں رہیں اور اب بہت کم اینٹی بائیوٹک ادویات رہ گئی ہیں اور جو رہ گئی ہیں ان کی وجہ سے مریض پر مہنگی دواؤں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔

اس صورتحال پر قابو پانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم ڈاکٹر کی مجوزہ ادویات اور خوراک سے تجاوز نہ کریں، ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں اور جو ادویات استعمال کریں وہ بلا ناغہ مطلوبہ دورانیے تک ضرور استعمال کریں تاکہ آپ اس صورتحال کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ عین ممکن ہے کہ سال 2030 تک دنیا سے اینٹی بائیوٹکس ناپید ہو جائیں اور دنیا کورونا جیسی عالمی وبا کے ساتھ ساتھ عام بیماریوں سے بھی صرف اس بے احتیاطی کی وجہ سے لڑنے سے قاصر ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد حسان، اسلام آباد

محمد حسان ایک نوجوان میڈیا ریسرچر، فری لانس رائٹر، بلاگر اور کارکن برائے انسانی حقوق ہیں آپ انہیں ٹویٹر پر @BlackZeroPK سے سرچ کر سکتے ہیں

muhammad-hassaan-islamabad has 4 posts and counting.See all posts by muhammad-hassaan-islamabad