شیریں مزاری کی ٹویٹ پر فرانس کا شدید ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیس نومبر کی سہ پہر کو انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک ویب سائٹ کی غلط خبر کو بنیاد بنا کر ایسی سخت ٹویٹ کی جس نے پاکستان اور فرانس کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا۔ فرانس نے نہایت سخت اور غیر سفارتی زبان میں اس کا جواب وزارت خارجہ اور اسلام آباد میں فرانس کے سفارت خانے کے ذریعے دیا جس کے بعد آج بائیس نومبر کو ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔

دی مسلم وائب نامی ایک کم معروف ویب سائٹ جسے 2015 میں آن لائن کیا گیا اور اس وقت کی پوسٹ کے مطابق اسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹیم چلاتی ہے، نے اس سرخی کے ساتھ خبر لگائی کہ ”مسلم بچوں کے لیے جبری شناختی نمبر“ ۔ اس خبر میں کہا گیا کہ صرف اور صرف مسلم بچوں کے لیے شناختی نمبر شروع کیے گئے ہیں۔

اس پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے خود سے تصدیق کیے بغیر اور بظاہر دفتر خارجہ سے معلومات لیے بغیر، محض اس خبر کی بنیاد پر ایک نہایت سخت ٹویٹ کی کہ ”میکخواں مسلمانوں کے ساتھ وہی کر رہا ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا، مسلم بچوں کو شناختی نمبر دیا جائے گا (دوسرے بچوں کو نہیں ) جس طرح یہودیوں کو شناخت کے لیے اپنے لباس پر پیلا ستارہ پہننے پر مجبور کیا جاتا تھا“ ۔

اس پر فرانسیسی وزارت برائے یورپ اور خارجہ امور نے نہایت سخت اور غیر سفارتی زبان میں شدید رد عمل دیتے ہوئے لکھا

”پاکستان۔ وزیر برائے انسانی حقوق کی توہین آمیز ٹویٹ“

”آج پاکستانی کابینہ کی ایک رکن نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، ایسے الفاظ میں جو صدر جمہوریہ اور ہمارے ملک کے لیے نہایت شاکنگ اور توہین آمیز ہیں۔“

”یہ حقارت آمیز الفاظ سفید جھوٹ ہیں، اور نفرت اور تشدد کے نظریے سے پر ہیں۔ یہ ہتک آمیز کمنٹ ذمہ داری کے اس لیول (کی شخصیت) کے لیے شرمناک ہیں۔ ہم نے شدت سے مسترد کرتے ہیں۔“

”ہم نے پیرس میں پاکستان کے نمائندے کو اپنی مذمت سے سخت ترین الفاظ میں فوراً آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان کو فوراً اس بیان کو درست کرنا چاہیے اور احترام پر مبنی مذاکرات کے راستے پر واپس آنا چاہیے“ ۔

اس کے بعد اسلام آباد میں فرانس کے سفارت خانے نے ڈاکٹر شیریں مزاری کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے اس پر نہایت سخت اور غیر سفارتی زبان میں لکھا ”فیک نیوز اور جھوٹا الزام“ ۔

بی بی سی کے مطابق ”پہلے تو پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارت خانے نے وفاقی وزیر کی اسی ٹویٹ کو فیک نیوز اور بہتان قرار دیا۔ جس پر شیریں مزاری نے اگلے دن ایک اور ٹویٹ میں انھیں آرٹیکل کا لنک پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا ’اگر یہ فیک نیوز ہے تو میری ٹویٹ کو فیک کہنے کے بجائے جہاں یہ شائع کی گئی ہے، وہاں سے اسے ہٹوائیں۔‘ “

جان اچکزئی کی ایک ٹویٹ کو بھی فرانسیسی سفارت خانے نے ری ٹویٹ کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ”وزیر برائے انسانی حقوق کا فرانس کے خلاف بیان ایک وزیر کے لیے گھٹیا اور بلاوجہ ہے۔ امور خارجہ ایک حساس معاملہ ہیں اور انہیں دفتر خارجہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ سستی سیاست اور تماشبینوں کے لیے کھیلنا خارجہ تعلقات نبھانے کا طریقہ نہیں۔“

فرانسیسی حکومت نے دی مسلم وائب سے بھی رابطہ کیا جس نے اپنی گمراہ کن خبر کو درست کرتے ہوئے لکھا

”جبری شناختی نمبر برائے اطفال: فرانس کا میکخواں فرانسیسی نے مسلمانوں کے لیے نیا منشور جاری کر دیا“ ۔

خبر میں مزید وضاحت کی گئی کہ ”اس مضمون کے گزشتہ ورژن میں یہ لکھا گیا تھا کہ یہ نمبر صرف فرانس کے مسلمان بچوں کے لیے مخصوص ہے۔ اسے درست کر دیا گیا ہے اور یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اس بل میں یہ ڈریکولائی ضابطہ میکخواں کی اس مہم کی خاطر تمام بچوں کے لیے ہو گا جسے وہ اسلامی علیحدگی پسندی کے خلاف لڑائی کہتے ہیں۔ ہم اس خبر میں رپورٹنگ کی گزشتہ غلطی کے لیے تہ دل سے معذرت خواہ ہیں“

فرانسیسی دفتر خارجہ نے بچوں کے شناختی معاملے پر اپنا موقف وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے جو بظاہر ڈاکٹر شیریں مزاری کے معاملے کے ردعمل میں ہے۔

آج شامل ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”پاکستان میں فرانس کے نمائندے نے مجھے مندرجہ ذیل پیغام بھیجا ہے اور جیسا کہ وہ مضمون جس کا میں نے حوالہ دیا تھا، متعلقہ ادارے کی جانب سے درست کر دیا گیا ہے، میں اپنی ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کر رہی ہوں۔

ایک غلط خبر کو بنیاد بنا کر فرانسیسی صدر کو نازیوں جیسا قرار دینے پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے معذرت نہیں کی ہے۔ اس معاملے کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف اور آئی ایم ایف وغیرہ میں مشکلات پیش آنے کا امکان ہے کیونکہ فرانس یورپی یونین کا دوسرا اہم ترین ملک اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران میں سے ایک ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس پر نازی جرمنی کا قبضہ رہا تھا اور اس کے خلاف فرانسیسیوں نے ایک خونریز جنگ آزادی لڑی تھی۔ اس تناظر میں کسی فرانسیسی کو نازی کہنا وہاں کے معاشرے میں ایک بڑی گالی سمجھی جاتی ہے۔

فرانسیسی حکومت کا نہایت غیر سفارتی اور گلی کوچے میں بولی جانے والی زبان میں سخت ردعمل اس معاملے کی سنگینی اور آنے والے دنوں میں پاکستانی دفتر خارجہ کے لیے سامنے آنے والی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں: فرانسیسی حکومت کے احتجاج کے بعد شیریں مزاری کی ٹوئٹ حذف

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •