ذہنی صحت اور معاشرتی مسائل
ہمارے معاشرے میں ذہنی مسائل پر بات کرنے اور ان کو سمجھنے کا فقدان ہے۔ نہ صرف ہمارے سماج میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو اس موضوع کو غیر ضروری سمجھتی ہے بلکہ کافی حد تک اس بات کی قائل ہے کہ ایسے مسائل کی طرف توجہ دینے اور ان پر بات کرنے سے مزید پیچیدگیوں کا امکان ہے، جس کی وجہ سے عمومی طور پر ایسے مسائل کو نظر انداز کرنا ہی مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کے شواہد ہمیں پڑھی لکھی اشرافیہ میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جو کہ ایسے مسائل کو وقتی تناؤ اور عدم برداشت کے ترازو میں تولتے ہوئے ان کا گہرائی میں مشاھدہ کرنے سے کتراتے ہیں۔
مزید یہ کہ ان کے خیال میں اگر ایسے اسباب یا واقعات پر توجہ دی گئی تو اس بات کا امکان ہے کہ انہیں انفرادی سطح پر ٹکراؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ خود بھی مسئلے کی وجہ یا ان حالات کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اور یہ خود غرض سوچ مسئلے کی نشاندہی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر اس کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ اس طرح ہو گی کہ ہمارے ارد گرد کے افراد اکثر ذہنی مسائل پر بات چیت کرنے سے اس لیے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہی کی وجہ سے مذکورہ شخص ذہنی دباؤ یا ذہنی تناؤ کا شکار ہوا ہے۔ اس لیے وہ اس سچائی کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔
خواتین ایسے حالات میں متبادل جذباتی نکاس اور گھٹن زدہ ماحول سے چھٹکارا پانے کے لیے لیے دوسرے مشاغل جیسے کہ گھریلو سیاست یا شاپنگ وغیرہ سے اپنی ذہنی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں ہیں جب کہ مرد حضرات اس معاملے میں میں under the carpet والی سٹریٹجی رکھنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ہیں اور ایسے مسائل کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ہیں بعض اوقات یہی مسئلہ ان کی زندگی کے کئی پہلو اور خاص طور پر ان کے ارد گرد کے ماحول سے جڑے رشتوں پر اثر انداز ہو رہا ہوتا ہے ہے جس کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہوتی ہے۔
افراد کی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے بارے میں بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے جتنا ہم ان کی جسمانی صحت کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔ خاص طور پر گھریلو ماحول ایک خاندان کی اکائی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی اور معاشی ماحول بھی اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ فرد کی انفرادی صحت بحیثیت مجموعی اس کو ارد گرد کے ماحول سے منسلک کرنے میں کیا کردار ادا کرتی ہے جس سے ہمیں ایک محفوظ ماحول بنانے میں مدد ملے گی اگرچہ یہ مشکل کام ہے لیکن وقت کے بدلتے تقاضوں اور ہماری آنے والی نسلوں کی بہتری کے لئے ہمیں ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شخصی آزادی و انسانی حقوق اور بنیادی طور پر خواتین سے منسلک ہمارے معاشرتی رویوں میں عدم برداشت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو کہ کسی بھی مہذب
معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے یہ پہلو اچھی نسل پروان چڑھانے میں مدد کرتا ہے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ باہمی محبت سے گھر کا ماحول بہتر بنائیں اور سماجی طور پر بھی شخصی آزادی کو فروغ دین اور تمام لوگوں کے لئے تعلیم اور روزگار کے ساتھ ساتھ تفریح کے یکساں مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔


