دوسری محبت مغربی ستارے سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سچ تھا کہ سمندر مجھے اپنی جانب کھینچتا تھا جیسے چاند چکور کو اور سورج سورج مکھی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

میں ساحل پر چہل قدمی کر رہا تھا کہ اچانک ایک زور دار لہر پلٹی اور پوری شدت سے ساحل کی جانب بڑھی۔

دفعتاً ریت میرے قدموں سے نکلی اور میرے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس نے مجھے لپیٹا ایک گہرے شور نے مجھے بانہوں میں بھرا اور نگل لیا، پھر سکوت چھا گیا۔ ہر سو اندھیراہی اندھیرا تھا۔ معلوم نہیں کب تک میں اس حال میں رہا۔ کب ریتلی زمین پہ کسی دوسری لہر نے مجھے پٹخا مجھے کچھ یاد نہیں۔

میرے جسم میں جنبش ہوئی۔ سورج کی کرنیں میرے وجود کو تھپتھپا رہی تھیں، جب پلکیں جھپکیں میں زندہ تھا۔

سانس آتی تھی تو درد کی لہر یک دم اٹھتی اور پورے بدن کو کاٹ ڈالتی تھی۔ میں ہلنا چاہتا تھا مگر ہلنا ناممکن تھا۔ ایسی نقاہت تھی کہ ہلنے جلنے سے قاصر تھا۔

یہ الگ بات کہ موت نے زندگی کی حفاظت کی ہو گی شاید ابھی میرا آخری وقت نہیں آیا تھا۔
جب ہوش آیا تو میں نے سوچا جانے کب تک کب تک ایسے ہی پڑا رہوں گا؟

سوال نے سر اٹھایا۔ میں کون تھا، میرے ساتھ کون تھا؟ پانی کے ساتھ میرا کیا رشتہ تھا؟ کیا میں بہت دیر سے پیاسا تھا۔

مجھے لگا میں طاقتورکی محبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ یعنی ظرف اورسکت کے بغیر محبت۔ بھلا زورآور پانی سے محبت کا مطلب کیا تھا اور وہ بھی سمندر کا پانی جس میں شور تھا زور تھا اس کی ایک لہر کو چھونے کی طاقت نہیں تھی اورمیں اس سے محبت کرنے چلا تھا۔

اس سے تو اچھا ہوتا اگر میں کسی ستارے سے محبت کرتا ستارہ مجھے سمندر کی طرح جلال میں آ کر شاید نہ پٹختا شاید وہ میرے

ماتھے پہ آبیٹھتا۔ شاید میرا بخت چمکتا۔
میں دوسری محبت مغربی ستارے سے کروں گا، میں نے نیم بے ہوشی میں ایک ستارے کے لیے نیک گمان کیا۔
میں اندھیرے اجالے کے سفر میں چاروں شانے چت بے یارومددگار ڈوبتی ہوئی

کشتی کے ملاح کی طرح ریت پہ اوندھے منہ پڑا تھا۔ چمکتی دھوپ کی ملیح روشنی اور حرارت میرے ماتھے پر جمے خون کو بوسے دے رہی تھی۔ پیٹ بوجھل تھا منہ نمکین اور کڑوا جب کہ سانس بھاری تھی۔

پانی کی آغوش میں چند لمحے جو گزرے تھے وہ اپنا خراج وصول کر رہے تھے میں پھر سے اندھیرے میں تھا۔ میرا نیم بے ہوش دماغ فیصلہ کرنے سے قاصر تھا کہ غنودگی جانکنی سے بہتر تھی یا موت۔

دوبارہ ہوش تب آیا جب کسی نے مجھے اوندھا کیا اور میری پیٹھ کو دبایا درد کی جنبش سے پانی کا گرم فوارہ میرے منہ سے نکلا اور ریت میں جذب ہو گیا دن میں تارے نظر آئے۔

میں کراہا ہائے اب میں کسی ستارے سے محبت کروں گا۔

خیال لہرایا محبت ایک کیفیت ہے جس کا ذائقہ بارہا چکھا وہ مجھے کبھی راس نہیں آئی پر اسی کے تصور سے میرے دل کے قبرستان پر نرگسی پھول کھلتے تھے۔

میں محبت نہ کرتاتو کیا کرتا کہ میراخمیر محبت سے اٹھایا گیا تھا۔
میں نے آگ سے محبت کی اس نے مجھے جلایا میرا میل کچیل نکلا کثافت سے لطافت کے بہت سے مرحلے طے ہوئے۔
پھر ایسے لگا جیسے پائلو کو پڑھ کر میں نے ہوا سے محبت کی۔ لالہ صحرای کو بوسہ دیا۔
میں برسوں مٹی سے کھیلا۔ میں نے جبران کو پڑھ کے قبروں سے محبت کی۔

قبروں کے قریب رہا۔ نرگس کھلنے تک مرنے والوں کا ساتھ نبھایا۔ مرنے والوں کے ساتھ رہا حتیٰ کہ مزاروں سے محبت کی، روشنی اور پروانے کی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش کی۔ راز سمجھ میں نہیں آیا، ملاحوں کے گیتوں سے سمندروں کی لہروں تک محبت کا سراغ لگاتا رہا اب سوچتا ہوں شام کے مغربی ستارے سے محبت کروں گا۔

بہت بعد میں جانا کہ وہ ملاحوں کی بستی کا ایک بوڑھا تھا جس نے میری جان بچائی شاید کوئی مچھیرا تھا۔

اس کی جھونپڑی میں گھاس پھوس کا بچھونا اور ایک کھاٹ تھی۔ اس نے میرے لیے اپنی کھاٹ چھوڑ دی تھی۔ اس نے لکڑی کے برتن میں کچھ گھولا اور مجھے پلایا۔

میرے بدن کی چستی لوٹی وہ مسکرایا اس کے ٹوٹے ہوئے پیلے دانتوں سے
مری ہوی مچھلی کی باس آتی جب وہ میرے قریب آتا۔

اسکی زبان اجنبی تھی۔ میرے فہم سے ماورا تھی، شاید نامعلوم جزیرے میں اس کا ہونا میرے لیے تھا، کھلے آسمان کی بانہوں میں ستاروں کے جھرمٹ آباد تھے، مغربی ستارہ سب ستاروں

سے زیادہ روشن تھا۔ میں اپنے پالنے سے اسے دیکھتا آیا تھا، آج کی شب وہ مجھ سے اتنا قریب تھا جتنا اس سے پہلے کبھی بھی نہیں اس کے اور میرے بیچ قرب کی لہریں موجزن تھیں۔

میں اس سے مخاطب ہوا، اے ماہ کامل کے پہلو میں جلوہ افروز تیرا روپ بے بہا ہے۔ جب تو چمکتا ہے تو میرے دل کی آنکھ روشن ہوتی ہے اے شہاب ثاقب کے ہم نشیں ’نوارانی کہکشاوں کے ہم سفر‘ ہم سائے ’دیکھو میرے دل میں تمہاری محبت کے چراغ جلتے ہیں، کہنے لگا ”میں تمہاری روشنی سے چمکتا ہوں تم میری روشنی سے چمکتے ہو۔

تو ظاہر کو دیکھتا ہے میں باطن کو میرا ظاہر چمکتا ہے اور تیرا باطن اور ہم دونوں ایک نور سے چمکتے ہیں۔ ”

حالت خواب تھی یا حقیت۔
”کیا میں اس نور کو دیکھ سکتا ہوں“
میں نے بے تابی سے پوچھا
”تم بہت جلدی میں ہو“
تم کٹھن تپسیا کے بغیر اسے نہیں دیکھ سکتے ہو۔ اس نے فیصلہ سنایا۔

شاید میں حالت غشی میں تھا یا نیم نیند کی کیفیت تھی۔ مجھے لگا بوڑھے کے خراٹوں کی آواز مینڈکوں اور جھینگروں کی آوازوں سے اونچی تھی۔ میری سماعت بحال ہو رہی تھی۔ اور مجھے کچھ کچھ دکھائی دینے لگا تھا۔

اجنبی بوڑھاقریب ہی فرش پر چٹائی پرسو رہا تھا۔ سوتے میں اس کا منہ تھوڑا اور کھل گیا تھا۔ اس کے دانت کی کھڑکی سے نورچھن چھن کر پورے ماحول کو نورانی بنا رہا تھا۔ اس انسان نے مجھے پناہ دی تھی۔ وہ میرا محسن تھا، میری جان بچانے والا۔

میں ستاروں کی روشنی کا دلداہ تھا۔ مجھے محسوس ہوا ستاروں کی جھلملاہٹ اس انسان کے عمل سے کم خوبصورت تھی۔

کوئی مجھے سکھا رہا تھا کہ اوصاف انسانی میں احسان کا نور سب سے بڑا نور ہے۔
میں نے ستاروں بھرا آسمان دیکھنا چاہا اسی پل بادل کے ٹکڑے میں ستارے چھپ گئے۔

کچھ دن اس مچھیرے کے ساتھ ایک اجنبی جزیرے پر گزرے۔ ہم آفاقی زبان میں بات کرتے اس کے پاس مبہم نقشے تھے وہ بھٹکے ہوئے ملاحوں کو اپنی زبان میں راستہ دکھانے کے لیے اس ویرانے میں آبادتھا۔ شاید اس نے مجھ جیسے کئی انسانوں کی جان بچائی ہو۔ یا یہ محض ایک واقعہ ہو۔

قطبی تارے کی سیدھ پر واقع ساتوں ستارے جنہیں غور سے دیکھنے پر ریچھ کی شکل بن جاتی تھی نمایاں ہوتے جا رہے تھے، بوڑھا مچھیرا

بھی میری طرح ان سے باتیں کرتا تھا۔ فطرت سے ہم کلام ہونا انسان کا حق ہے۔ وہ ان سے راستوں کا اندازہ لگاتا۔

وہ اس کی کٹیا کے دروازے اور درزوں سے جھانکتے تھے۔

کبھی دب اکبر کواور کبھی دب اصغر کو مل کر دیکھنا ایک انوکھا اور خوشگوار تجربہ تھا، وہ میری صحبت کے مل جانے پر خوش نظر آتا وہ مجھے نقشے دکھاتا اور علاقے کی تفصیل بتاتا، ایک شب مغربی تارہ میرے قریب ہوا اتنے قریب کہ مجھے محسوس ہوا وہ میرے دامن میں اتر آیا ہے۔

میری محبت کی کہکشاں زمین پر تھی کھاٹ پہ پڑے بوڑھے پر پیوند زدہ کپڑا اوڑھاتے ہوئے مجھے لگاستارے ہمیں ستارے سمجھتے ہیں۔

ہم سب ایک نور سے چمکتے ہیں نور احسان سے۔

ایک صبح میرے من میں اپنے دیس کی چاہ جاگی۔ اگلے دن سے پہلے میں اپنے دیس پہنچنا چاہتا تھا، ایک لمبی مسافت میرے انتظار میں تھی۔ میں نے سوچا میں لوٹ جاؤں گا۔

سونے کی کوشش میں رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ میں صبح اجنبی جزیرے کو الوداع کہنا چاہتا تھا شاید میرے حواس واپس آچکے تھے۔ سر پہ چوٹ کا اثر کم ہو رہا تھا۔ بوڑھے اجنبی مچھیرے نے اشاروں سے مجھے کچھ دیر اور رکنے کی ہدایت کی۔

وہ نورانی بوڑھا مچھلی آگ پر بھون کر میری میزبانی پہ مامور تھا۔ میرا د ل لکڑی کی چھال سے زیادہ سخت ہاتھوں کی محبت میں مبتلا ہوتاگیا۔

ایک دن بوڑھا مچھیرا دیر سے لوٹا۔ وہ آیا تو زخمی تھا۔ اسے کسی نوکیلے پتھر سے ٹھوکر لگی تھی۔ گرنے سے اسے بہت چوٹیں آئیں تھیں۔ سر سے بھی خون رس رہا تھا۔ مجھے لگا اب وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہے گا۔

اب اس کی تیمارداری میرے ذمے تھی۔ میں یہیں رکوں گا، اس کے لیے مچھلی کا شکار کروں گا، اور اس کا خیال رکھوں گا، مغربی تارہ میرے قریب ہوا اور قریب میں بہکا اس کی محبت مجھے کھینچتی تھی۔

میں نے ایک شب اپنے محبوب ستارے سے کہا مجھے اسی کے پاس رہناہے، جب تک یہ مچھیرا زندہ رہے گا۔ میں اس کے پاس رہوں گا۔ محبت کا جواب محبت اور احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ مجھے لگتا ہے سمندر کی طوفانی لہروں نے اسی کی خاطرمجھے یہاں لا ڈالا ہو گا، شاید اس مچھیرے کو کسی انسان کی ضرورت تھی شاید اس نے پانی کے آخری گھونٹ میرے ہاتھ سے پینے تھے، اس کی آنکھیں بند کرتے ہوئے میں نے سوچامیرے ہاتھ اسی کے ہاتھ ہیں ستارے

جھرمٹ میں اور انسان اک دوجے کے ساتھ احساس کے نور میں جگمگاتے ہیں۔

دم آخر بوڑھے کے چہرے کی سلوٹوں میں سکون تھا۔ اس کے جال میں میری شکل میں ایک سنہری مچھلی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں خود کو فراموش کر دوں گا۔ اس کی قبر پہ نر گسی پھول کھلنے تک اسی کے پاس رکوں گا۔ گو میری روح میں ایک مغربی ستارہ آن بسا تھا۔ جسے میں اپنی کہانیاں سناتا تھا۔ جو آسمان پر چاند کے قریب تھا۔ اس نے مجھے بتایا محبت روح پرور تجربہ ہے اور انسان کی پہلی ضرورت بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •