قضائے الٰہی اور انسانی گناہوں کی سزا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خادم حسین رضوی قضائے الٰہی سے رحلت کر گئے، اللہ کی مرضی میں کسی کو کیا دخل؟ وہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے، سانس کی تکلیف تھی اور کھانسی بھی آ رہی تھی۔ بظاہر لگتا ہے کہ سب کرونا کی نشانیاں ہیں لیکن تصدیق نہیں ہو سکی۔ جانے فیض آباد کے حالیہ دھرنے میں کس سے انہیں کرونا لگا اور ان سے کتنوں تک پہنچا؟ تادم تحریر دسیوں ہزار لوگ کسی بھی طرح کی احتیاطی تدابیر کیے بغیر ان کے جنازے میں شریک ہیں اور کرونا (قضائے الٰہی؟

) کی پرواہ کیے بغیر۔ جانے کس کس کے لئے مغفرت کی دعا پڑھنی پڑے۔ آج جب یہ کالم چھپ چکے گا تو پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بڑا مجمع جمے گا تو بھی دسیوں ہزار لوگ کرونا کی پراہ کیے بغیر سیاسی و معاشی کرونا کے خلاف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے، کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنیں گے۔ ان کے لیے بھی پیشگی مغفرت کے سوا چارا نہیں۔ کرونا قدرت کا تحفہ نہیں۔ قدرت، ماحول اور بازگشت کے نظام (echo system) کے خلاف انسانی تجاوزات یا گناہوں کا ثمر ہے۔

ہم پھر بھی قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر رہنے پہ تیار نہیں۔ اور قدرت کو مسخر کرنے اور نفع کے لالچ میں ماحولیات کی تباہی پہ مصر ہیں تو پھر قضائے الٰہی سے مستفید ہونے کے مواقع ہم اندھا دھند اشیا پرستی (commodity fetishism) کے حصول کے لیے صبح شام پیدا کرتے رہیں گے۔ جس طرح کی دینیات ہم پڑھتے پڑھاتے ہیں، اس کا سائنس اور قدرت کے تقاضوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ اصرار بس اس پر ہے کہ سب اللہ کا دیا ہے جو مل جائے، اسے ہڑپ کر کے شکم کی بھوک کیسے مٹائی جائے، بھلے قدرت اور اس کے ذرائع کیسے ہی بڑے سرمائے کے مفاد میں تباہ کیے جاتے رہیں اور انسانی زندگی اور کرہ ارض یا دھرتی ماں کیسے ہی مٹ جائیں۔

اس زمانے کو ماہرین ارضیات اور بازگشت نظام کے مفسرین قدرت پر انسانی یلغار کا زمانہ (anthropocene) کہتے ہیں جب انسان اور زندگی کے تمام آثار خود انسانی سرگرمی کے ہاتھوں انجام کو پہنچیں گے۔ ماہرین سیاسی معیشت اسے تباہ کن سرمایہ داری نظام (Catastrophe capitalism) کا نام دیتے ہیں، جو تین بلاؤں کے امتزاج سے تشکیل پایا ہے۔

1۔ کرہ ارض کا ماحولیاتی و ایکالوجیکل بحران۔ 2۔ مہاماری (Epidemiology) وبائی امراض کی لہر۔ 3۔ نہ ختم ہونے والا عالمی سرمایہ داری کا بحران۔ اس کے ہاتھوں اور ناہموار عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کی بدولت چند عالمی سرمایہ دار کارپوریشنز نہ صرف قدرت کو تباہ کرنے، وبائی بیماریاں پھیلانے (اور پھر انہیں کنٹرول کرنے کے کاروباروں تک) اور نسل انسانی کے جم غفیر کو استحصال کا نشانہ بنانے اور اسے پاتال میں دھکیلنے پہ تلی بیٹھی ہیں۔

کرونا کی اس عالمی وبا کی قیامت میں بھی ان بڑی اجارہ دار سرمایہ دار کمپنیوں کی دولت میں کھربوں ڈالرز کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لوگ کرونا کی ویکسین دستیاب نہ ہونے کے باعث قضائے الٰہی کا شکار ہیں۔ لیکن اس سارے بحران کا سیاسی اظہار یا تو نیوفاشزم (ٹرمپ ازم وغیرہ) یا پھر نیولبرل ازم (بائیڈن ازم) کی صورت ہو رہا ہے جو استحصالی سیاست کے سکے ہی کے دو رخ ہیں۔ ایسے میں اچھے انسانی مستقبل کی نوید دینے والوں کو سننے والے کم رہ گئے ہیں۔

بات کہاں سے شروع ہو کر کہاں چلی گئی۔ خادم رضوی مرحوم اور ان کی طرز کے دیگر مقبول رہنماؤں کا سرعت سے عروج اور اچانک انجام کسی سازش کا نتیجہ نہیں۔ ہمارے عوامی سیاسی و معاشی ماحولیاتی اور ایکالوجیکل نظام ہائے قدرت و حیات کے بحرانوں کی دین ہے۔ مسلک ہو یا نسلی و نسلیاتی و صنفی تقسیم، اور اس کی لگائی گئی آگ کی بھٹی سے بڑے بڑے دیو برآمد ہوتے ہیں اور انسان انسان کا گلہ کاٹنے دوڑ پڑتا ہے۔ ہم مسلم دنیا کے باسی مغرب میں پھیلے اسلام فوبیا اور مسلمانوں سے کی جانے والی نسلی یا مذہبی تفریق پہ بہت ناک بھوں چڑھاتے ہیں لیکن کبھی گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تکفیر اور فرقہ وارانہ قتل عام میں زیادہ مسلمان مارے جا رہے ہیں۔

ایک طرف مسلم دنیا میں مغرب اور امریکہ کے ہاتھوں جاری جنگی جرائم سامنے آرہے ہوتے ہیں جو مسلمانوں کو مغرب کے خلاف بھڑکاتے ہیں تو دوسری جانب مسلمان نوجوان قہرآلود غصے میں دہشتگردی کی راہ اپنا کر مغرب میں فسطائی ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔ نتیجتاً اگر مشرق قہر انگیز بنیاد پرست تحریکوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے تو مغرب بھی فسطانیت کی جانب گامزن ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ ایسے میں موت اگر ہو رہی ہے تو انسانیت کی۔ بھائی بہن چارے کی، امن وآشتی کی، قدرت اور ماحول کی۔

اور دنیا امیرترین لوگوں اور غریب ترین لوگوں میں بٹے ہونے کے باوجود بیماری کی اصل جڑ کو اکھاڑنے کی بجائے مذہب، نسل، فرقے اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم ہو کر باہم غارت گری میں ہمہ تن مصروف۔ ہمارے ہاں بھارت کو دیکھیں وہاں ہندوتوا کے ہاتھوں مسلمانوں اور اقلیتوں اور خود ہندوستانی سماج میں محروم طبقوں کے ساتھ کیا خوفناک کھیل ہو رہا ہے، اور بھارت ہندوتوا کی فسطانیت کی آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اس پر بغلیں بجانے کی بجائے ہم خود اپنا جائزہ لیں تو حالات کہیں بدتر دکھائی دیتے ہیں۔

فرقہ واریت کی جڑیں تو تاریخی ہیں اور اب وہ ہر سو پھیلتی چلی گئی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد سے ہی فرقہ واریت نے زیادہ شدت سے سر اٹھا لیا تھا۔ اور فرقہ واریت کی نفرت انگیزی ایسی زوردار عامل ہے کہ یہ دفعتاً چھوٹے سے قضیہ سے شروع ہو کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ختم نبوت کا سوال ہویا پھر توہین کے اشتعال انگیز واقعات بڑے ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔ جو سلسلہ پہلے اینٹی قادیانی فسادات سے شروع ہوا تھا، وہ دوسری آئینی ترمیم کے باوجود فتنے کو ختم نہ کر پایا بلکہ دوسرے مسلم فرقوں تک پھیلتا چلا گیا۔

یوں لگتا ہے کہ اسلام کی تبلیغ کی بجائے اب مسلمانوں ہی کو کافر قرار دینے کی فیکٹریاں دن رات کام کر رہی ہیں۔ لوگ فرقہ وارانہ تقسیم میں اندھے ہوئے جاتے ہیں۔ کتنی ہی فرقہ پرست جماعتیں اور جہادی و فسادی گروہ ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے ہیں اور اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے کہ اپنے ہی نظریاتی بوجھ تلے دبی بیٹھی ہے۔ فرقہ پرستی کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ جب کوئی گروہ جب چاہے اسلام آباد کو یرغمال بنا لے اور اپنے مقتدیوں سے تحسین پائے۔

جب لیبک یارسول اللہ کا نعرہ لگے گا تو سادہ لوح مسلمان خود کو قابو میں کہاں رکھ پائیں گے۔ نام تو حضور کی شان کی حفاظت کا ہوتا ہے لیکن اظہار و اطوار کا حضور کے اسوہ حسنہ سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ سب چلتا ہے۔ اس کی سری بھی اس کی سری بھی۔ خادم حسین رضوی بھی ایک بڑا مظہر تھے جن کے جنازے میں دسیوں ہزار چاہنے والے سوگواروں کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بریلوی اور دیوبندی روایت کے نئے اوتار کیسے غضب کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 13 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam