آپ تشکیکی رویہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی میں ایک لفظ ہوتا ہے جسے skepticism کہتے ہیں جس کا آسان مطلب ”ڈاؤٹنگ ایٹی ٹیوڈ“ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسے رویے اور رجحان کا نام ہے جس میں ایک سوچنے والا بڑا دماغ کسی بھی قائم شدہ اور بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ نظریات و اتھارٹی پر شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ڈکشنری میں ”فکس اتھارٹی“ کا لفظ ہی نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں یہ لوگ نطشے کے اس قول پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں جس میں اس نے کہا تھا کہ،

Belief means not wishing to know what is true?

یعنی یہ اپنی فکر ونظر میں ”عقیدہ کی گرہ“ نہیں لگاتے بلکہ چیلنجنگ ایٹی ٹیوڈ کے ساتھ ایک مشاہداتی زندگی گزارتے ہیں۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس قسم کے رویے کے ساتھ زندگی گزارنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور یہ ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی۔ شعوری زندگی گزارنے کے لیے بڑے مدوجزر اور اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان بہت ہی سہل پسند مخلوق ہے اور جو کچھ پہلے سے موجود ہوتا ہے اسے بے چون و چرا تسلیم کر لینے میں ہی عافیت جانتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سوچنا ایک انتہائی مشکل کام ہوتا ہے اور اسی لیے سوچنے والے اذہان ہر لمحہ آزمائش و مشاہدہ کے پل صراط پر سے گزرتے ہیں۔ معاشرتی المیہ یہ ہے کہ بے چارے اپنی ذہنی کیفیت اور قلبی واردات کا کھل کر معاشرے میں اظہار بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی ذہنی لیبارٹری کا میٹریل رائج الوقت نظریات کے ساتھ میل نہیں کھاتا اور انہیں سوچنے کی اس علت کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ روایت کی طویل شاہراہ کے آگے بند باندھنے والے یہ غیر روایتی لوگ گھسے پٹے راستوں پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور سوچنے کی نئی سے نئی راہیں تراشنے میں مشغول رہتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ حقائق کی دنیا میں جذبات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور حقائق کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے لوجیکل ریزننگ سے کام لینا پڑتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سوالات اٹھانے والوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے گا اور ہمارے اندر ایسے لوگوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہوگا یہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سماج میں الگ ڈھنگ سے سوچنے والوں کے لیے عجیب و غریب قسم کی تھیوریز گھڑ لی جاتیں ہیں کہ صاحب یہ بندہ تو کافر، ملحد، نیچری اور ملعون ہے۔

ہمارے ان ہی رویوں کی وجہ سے ہمارے سماج کے اعلٰی اذہان چپ سادھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ملک سے کوچ کر جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ ہمیشہ وہی سماج جلدی جلدی ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جہاں پر ”چوائس اور آپشن“ زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے اندر نئے سے نئے خیالات و نظریات کو سمونے کی گنجائش اور حوصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے سماج میں اس حوصلے اور گنجائش کا بہت زیاد ہ فقدان ہے اور اسی وجہ سے ہم افراتفری کا شکار ہیں۔

حقائق کو مسخ کرنے کا چلن زیادہ دیر تک نہیں چلتا اور اس کی شیلف لائف بہت کم ہوتی ہے۔ ہر دور میں کچھ ”ڈاؤٹنگ تھامس“ پیدا ہو جاتے ہیں جن کے اندر حقائق کے اوپر تہہ در تہہ جمی ہوئی گرد اتارنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ڈی کوڈیشن کا عمل ہر دور میں ہوتا ہے اور اسی عمل کو آگے بڑھانے والے وہ غیر روایتی لوگ ہوتے ہیں جن کا اپنا ہی طریقہ اور راستہ ہوتا ہے۔ ان میں آرٹسٹ، رائٹر، شاعر، صوفی اور سنت سادھو ہوتے ہیں جو زندگی کے راگ میں چند نئے راگ سمو دیتے ہیں، تخیل کو نئی جولانیاں عطاء کردیتے ہیں، خیالات کے دامن میں چند نئے پھول اور کھلا دیتے ہیں اور انسانی امکانات کے دامن کو مزید وسعت عطا کردیتے ہیں۔ حقیقت میں یہی لوگ معاشرے کو نئی حیات عطاء کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •