تحفظ ناموس رسالتﷺ کا عظیم داعی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور ناموس رسالت کے عظیم داعی علامہ خادم حسین رضوی مختصر علالت کے باعث داعی اجل کو لبیک کہہ گئے عاشق رسولﷺ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ مینار پاکستان کی وسیع و عریض گراؤنڈ میں لاکھوں عقیدت مندوں نے ادا کی۔ علامہ خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے حافظ قرآن تھے اور عربی ’اردو اور فارسی کی زبانوں پر انہیں عبور حاصل تھا۔ علامہ خادم حسین رضوی نے ساری زندگی عشق مصطفی ﷺ کا چراغ روشن کیے رکھا اور وقت کے اٹھنے والے ہر فتنے کا ڈت کر مقابلہ کیاوہ ایک ممتاز عالم کے ساتھ ساتھ ناموس رسالتﷺ کے عظیم داعی بھی تھے۔

علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ وہ زندگی ہی فضول ہے اگر مسلمان اپنے آقا حضور ﷺ کے ناموس رسالت پر کھڑا نہ ہو اور اس کی حفاظت میں نہ آئے سارا عالم بیکار ہے جس میں آقا حضور نبی اکرم ﷺ کی عزت نہ ہو۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں ہر دور میں ایسی شخصیات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہیں اور اپنے حصے کا کام اپنے کردار و عمل کے ساتھ سر انجام دے کر اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔ لیکن تاریخ میں ان کا کردار آج بھی انمٹ نقوش کے ساتھ سنہری الفاظ میں درج ہے۔

چاہے وہ معتزلہ کے خلاف اٹھنے والے امام ابو الحسن اشعری ؒہوں یا فتنہ خلق قرآن کے خلاف آواز بلند کرنے والے امام احمد بن حنبلؒ‘ باطنیت اور فلاسفہ کو رد کرنے والے امام غزالیؒ ہوں یا دین اکبری کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے شیخ احمد سرہندیؒ ’مراہٹہ کے خلاف ابدالی کو آواز دینے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ہوں یا پھر ہندوستان میں عشق رسول ﷺ کی شمعیں روشن کرنے والے امام احمد رضا فاضل بریلویؒ‘ فتنہ قادیانیت کے زہر کو ختم کرنے والے پیر مہر علی گولڑویؒ ’ہوں یا پستی کے دور میں مسلمانوں کو عروج کا خواب دینے والے ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒہوں۔

ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین پر ایسی شخصیات ضرور پیدا کیں جنہوں نے دین محمدی ﷺ کا علم اٹھا کر اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنے کو نہ صرف رد کیا بلکہ اپنے عمل سے باطل قوتوں کا مقابلہ بھی کیا۔ دور حاضر میں جہاں اور بہت سے حوالوں سے دین اسلام کے خلاف سازشین کی جا رہی ہیں ان میں سب سے زیادہ نازک مسئلہ ناموس رسالت ﷺ کا ہے حضور ﷺ کی ناموس جیسے نازک معاملے کو لے کر کفار نے ماضی میں بھی ہرزہ سرائیاں کیں جن پر ان ادوار کی ناموس رسالت کی پاسدار شخصیات نے کفار کو منہ توڑ جواب دیا اور اب موجودہ دور میں تو یہ معاملہ کئی حوالوں سے شدت اختیار کر چکا ہے آئے روز اس نازک معاملے پر امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلنا کفار کا وتیرہ بن چکا ہے۔

ان حالات میں علامہ خادم حسین رضویؒ نے جو کردار اپنی بلند آہنگ آواز کے ساتھ ادا کیا ایسی آواز کی اشد ضرورت تھی جو شدت کے ساتھ اس معاملے کو اٹھاتی اور مسلمانوں کو اس نازک مسئلے کا احساس دلاتی جس سے کم از کم امت مسلمہ کے دلوں میں وہ شمع ضرور روشن رہتی جس کو کفار صدیوں سے بجھا دینا چاہتے ہیں۔ ناموس رسالت کا معاملہ اگر اتنا اہم نہ ہوتا تو صلاح الدین ایوبیؒ جیسا سپہ سالار جو میدان جنگ میں دشمن پر رحم کرنے کی مثالیں پیش کر چکا ہے ریجنالڈ جیسے بد باطن بادشاہ کی گردن اڑانے کی قسم نہ کھاتا اور پھر سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے یہ کر بھی دکھایا۔

ناموس رسالت ﷺ کا معاملہ ہر دور میں امت مسلمہ کے لئے نازک ترین رہا اور آج کے دور میں بھی اس نزاکت ماضی کی طرح برقرار ہے۔ اب بھی کفار مختلف حیلوں کے ذریعے جب مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں تو علامہ خادم حسین رضوی جیسی شخصیت کی اشد ضرورت تھی جو صرف اور صرف امت مسلمہ کی آواز بنے۔ علامہ خادم حسین رضویؒ سیدالانبیا‘ سید المرسلین ’خاتم النبیے ن‘ شفیع المذنبین کے ایک ادنی سے پیرو کار تھے انہوں نے اپنی زندگی کو حضور ﷺ کی محبت میں ڈھال کر کامیابی کی ضمانت بنا رکھا تھا وہ اس ہستی کا سپاہی تھا جس کے سر تخلیق کائنات کا سہرا ہے جس کو اللہ تعالی نے اس روئے زمین کے ذرے ذرے کا نبی بنا کر بھیجا۔

کفار اسلام پر شدت پسندی کا الزام لگا کر دراصل اسلام دشمنی میں اندھے ہو چکے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضویؒ کی شخصیت ان کے انداز بیاں ’گفتگو اور اپنے مطالبات منوانے کے طریقہ کار سے ہزار اختلاف سہی لیکن انہوں نے اپنا فرض پورا کیا ان کی نیت پر شک نہیں علامہ خادم حسین رضوی سے سب سے زیادہ اختلاف ان کی شدت پسندی کی وجہ سے کیا جاتا تھا لیکن تاریخ اس بات کی آج بھی شاہد ہے کہ جب منگول عالم اسلام کی دیواریں پھلانگ کر صحن میں اتر آئے اس وقت شیخ نجم الدین کبریٰؒ اور خواجہ فرید الدین عطار ؒ جیسے گوشہ نشین صوفیا بھی تلواریں سونت کر گلیوں میں یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ منشاء الہی یہی ہے۔

علامہ خادم حسین رضوی سے اس کی شدت پسندی پر اختلاف رکھنے والے یہ بات بھی ذہن میں ضرور رکھیں کہ بعض معاملات میں شدت پسندی ہی مومن کا وتیرہ ہوتی ہے۔ یہ قول بھی تو عالم اسلام کے سب سے بڑے جرنیل سلطان صلاح الدین ایوبی کاہی ہے کہ مجھے نہیں معلوم اسلام اخؒلاق سے پھیلا یا تلوار سے لیکن میں اسلام کی حفاظت میں تلوار ضرور اٹھاؤں گا۔ بس یہی بات اسلام نے بڑھ کر حملے میں پہل کا درس نہیں دیا لیکن دفاع کا سبق ضرور سکھایا دور حاضر میں کوئی اور ایسی شخصیت نہیں آئی جس نے ناموس رسالت ﷺ کے معاملے کو زبان زد عام کیا ہو اور ایک عام مسلمان کے ذہن کو بھی اس نازک ترین معاملے کی فہم پہنچائی ہو۔ علامہ خادم حسین رضویؒ اپنے حصے کا جو کام تھا وہ کر گئے باقی اختلاف ہے جو کسی بھی معاملے پر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ علامہ خادم حسین رضویؒ کے درجات بلند کرے اور ان قبر کو منور فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے (آمین)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •