1947 ء ابھی ختم نہیں ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہاول پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دکھاں بی بی اپنے کچے صحن میں چارپائی پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہی تھی اور پاس زمین پہ اس کا پڑپوتا اور پڑپوتی کھیل رہے تھے۔ شادو کی عمر بارہ سال اور مٹھو پانچ سال کا تھا۔ دکھاں کی عمر اب ستاسی برس ہو چلی تھی۔ اس عمر کے بزرگ گھر میں رکھے پرانے فرنیچر کی طرح ہو جاتے ہیں جنہیں گھر کی تین نسلوں نے ہوش سنبھالنے سے دیکھا ہوتا ہے اور اب ان کی موجودگی اپنے معنی کھو چکی ہوتی ہے، سوائے معصوم بچوں کے لئے کہ جن کو ابھی ان کی بے وقعتی کا ادراک نہیں ہوا ہوتا۔

شادو بولی ’دادی ہمارے پڑوسی چاچا رمضو نے پھر شادی کر لی، میں صبح ان کے گھر گئی تھی نئی دلہن دیکھنے بڑی پیاری لڑکی ہے، چاچا کی بیٹی نوراں سے بھی چھوٹی ہے۔ میرے ہاتھ میں جو گڑیا تھی وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی مجھے لگتا ہے میرے ساتھ کھیلے گی، شام کو جب چاچا باہر جائے گا تو میں اس کے ساتھ گڈا گڑیا کھیلنے جاؤں گی۔ اماں کہتی ہے کہ اچھا ہوا کہ مسلمان ہو گئی ورنہ ساری عمر عیسائی رہتی اور دوزخ میں جلتی، خدا چاچا کو ثواب دے گا اس کا۔

خدا نے اسے سیدھا رستہ دکھایا اس کا نام رجو ہے پر چاچا نے اس کا نیا نام زبیدہ رکھاہے۔ اس کی ماں آئی تھی، رو رو کر اسے واپس لے جانے کا کہ رہی تھی مگر چاچا نے مولوی صاحب اور محلے کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ مل کر اسے دھکے دے کر نکال دیا، وہ کہتی تھی عدالت میں کیس کرے گی، مگر مولوی نے کہا ہم سب گواہی دیں گے لڑکی نے مرضی سے شادی کی ہے کر لو جو کرنا ہے۔ یہ مسلمانوں کا محلہ ہے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے پلید۔ دادی میں خوش ہوں کہ میری ایک اور سہیلی ہو گی جو میرے ساتھ سٹاپو کھیلے گی۔ ہے نا دادی‘

یہ سن کر دکھاں کی آنکھوں میں تہتر سال پرانی فلم کے سین ایک ایک کر کے چلنے لگے۔ زندگی کے ستاسی سالوں نے اس کی آنکھوں کی چمک کو گھسا کر آلودہ اور مٹیالا کر دیا تھا جیسے پرانی حویلی کے روشندان کے شیشے سالوں کی خاک پڑنے سے غیر شفاف ہو جاتے ہیں، لیکن 1947 ء کے منظر اس کی یادداشت میں آج بھی تازہ تھے۔

تب وہ تیرہ چودہ سال کی کھلنڈری لڑکی تھی اس کا خاندان کئی پشتوں سے شیخوپورہ کے مضافاتی قصبے میں آ باد تھا وہاں کی گلیوں میں بھاگتے دوڑتے اس کا بچپن گزرا۔ تب اسے اپنے گردو پیش کا کوئی ہوش نہ ہوتا باپ کی لاڈلی اپنی ہی دنیا میں مست اور خوش۔ جب ایک روز اس کے باپ نے اسے بتایا کہ ہندوستان کی زمین پہ لکیر کھینچ کر ایک نیا ملک بنا دیا گیا ہے تو اسے کچھ سمجھ نہ آئی تھی۔ اسے ڈرا دیا گیا تھا کہ اب ہر طرف نفرت، آگ اور خون کا بازار گرم ہے اور اب وہ باہر نہ کھیلے۔

اسے ایسی باتیں سمجھ نہ آتیں کہ کیسے ان کے اپنے ہمسائے اور دوست اب ان کے جانی دشمن بن گئے ہیں۔ اسے پتا چلا کہ جو اس زمینی لکیر کے غلط طرف رہ گیا ہے اب اس کی خیر نہیں۔ ادھر والے ادھر اور ادھر والے ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ایک رات اس کے ماں باپ نے بچوں کو جگایا، مختصر سامان اکٹھا کیا اور ان کی بیل گاڑی ایک چھوٹے سے قافلے کی معیت میں مشرق کی جانب کسی انجانی منزل کی طرف چل پڑی۔ سو سالہ پرانی حویلی، مال اسباب چھوڑ چھاڑاب جلد از جلد لکیر کی دوسری جانب پہنچنا تھا۔

جیسے یہ ایک خونی کبڈی کا کھیل ہو جس میں سانس کی ڈور کٹنے سے پہلے کھلاڑی کو پالے کو ہاتھ لگانا ضروری ہو۔ قافلے کا سفر کئی دن سے جاری تھا اور ہرروز نئے لوگ شامل ہوتے جاتے اورنت نئی خبریں ملتیں کہ کئی قافلے لٹ گئے۔ حملہ آورآتے ہیں اور مردوں کو قتل اور عورتوں کر اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کہیں خبر ملتی کہ لکیر کے اس پار والے ملک سے آنے والی ٹرین میں عورتوں کی چھاتیاں کٹی لاشیں اور شیر خوار بچوں کی مسلی ہوئی کھوپڑیاں ملیں۔

دکھاں جس کا نام تب پشپا دیوی تھا بھوکی پیاسی خوف اور دہشت کے سائے میں اپنے خاندان کے ساتھ سفر کرتی رہی۔ ایک شب جب دور کہیں سے اذان کی آواز آ رہی تھی ان کے قافلے پر گھڑ سواروں کے ایک گروہ نے حملہ کر دیا۔ ایک گولی چلی اور اس کے ساتھ ہی عورتوں اور بچوں کی دل خراش چیخیں اور مردوں کے بلبلاتے جسموں سے بہتے خون کی بو ہر سو پھیل گئی۔ اچانک اسے اپنے باپو کی چیخ سنائی دی اس نے پلٹ کے دیکھا تو تلوار ان کے پیٹ کے پار ہو چکی تھی۔

وہ چیخا ’بھاگ پشپا بھاگ‘ مگر اس کے پاؤں خوف کے مارے جم گئے اور ایک مضبوط ہاتھ نے اس کی کمر کو اپنی گرفت میں لے لیا، اس نے اسے کندھے پہ اٹھا لیا اور بولا ’جائے گی کہاں تو‘ ۔ اس آدمی کی ہوس آلود آنکھوں میں خون اور لہجے میں مذہبی منافرت کھول رہی تھی۔ وہ بے ہوش ہو گئی اسے اٹھانے والوں نے اسے اپنے گھر لا کر ڈال دیا۔ اس نے بھگوان کے واسطے دیے مگر کسی کو ترس نہ آیا روزانہ رات کو کوئی نہ کوئی آدمی آتا اور اس کے دھرم اور سیماکے غلط طرف پائے جانے کی واجب سزا اسے دے جاتا۔ ایک روز جب فوجی ٹرک اغوا شدہ ہندو اور سکھ لڑکیوں کو واپس لینے آیا تواسے ہاتھ منہ باندھ کر بوریوں کے پیچھے چھپا دیا گیا اور اللہ رسول کی قسمیں کھا کر فوجیوں کو یقین دلا دیا گیا کہ وہ سب بہنوں بیٹیوں والے عزت دار لوگ ہیں ایسی نیچ حرکت نہیں کرتے۔

کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہاں اس جیسی اور بھی لڑکیاں ہیں جن سے ہندوستان سے آنے والی مسلمان لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا پورا پورا بدلہ لیا جا رہا تھا۔ کچھ عرصہ اسے وہاں رکھنے کے بعد اسے نور محمد کے ہاتھ سو روپے کے عوض بیچ دیا گیا جو اسے بہاول پور لے آیا اور مولوی سے کلمہ پڑھوا کر مسلمان کر دیا گیا۔ تب سب نے اسے اس سعادت کے ملنے پہ مبارک دی تھی اور نور محمد سے اس کا نکاح کر دیا گیا تھا جو عمر میں اس سے تین گنا بڑا تھا۔ نور محمد نے اسے بانہوں میں بھینچتے ہوئے کہا بول تیرا نیا نام کیا رکھوں تو پشپا نے پسلیوں کی تکلیف سے کراہتے ہوئے کہا تھا ’چھوڑ مجھے، دکھ رہا ہے‘ ۔

ایک روز اسے ایک عورت ملی جس کا نام رشیدہ تھا وہ ہندوستان سے لٹی پٹی اس پاک سرزمین پہ اس آس پہ آئی تھی کہ یہاں اس کی عزت کے رکھوالے اس کے کئی بھائی اور باپ ہوں گے جو اس کے سر پہ ہاتھ رکھیں گے لیکن لاہورمیں مہاجروں کے والٹن کیمپ میں اس کے بھائیوں کے ہاتھ اس کے سر پہ دوپٹا دینے کی بجائے اس کی چولی کی طرف ہی بڑھتے رہے اور وہ اسے عزت و سہارا دینے کی بجائے مسہریوں پہ ہوس کی آگ سے داغتے رہے۔ تب دکھاں نے سوچا تھا کہ رشیدہ تو خون اور آبرو ریزی کی لکیر پار کر کے صحیح طرف آ گئی تھی اور اس کا دین بھی صحیح تھا تو پھر اس کا کیا قصور تھا کہ اسے بھی پشپا کی طرح بھنبھوڑا جاتا۔ اس دن وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کے دیر تک روئی تھیں۔

دکھاں کو اب اپنی بوڑھی تاریک آنکھوں میں سامنے بیٹھے مٹھو اور شادو کے چہرے تو دو موہوم سے ہیولے نظر آتے تھے لیکن اپنے باپو رام چند، بھائی گوپال اور ماں شکنتلا دیوی کی شکلیں ابھی بھی صاف دکھائی دیتی تھیں۔ دو آنسو اس کی جھریوں میں سے ٹیڑھا میڑھا راستہ بناتے ٹھوڑی پہ آ کر رکے۔ اس نے سوچا کہ کاش مرنے سے پہلے وہ اپنے اصلی خاندان کے کسی فرد کا چہرہ ٹٹول کر محسوس کر سکے۔

اس کے کانوں میں باپو کی آواز گونجی، ’بھاگ پشپا بھاگ‘ ، کم سن پشپا نے جب بھاگنا چاہا تھا تو بھاگ نہ سکی تھی اور اسے اس کی سزا دکھاں بی بی کی اذیت ناک زندگی گزارنے کی صورت ملی۔ رمضو کی نئی کم سن دلہن رجو کو بھی اب زبیدہ بن کر زندگی جینا ہو گی۔ لیکن کیوں؟ اس کے لئے تو کسی ارضی لکیر کا سوال نہیں، وہ تو اسی پاک سرزمین کی باسی ہے جس کے وجود کے لئے لاکھوں زندگیوں کے خون کا چڑھاوا چڑھایا گیا۔ شاید 2020 میں بھی 1947 ابھی ختم نہیں ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •