پینسلوینیا: ووٹوں کی تصدیق روکنے کے لیے صدر ٹرمپ کی درخواست مسترد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی ریاست پینسلوینیا کے فیڈرل جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے انتخابی نتائج پر حکم امتناع جاری کرنے سے متعلق دائر کردہ درخواست کو رد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ حکام انتخابی نتائج کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ جج میتھیو بران کا ہفتے کو دیے جانے والے عدالتی فیصلے میں کہنا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی طرف سے قیاس آرائیوں پر مشتمل الزامات ثبوت کے بغیر پیش کیے گئے۔ لہذٰا عملہ ووٹوں کی تصدیق کا عمل شروع کر سکتا ہے۔

امریکی ریاست پینسلوینیا کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ پر 80 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

جج کا فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہنا کی اس طرح کہ امریکہ کی آبادی کے لحاظ سے چھٹی بڑی ریاست میں کسی ایک ووٹر کے حق رائے دہی کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جیولیانی اور انتخابی مہم کی سینئر مشیر جینا ایلس نے اس فیصلے کو امریکی سپریم کورٹ میں لے جانے سے متعلق مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا مشترکہ بیان میں کہنا تھا کہ وہ تیسرے امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیل سے جلد شنوائی کی اپیل کریں گے۔

روڈی جیولیانی جو کہ سابق فیڈرل پراسیکیوٹر اور ریاست نیو یارک کے میئر رہ چکے ہیں نے کئی دہائیوں بعد منگل کو عدالت میں دلائل دیے تھے۔

انہوں نے سماعت کے دوران متعدد بار کہا کہ کاؤنٹیز کا لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں مدد فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔

امریکی انتخابی نتائج اور قانونی چیلنجز

ٹرمپ کی انتخابی مہم نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ امریکی آئین ووٹرز کو مساوی تحفظ دیتا ہے۔ تاہم ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں میں خامیوں کی نشان دہی کے لیے درست طریقہ نہیں اپنایا گیا۔

پینسلوینیا کی سیکریٹری آف اسٹیٹ اور جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی جانب سے عدالت میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالتیں صدر ٹرمپ کے اس نوعیت کے الزامات پہلے بھی مسترد کر چکی ہیں۔

بائیڈن کی انتخابی مہم کے وکلا کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایسے لاکھوں ووٹس کو مسترد کرانا چاہتے ہیں جو پہلے ہی گنے جا چکے ہیں۔

ریاست پینسلوینیا کے 20 الیکٹورل ووٹ بھی صدر ٹرمپ کو دوسری مدت صدارت کے لیے فتح نہیں دلوا سکتے۔ (فائل فوٹو)
ریاست پینسلوینیا کے 20 الیکٹورل ووٹ بھی صدر ٹرمپ کو دوسری مدت صدارت کے لیے فتح نہیں دلوا سکتے۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ ریاست جارجیا کے غیر سرکاری نتائج آنے کے بعد نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹوں کی کُل تعداد 306 ہو گئی ہے جب کہ اُن کے مدِ مقابل صدر ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ انتخابات میں مسلسل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ جارجیا کے انتخابی نتائج پر بھی انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ جارجیا کی مختلف کاؤنٹیز میں ہزاروں ایسے ووٹ ملے ہیں جنہیں گنا نہیں گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت جلد جارجیا کے نتائج ری پبلکن کے حق میں آ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 426 posts and counting.See all posts by voa