کرونا کی دوسری لہر اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت دنیا پر کرونا کی تباہ کن یلغار جاری ہے۔ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ براعظم یورپ سب سے زیادہ متاثر ہے دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ سب سے زیادہ حملہ کی زد میں ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کرونا کے حملہ میں شدت آ چکی ہے۔ انسانیت کے لئے واحد امید ویکسین ہے تاہم ویکسین کی آمد کا شور تو ہے مگر عملی طور پر اس کی دستیابی بھی غیر یقینی ہے۔ امریکہ میں روزانہ کے کیسز دو لاکھ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ کے ہارنے کئی ایک وجہ کرونا کی ناقص پالیسی بھی بیان کی جاتی ہے۔

کرونا کے خلاف ٹرمپ کا رد عمل بھی وہی رہا ہے جو ہم میں سے بیشتر پاکستانیوں کا ہے۔ ہم پہلے کرونا کے وجود سے انکار کرتے رہے پھر اس کے کم پھیلاؤ کو ہم نے اپنی زیادہ قوت مدافعت سے جوڑ دیا پھر ہم میں سے کئی یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ہمارے ملک پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہے اس لیے بھارت اور ایران میں پھیلا ہوا ہے اور ہم بچے ہوئے ہیں۔ تو ہم بھارت میں موجود بیس کروڑ مسلمانوں اور ایرانیوں سے زیادہ نیک ہیں کہ کرونا ہم سے کنی کترائے گا۔

المیہ یہ ہے کہ ہر پاکستانی کے اندر ایک سائنسدان، ایک سیاستدان ایک عالم دین ایک فلاسفر اور ایک نجومی چھپا ہوتا ہے۔ جب جدید ترین دنیا کرونا کے آگے بے بس ہے ہم اپنے ٹوٹکوں سے کام چلا رہے ہوتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ پہلی لہر سے پاکستان اتنا زیادہ متاثر نہیں ہوا اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ حکومتی اقدامات اگرچہ ناکافی تھے تاہم لوگوں کے اندر ایک خوف تھا اور لوگ اندر بیٹھ گئے تھے۔ لوگوں نے کچھ عرصہ کاروبار بھی بند رکھے جس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا تھا۔

اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے شدید گرمی کی وجہ سے بھی پھیلاؤ کم ہوا تھا۔ مگر اب حالات پلٹ چکے ہیں اور کرونا کے پھیلاؤ کے لئے سازگا ر ہیں۔ سردی کی وجہ سے اس کا پھیلاؤ زیادہ ہو گا کیونکہ یہ ڈراپلیٹ کے ذریعے پھیلتا ہے۔ لوگوں کے اندر کرونا کا خوف بھی ختم ہو چکا ہے لوگ کاروبار بھی بند کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ملکی حالات بھی اس طرح پلٹا کھا چکے ہیں کہ کرونا کی پہلی لہر کے دوران جب عمران خان لاک ڈاؤن کرنے کی لئے تیار نہیں تھے تب ساری اپوزیشن اور سول سوسائٹی ان کو برا بھلا کہہ رہی تھی اور وہ پریشر میں تھے اس طرح حکومت کو بادل نخواستہ اقدامات کرنے پڑ رہے تھے۔

لیکن اب خود اپوزیشن سیاسی تحریک چلانے کے لئے جلسے کر رہی ہے اور کرونا کو پھیلانے کا سبب بن رہی ہے یہ عوامی ہجوم چند دن کے اندر کرونا پھیلانے کا سب سے بڑا سورس بن جائیں گے تب اپوزیشن کی تحریک اپنی موت آپ مر جائے گی۔ اس حوالے سے عمران خان کو سیاسی طور پر کرونا کی دوسری لہر نے مضبوط کیا ہے اور اپوزیشن کی اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر طور طریقہ استعمال کرنے کی پالیسی نے ان کو عوام میں آشکارا کر دینا ہے۔ اپوزیشن کی جماعتیں عوام کی صحت کا خیال کر تے ہوئے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی تحریک کیوں پس پشت ڈالنے پر تیار نہیں ہیں؟

کیا ان جلسوں سے حکومت چلی جائے گی؟ جبکہ حکومت کو ایسٹبلشمنٹ کی مکمل آشیرباد حاصل ہے اور ابھی تک آئینی طور پر حکومت کے تین سال باقی ہیں۔ کیا اس طرح تحریک انصاف کے اس الزام کو تقویت نہیں پہنچے گی کہ اپوزیشن ان جلسوں کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کو پریشر آئیز کر کے اپنے کرپشن کیسز کے لئے ریلیف لینا چاہتی ہے۔ نواز شریف صاحب ملک سے باہر بیٹھ کر حکومت پر گھن گرج رہے ہیں مگر پاکستان لوٹنے کو تیار نہیں بلاول بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا رویہ نرم رکھا ہوا ہے ان حالات میں ان جلسوں سے حکومت گرانے کا خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ان حالات میں اپوزیشن کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اپنی سیاسی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنی چاہئیں۔ یہ نہ ہو کہ زیادہ نقصان کی صورت میں حکومتی تساہل کا نزلہ بھئی اپوزیشن پر آن گرے۔

عوام میں دوسری لہر کی سنگینی بیان کرنے کے لئے حکومت کو فوری ور پر خود آگاہی کے اقدامات کرنے چاہیں۔ ماسک پہننے کو لازمی قرار دینا چاہیے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ایک بار پھر اپنے آپ کو اس بحران نما صورتحال پر فوکس کرنا چاہیے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پہلے کی طرح سمارٹ لاک ڈاؤن کے لئے علاقے تجویز کرے اور وہاں فوری طور پر آمدورفت محدود کرے۔ انتظامیہ نے اسمیں مہارت پہلی لہر میں حاصل کی ہوئی ہے اب اس کو پوری طاقت سے بروئے کار لانا چاہیے۔

پولیس کو چاہیے وہ گورنمنٹ کے ایس او پیز پر عملدرآمد کروائے۔ لوگوں کے اجتماعات نہیں ہونے چاہئیں۔ دکانداروں کے ساتھ بھی پولیس کو دانشمندی کے ساتھ نمٹنا ہو گا کیونکہ تاجر معاشی نقصان کا بھی یقیناً شکار ہوں گے لیکن زندگی کو بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے چاہیے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو سمجھانے چاہیے کہ ماہرین کی رائے میں کرونا کی یہ دوسری لہر اپنی پہلی لہر سے کہیں بدترین ثابت ہوگی اگر ہم نے خفاظتی اقدامات نہ کیے۔

اس حوالے سے لوگ علما کی بات غور سے سنتے ہیں علما کو چاہیے کہ لوگوں کو ترغیب اور تلقین کے ذریعے ان کی زندگیوں کو بچانے میں کردار ادا کریں۔ اس وقت ہمارے کیسز مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز یعنی ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی لباس اور سامان کی دستیابی یقینی بنانی چاہیے ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانی چاہیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •