ارنب گوسوامی: بیک وقت انڈیا کے سب سے مقبول اور ناپسندیدہ ٹی وی اینکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارنب گوسوامی
Getty Images
ارنب گوسوامی اکثر خبروں میں رہتے ہیں اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انڈیا کے سب سے متنازع ٹی وی اینکر ہیں۔ وہ حال ہی میں خبروں کی زنیت اس وقت بنے جب انھیں ایک خود کشی سے متعلق کیس میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس الزام کو مسترد کیا ہے اور انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

لیکن یہ مقدمہ ان کی تقسیم پیدا کرنے والی شخصیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

ارنب گوسوامی نے رواں برس اپریل میں اپنے ہندی زبان کے ٹی وی چینل ’ریپبلک بھارت‘ کے پرائم ٹائم شو میں کہا تھا ’ایک ایسا ملک جہاں 80 فیصد آبادی ہندو مذہب کی ماننے والی ہے، ہندو ہونا ایک جرم بن چکا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر آج ایک مسلم مولوی یا مسیحی پادری کو مار دیا جاتا تو کیا لوگ خاموش رہتے؟‘

وہ ایک ایسے واقعے کا تذکرہ کر رہے تھے جس میں دو ہندو ’مذہبی افراد‘ اور ان کے ڈرائیور کو دوران سفر مشتعل ہجوم نے تشدد کر کے مار دیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مشتعل ہجوم نے ان افراد کو غلطی سے بچے اغوا کرنے والے سمجھ کر تشدد کر کے ہلاک کیا تھا۔ اس واقعے میں حملہ آور اور تشدد کا نشانہ بننے والے تمام افراد ہندو ہی تھے۔ لیکن تقریبا ایک ہفتے تک ریپبلک ٹی وی نے ایسے پروگرام نشر کیے تھے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ متاثرہ افراد کی ہندو شناخت ہی اس جرم کا محرک ہے، جس کی بنیاد انڈیا کی حکومتی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کچھ اراکین کے بے بنیاد نظریے پر تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ممبئی ہائی کورٹ نے ارنب گوسوامی کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا

یس ارنب، بٹ ارنب!

ارنب گوسوامی اور کنال کامرا کا دوران پرواز ٹاکرا

ناقدین کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی کی شوخی، بے ربط شور شرابا اور جانبدار کوریج ہی اصل خطرہ ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ ان کے ٹی وی چینل کے ناظرین کو غلط اطلاعات، تفرقہ بازی، اشتعال انگیر نظریات پہنچنے کے ساتھ ساتھ ہندو قوم پرست جماعت بے جے پی کا پروپیگنڈا پہنچایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی چھ سالہ اقتدار کو انڈیا کے 22 کروڑ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی تفریق کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

ارنب گوسوامی اور ریپبلک ٹی وی انتظامیہ نے بی بی سی کی جانب سے ان کا انٹرویو کرنے اور جھوٹی، اشتعال انگیز خبریں نشر کرنے یا بی جے پی کی حمایت کرنے کے الزامات کے جواب کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

متنازع اور جھگڑالو انداز

ارنب گوسوامی

Getty Images

ارنب گوسوامی یقینی طور پر اس طرح کی کوریج کو اپنانے والے پہلے شخص نہیں ہیں لیکن انھوں نے اس میں پہلے سے کہیں زیادہ غصیلہ اور جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ ان کا سخت لہجہ اکثر انڈین معاشرے میں حساس مذہبی تفریق پیدا کرتا ہے۔

مثال کے طور پر رواں برس اپریل میں انھوں نے غلط طور پر ایک مسلم تبلیغی جماعت پر کورونا لاک ڈاؤن کے احکامات کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا تھا کہ ’اس جماعت کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا جائے۔‘

انڈیا میں کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں اس تبلیغی گروہ نے دہلی میں ایک اجتماع کیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں ایک ہزار کورونا متاثرین کا تعلق اس اجتماع سے جوڑا گیا تھا۔ جبکہ اس اجتماع کے منتظمین کا اصرار تھا کہ اس اجتماع کا انعقاد حکومت کے لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے قبل کیا گیا تھا۔ انڈیا کی بہت سی عدالتوں نے بھی اس دعوی کو تسلیم کیا ہے۔

لیکن ریپبلک ٹی وی سمیت دیگر بہت سے ٹی چینلز کی جانب سے اس متعلق غلط خبریں اور پروگرام نشر کیے جانے کے باعث انڈیا کے سوشل میڈیا پر اسلاموفوبیا کے متعلق ردعمل کو ہوا ملی۔

ارنب گوسوامی نے اپنے جھگڑالو انداز میں کیے پروگراموں میں سے ایک میں کہا تھا ’ آپ کو چاہے اچھا لگے یا برا لیکن آج (کورونا کے وبا) جن مشکل حالات سے یہ قوم گزر رہی ہے اگر اس کا کوئی ایک مجرم یا قصوار وار ہے تو وہ تبلیغی جماعت ہے۔‘

ارنب گوسوامی

Getty Images

اس کے بعد جولائی میں ریپبلک ٹی وی نے اپنی توجہ بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ کی موت پر مرکوز کر لی، پولیس نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ لیکن سشانت سنگھ کے اہلخانہ نے ان کی گرل فرینڈ ریا چکرورتی کے خلاف پولیس کو درخواست دے دی جس میں انھوں نے ریا چکرورتی پر سشانت سنگھ کو خودکشی کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا۔

تاہم ریا چکرورتی نے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن ان الزامات نے انڈین میڈیا پر ایک زن بیزار اور سخت نفرت آمیز کوریج کی لہر کو جنم دیا۔ ریپبلک ٹی وی نے سشانت سنگھ کو خودکشی پر ترغیب دینے کے الزامات پر ریا چکرورتی کے خلاف ایک مہم چلاتے ہوئے انھیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور ٹی وی سکرین پر ’اریسٹ ریا ناؤ‘ یعنی ’ریا کو فوراً گرفتار کرو‘ کے ہیش ٹیگ بھی چلائے۔

انڈین نیوز میڈیا پر ہفتہ وار تنقیدی جریدے نیوز لانڈری کی ایگزیکٹو ایڈیٹر منیشا پانڈے کہتی ہیں کہ ’انڈیا میں لوگوں کو ریپبلک ٹی وی اور امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کا موازنہ کرنا پسند ہے لیکن میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔ البتہ فوکس نیوز کو صدر ٹرمپ کا حمایتی تصور کیا جاتا ہے لیکن ریپبلک ٹی وی تو سیدھا سیدھا پروپیگنڈا کرتا ہے اور اکثر یہ موجودہ حکومت کی خدمت بجا لاتے ہوئے غلط اور بنے بنیاد خبریں پھیلاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ریپبلک ٹی وی اصل میں کیا کرتا ہے، یہ معاشرے کے ایسے کمزور طبقے کے افراد یا ان میں جن میں لڑنے کی طاقت نہیں ہوتی منفی انداز میں یا ولن بنا کر پیش کرتا ہے۔ چاہے وہ کارکن، نوجوان طلبا، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد یا مظاہرین ہی کیوں نہ ہوں۔‘

ارنب گوسوامی

BBC

مداح اور ناقدین

ریپبلک ٹی وی نیٹ ورک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انڈیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی نیٹ ورک ہے، یہ دعویٰ ٹیلی ویژن ریٹنگ پلیٹ فارمز پر چینلز کے بہتر اعداد و شمار کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ اعداد و شمار متنازع ہیں اور ارنب گوسوامی اور ریپبلک نیٹ ورک سے اس میں رد وبدل کرنے کے متعلق تفتیش کی جا رہی ہیں، تاہم ارنب اور ریبپلک ٹی وی نیٹ ورک نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مگر یہ واضح ہے کہ ارنب گوسوامی کے بڑے پیمانے پر مداح موجود ہیں اور ان کی وسیع پیمانے پر فالونگ ہے۔

