کورونا۔ غیر ذمہ داری، ذمہ داری کے ساتھ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک کام بہت زیادہ کرتے ہیں کہ کوئی کام نہیں کرتے۔ ہماری یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہر کام ہو جائے مگر کوئی کام نہ کرنا پڑے۔ ہم میں، ہم سب میں یہی ایک قدر مشترک ہے کہ ہم سب کچھ کرنا تو چاہتے ہیں مگر کچھ کرنا نہیں چاہتے یہی آج کل کورونا سے نمٹنے کے معاملے پر ہو رہا ہے ہر شخص کورونا کی شدت سے آگاہ ہے دنیا بھر میں کورونا کی تباہی سے باخبر ہے ویکسین کی غیر موجودگی کو بھی جانتا ہے احتیاط کی ضرورت کو بھی سمجھتا ہے مگر پھر بھی سمجھ نہیں آتی کہ لوگ آخر سمجھ کیوں نہیں پا رہے کہ اس وبا کا مقابلہ طاقت سے نہیں بلکہ احتیاط سے ہی کیا جاسکتا ہے مگر ہم سب نے تو جیسے احتیاط نہ کرنے کی قسم اٹھا لی ہے کیا عوام کیا خواص، کیا مارکیٹس اور کیا بازار، کیا اسکولز کیا دفاتر، کیا حکومت اور کیا اپوزیشن کوئی بھی کہیں بھی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہا۔

دسمبر 2019 کو چین سے سر اٹھانے والے کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اب تک کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں امریکہ، اٹلی اور بھارت شامل ہیں مجموعی طور پر اب تک 5 کروڑ سے زائد لوگ اس سے متاثر ہوچکے اور اس کے نتیجے میں 13 لاکھ سے زائد لوگوں کی موت واقع ہو چکی ہے پاکستان میں پہلا کیس فروری میں سامنے آیا تو اس وقت ایک گو مگو کی کیفیت تھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اور پھر صحت کی ناکافی سہولیات کے پیش نظر ایک خوف تھا مگر اس کے باوجود سب نے ہمت اور حوصلے سے کام لیا حکومت نے مرحلہ وار بہتر اقدامات اٹھائے عوام نے بھی بھر پور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

بروقت لاک ڈاؤن اور احتیاطی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان حیران کن طور پر بہتر انداز میں کورونا وبا کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوا اور دو لاکھ سے بڑھ جانے والے ایکٹو کیسز رفتہ رفتہ کم ہو کر دس ہزار تک آن پہنچے مگر بعد ازاں ہماری روایتی غیر سنجیدگی، غیر ذمہ داری اور بے احتیاطی کے نتیجے میں کورونا کیسز میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہوا جس میں اب شدت آ چکی ہے اب کی بار شرح اموات بھی کہیں زیادہ ہے جو کہ سات سے آٹھ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اس بار کورونا جس شدت سے سر اٹھا رہا ہم اسی تیزی سے سر چھپا رہے ہیں اور اس افسوسناک طور میں ہمارے اقدامات پہلے سے کہیں مختلف دکھائی دے رہے ہیں جس میں ہماری غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری نمایاں ہے حیرت تو اس بات پر ہے کہ ذمہ داری کا احساس تو سب دلا رہے ہیں مگر ذمہ داری کا احساس کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ابھی پچھلے دنوں وزیر اعظم نے سرکاری جلسوں اور تقریبات کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہر قسم کے جلسوں پر پابندی عائد کر دی مگر اس پہلے حکمران جماعت نے گلگت کے انتخابات کے موقع پر اپنی انتخابی مہم میں اپوزیشن کے جلسوں کے جواب میں بھر پور سیاسی جلسے کیے یعنی گلگت کے انتخابی مہم کے ذریعے کورونا کی احتیاطی مہم کو بھر پور طریقے سے سبوتاژ کیا گیا جب تک حکومت کو اپنی ضرورت تھی تو اس وقت تک نہ تو کورونا کی شدت کا احساس کیا گیا اور نہ ہی ایس او پیز کا پاس مگر اس کے باوجود دیر آئد درست آئد۔ اب دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم حکومت کی طرف سے جلسوں پر عائد کردہ پابندی کو اپنے خلاف سازش قرار دے رہی ہے اور مسلسل جلسے کرنے پر بضد دکھائی دے رہی ہے۔

سیاست بڑی بے رحم چیز ہے اس کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا بلکہ مفادات دھڑکتے اس میں کسی بھی بات کی اہمیت کو نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ سامنے والے کی حمایت یا مخالفت کو دیکھا جاتا ہے بات اپنے مفاد کی ہو تو غلط بات کو بھی ٹھیک مانا جاتا ہے اور اگر بات مفاد کے خلاف ہو تو ٹھیک بات کو بھی غلط قرار دیا جاتا ہے کورونا کی پہلی لہر سامنے آئی تو یہی اپوزیشن تھی جو بروقت حفاظتی اور احتیاطی اقدامات نہ اٹھائے جانے کے حوالے سے مسلسل حکومت پر تنقید کر رہی تھی جب وزیر اعظم لاک ڈاؤن کی مخالفت کر رہے تھے تو حزب اختلاف لاک ڈاؤن کی سب سے بڑی حامی تھی اور بار بار یہ بات دوہرائی جا رہی تھی کہ حکومت لاک ڈاؤن نہ کر کے حکومت عوام کو کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتی ہے اس وقت اپوزیشن حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلا رہی تھی مگر آج جب حکومت نے جلسوں پر پابندی عائد کی تو اسے اپنی عوامی رابطہ مہم کے خلاف سازش قرار دے رہی ہے تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتی تقریبات ہوں یا اپوزیشن کے جلسے کہیں بھی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔

جو کہ ہمارے ذمہ دار لوگوں کی انتہائی غیر ذمہ داری ہے حالانکہ کورونا کے معاملے پر اس وقت انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے حکومت اور اپوزیشن کو سیاست سے بالا تر ہو کر ملک اور قوم کو آنے والے خطرے سے بچانے کے لیے ایک پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے جس عوام کے نام پر وہ سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں اگر کورونا کے نتیجے میں وہ عوام کسی سنگین صورتحال سے دوچار ہو گئی تو پھر کیسی سیاست اور کیسی عوامی رابطہ مہم۔ اور پھر سر اٹھاتی اس سنگین صورتحال میں جب تمام ذمہ دار لوگ انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں عوام کو تو کم از کم اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے یہ ”جان ہے تو جہان ہے“ اپنے لیے اپنے خاندان اور اپنے پیاروں کی حفاظت اور صحت کے لیے جہاں تک ہو سکے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں سماجی فاصلے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے اور مسلسل ہاتھ دھو کر ہی ہم بہتر انداز میں اس وبا کا مقابلہ کر سکتے ہیں یقیناً یہ وقت ایک دوسرے سے مقابلے کا نہیں بلکہ کورونا سے مقابلے کا ہے اور کورونا سے مقابلہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم سب اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے جس طرح ہم غیر ذمہ داری میں ذمہ داری دکھا رہے ہیں اسی طرح اگر ہم ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم ایک بار پھر کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •