ذہنی اذیت اور انسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس معاشرے میں تین طرح کے لوگ موجود ہیں۔ ایک وہ، جو اس اذیت سے دوچار کیے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ، جو دوسروں کو اس اذیت سے دوچار کرنا پسند کرتے ہیں اور تیسرے وہ، جو خود بھی اس اذیت کا شکار رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں مبتلا رکھتے ہیں لیکن اپنا رویہ درست کرنا پسند نہیں کرتے۔

ذہنی اذیت کیا ہے، یہ اس کو برداشت کرنے والا ہی جان سکتا ہے، اس میں ڈالنے والا نہیں۔ اگر وہ اس کی سختی سے واقف ہو، تو شاید کبھی ایسا نہ کرے۔ پر افسوس، وہ شخص ایسا کرتا ہے۔ یہ جسمانی تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہے جو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے۔ یہ انسان کی احساسات کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ انسان کی روح کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ تکلیف ایسی ہے جیسے کسی نے انگاروں کی چادر بچھا دی ہو اور اس پہ ننگے پاؤں کھڑا رہنے پہ مجبور کر دیا ہو۔ یہ اذیت ایسی ہے جیسے جسم میں لاتعداد سوئیاں گاڑ دی گئی ہوں اور ان کو نکالنے کی اجازت نہ ہو۔ انسان تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہ تکلیف نہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی کسی بات اور کسی عمل سے اردگرد موجود کسی انسان کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ کتنا غلط ہے یہ خیال! پاس ہی کوئی ایسا بھی موجود ہوتا ہے جو کسی کے ایک لفظ سے گھنٹوں سوچوں میں گزار دیتا ہے۔ کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو ان رویوں اور لفظوں کے زہر سے پل پل مرتا ہے۔ ایک منفی بات اس انسان پر کیا اثر کرے گی یا ایک تکلیف دہ عمل کا کیا رد عمل ہو گا یا رویوں اور محبت کی اس غیر متوازن تقسیم سے کسی پر کیا اثر ہوگا اور وہ اس کے رد عمل میں کس حد تک جائے گا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے، وہ غلط ہے لیکن رکتا کوئی نہیں ہے اور اس انسان کو تباہی کے دہانے تک پہنچا کر ہی سکون کا سانس لیتے ہیں۔ عجب کھیل ہے یہ۔

مجھے حیرت ہوتی ہے اس معاشرے پر جہاں ذہنی صحت جیسے اہم اور نازک موضوع پر کوئی بات ہی نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی فلاح کے لیے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ کرنا چاہے تو ”کیا فضول بات ہے“ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے لیکن اس کو تباہ کرنے پر ہر کوئی سرگرم ہے۔ صد افسوس کہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے کا رواج ختم کر کہ دوسروں کے دکھ اور تکلیف پہ خوش ہونے کا رواج قائم کیا جا رہا۔ ذہنی تکلیف دکھائی نہیں دیتی تو کیا اس کا کوئی وجود نہیں؟

یہ دکھائی نہیں دیتی تو کیا محسوس نہیں ہوتی؟ اس اذیت کی وجہ سی انسان مفلوج ہو کر رہ جاتا۔ پھر اسی انسان سے پوچھا جاتا ہے کہ ”ہم نے تمہیں ایسا کیا کہہ دیا ہے؟“ پھر اسی انسان کو ناکارہ کہہ کر مزیدتوڑا جاتا ہے۔ اس کو اس حد تک لے جایا جاتا ہے ک وہ خود کو ختم کر بیٹھے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ”ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔“

اللہ نے خاندان اور معاشرے کے اصول اسی مقصد سے بنائے ہیں تاکہ انسان اپنا ذہنی تواذن نہ کھو بیٹھے۔ آدم کے لیے حوا کو اسی لیے بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے محسوسات کو قائم رکھ سکے، زندہ محسوس کر سکے۔ لیکن جب یہ قریبی رشتے ہی جان لینے پہ اس حد تک آمادہ ہو جائیں کہ ذہنی اذیت دے دے کہ مار دیں تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ افسوس ہے ک جیسے جیسے یہ معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہو رہا ہے، ویسے ویسے روبط صرف برقی رہ گئے ہیں۔ آج کل پرائے لوگوں سے زیادہ قریبی رشتے اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور ایسا ڈالتے ہیں کہ اس کاشکار انسان کبھی زندگی کی طرف نہیں لوٹ پاتا۔ انسان جس پر سب سے زیادہ اعتبار کر کے اپنا آپ کھول دیتا ہے، وہی اس کو توڑ کر کرچی کرچی کر دیتا ہے۔

منتشر ذہن کے ساتھ لکھی گئی اس تحریر کا صرف ایک مقصد ہے کہ خدارا اس اذیت کی گہرائی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ جہاں قریبی رشتے اس حد تک چلے جائیں وہاں غیروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس تحریر کا صرف ایک مقصد ہے کہ کسی کی خوشی خا بائث بننا اگر اب اس قدر مشکل ہو چکا تو کسی کی خوشی کو غمی میں تبدیل نہ کریں اور اس کے لیے دکھوں کا اتنا انبار نہ لگا دیں کہ ان کو سمیٹتے سمیٹتے وہ زندگی کے حسیں لمحات کو کھو دے۔ خدارا اس بات کا احساس کریں کہ ضروری نہیں کہ جو بات ایک شخص کے لیے غیر اہم ہے، وہ دوسرے کے لیے بھی ہو۔ دوسرے انسان کو وہ بات کس طرح تکلیف میں ڈال سکتی، اس کا اندازہ بھی کوئی نہیں لگا سکتا۔

اپنوں کا ایک ایک لفظ، ان کا ایک ایک رویہ دل پہ نقش ہو جاتا جو اگر اس طرح منفی ہو تو ایسی اذیت سے دوچار کر دیتا جس سے ابھرنا ناممکن ہو جاتا۔ اس اذیت کو جتنا ہو سکا لفظوں کی زبان دینے کی کوشش کی ہے لیکن اس کو بیاں کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اگر اس کو بیاں کیا جا سکتا تو لازمی طور پہ آج اس کا وجود نہ ہوتا۔ افسوس!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سماویہ تزئین کی دیگر تحریریں