گریدھر پاسپیولیٹی جو ایک فنانشل کنسلٹنٹ ہیں کا کہنا ہے کہ ’جب شام کو میں گھر واپس آتا ہوں تو جو پہلا چینل میں لگاتا ہو وہ ریبپلک ہے۔ ارنب گوسوامی بہت نڈر ہیں اور وہ عوام کو سچ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں ریپبلک ٹی وی پر جھوٹی خبریں چلانے کے الزامات پر تشویش ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس پر یقین نہیں ہے، وہ ہمیشہ تحقیقات کے بات سچ بتاتے ہیں۔‘

لچمن ادنانی جو ایک اکاؤنٹینٹ ہیں کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک طرح سے چمک دمک والی صحافت ہے لیکن اس میں مکمل طور پر پیغام یا خبر پہنچانا ضروری ہے۔ یہ بھی ایک طرح کا شوبز ہے۔ اس کی چمک دمک کو نظرانداز کریں اور دی جا رہی معلومات کو دیکھیں، جو دوسرے چینلز کی کارکردگی سے مختلف ہیں۔‘

مصنفہ شوبا دی کا ماننا ہے کہ اس قسم کا اثر و رسوخ خطرناک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تحقیقاتی صحافت کے لیے ہمیں مزید سخت معیار اپنانے کی ضرورت ہے، ہمیں زیادہ سخت جانچ پڑتال کے عمل کو لانے کی ضرورت ہے۔ ہم یقینی طور پر اس دھونس، شیخی بازی اور جھوٹ کے برانڈ کے بغیر ایسا کر سکتے ہیں۔‘

اس سب کا آغاز کیسے ہوا؟

ارنب گوسوامی

Getty Images

ارنب گوسوامی انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک آرمی آفیسر تھے، انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے گریجوئیشن مکمل کی اور ماسٹرز کے لیے برطانیہ کی اکسفورڈ یونیورسٹی کے لیے سکالرشپ حاصل کی۔

انھوں نے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کولکتہ (سابقہ کلکتہ) کے روزنامہ دی ٹیلی گراف اخبار سے کیا، بعدازاں انھوں نے انڈیا کے پہلے نجی نیوز چینلز میں سے ایک این ڈی ٹی وی میں ملازمت اختیار کر لی۔ ان کے پرانے ساتھی انھیں ایک متوازن اینکر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو اچھے انداز میں مباحثہ کرواتے تھے۔

مزید پڑھیے

ارنب گوسوامی پر سوشل میڈیا میں پھر بحث

‘بلایا ہے تو بات کرنے دیں، مائیک کیوں میوٹ کیا؟’

کپل شرما شو کے بعد ’ارنب گوسوامی کے حامی بڑے صدمے میں ہوں گے‘

وہ جو آج سکرین پر ہیں، اس کی شروعات سنہ 2006 میں ہوئی جب انھوں نے ٹائمز ناؤ چینل کو جوائن کیا جس نے انھیں اپنے سب سے مرکزی چہرے کے طور پر پیش کیا۔

انھوں نے اس وقت انڈیا کے متوسط طبقے کی نبض پر ہاتھ رکھا جو اس وقت کی حکمران جماعت کانگرس پر ممبئی حملوں میں سکیورٹی ناکامیوں اور کرپشن سکینڈلز پر سخت نالاں تھی۔ وہ بہت جلد ہی انڈیا کے ہر گھر میں مقبول ہو گئے۔

ارنب گوسوامی سنہ 2017 میں ریپبلک ٹی وی نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے کے بعد مزید سخت اور جانبدار بن گئے۔ سنہ 2019 میں انھوں نے ہندی زبان میں بھی ایک چینل لانچ کیا اور اپنے مقبولیت کو شہروں سے دیہاتوں تک بڑھا دیا۔

مصنفہ شوبا دی جو کبھی ارنب گوسوامی کے پروگراموں میں بطور مہمان شریک ہوتی تھیں کا کہنا ہے کہ ’میں اکثر ان کے پروگرام میں بطور مہمان شریک ہوتی تھی، اس وقت بطور صحافی ان کی ساکھ اچھی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میں نے اس وقت ان کے پروگراموں میں شرکت کرنا چھوڑ دی جب انھوں نے بطور ایک غیر جانبدار صحافی جو اپنا کام کرتا ہے کی قدر میری نظر میں گنوا دی۔ وہ متعدد محاذوں پر صف آرا رہے ہیں اور ان دنوں اس کی ساکھ پر سنگین سوالات ہیں۔‘

ارنب گوسوامی

Reuters

مسٹر گوسوامی کو حال ہی میں ایک ایسے آرکیٹکٹ کی موت پر گرفتار کیا گیا تھا جس نے ان کا سٹوڈیو ڈیزائن کیا تھا۔ وہ اور ریپبلک ٹی وی نیٹ ورک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ ان پر معمار کی رقم واجب الادا ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں مہاراشٹرا کی حکومت پر کڑی تنقید کرنے پر نشانہ بنایا گیا، جس کی سربراہی بی جے پی کے سابقہ ​​اتحادی شیو سینا نے کی تھی۔

ارنب گوسوامی کی سیاسی جانبداری اس وقت واضح ہو گئی جب بی جے پی کے متعدد وزرا ان کی حمایت میں سامنے آئے اور ان کی گرفتاری کو انڈیا میں پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔

یہ ایک بہت حیرت انگیز دعویٰ تھا کیونکہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران درجنوں صحافی گرفتار یا حراست میں لیے گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں پر دہشت گردی اور ملک غداری جیسے سنگین الزامات لگے لیکن بی جے پی رہنماؤں اور وزرا نے کبھی ان کے حق میں کوئی بات نہیں کی۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے جاری کردہ پریس فریڈم انڈیکس کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا اب 180 ممالک میں سے 142 نمبر پر ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں اس فہرست کی درجہ بندی میں چھ پوائنٹ تنزلی ہوئی ہے۔

2018 میں خلیجی اخبار گلف نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، ارنب گوسوامی سے بی جے پی کے تعصب کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا ’یہ ایک غیر تصدیق شدہ شکایت ہے۔ در حقیقت، جب کسی معاملے پر بی جے پی پر تنقید کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم ان پر سب سے سخت تنقید کرتے ہیں۔‘

ارنب گوسوامی

Getty Images

گذشتہ ہفتے ارنب گوسوامی کو سات دن کی حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ نیوز روم میں ان کی واپسی ریپبلک نیٹ ورک پر براہ راست نشر کی گئی تھی جس میں ہیش ٹیگ ’ارنب از بیک‘ یعنی ارنب واپس آ گئے نمایاں طور پر دکھایا گیا تھا۔

ان کی ٹیم نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا تھا، اس موقع پر ارنب گوسوامی نے ڈرامائی تقریر میں کہا کہ ’وہ ہماری صحافت کی وجہ سے ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔ میں اپنی صحافت کی حدود کا فیصلہ خود کروں گا۔‘

منیشا پانڈے کہتی ہیں ’جو ریپبلک پیش کرتا ہے اسے صحافت نہں کہا جا سکتا۔ وہ صرف ایک اچھا ریئلٹی ٹی وی ہے لیکن وہ کامیابی سے لوگوں کی رائے کو رنگ دے دیتے ہیں اور جمہوریت میں یہ بات مسئلہ کا باعث ہے۔

اس مضمون کے لیے اضافی رپورٹنگ آکرتی تھاپر نے کی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21709 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp