گاؤں، بچپن، جگنو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھار انسان جب حال کے روز و شب سے اکتا جاتا ہے۔ تھکن اور چڑچڑاپن طاری ہونے لگتا ہے۔ تو وہ لاشعوری طور پہ ماضی کی خوشگوار یادوں میں پناہ لیتا ہے۔ اور یقین کریں، یہ ایک طرح کا کتھارسس ہوتا ہے، جو آپ کو ہشاش بشاش کر دیتا ہے۔

چلو پھر ڈھونڈ لیتے ہیں اسی نادان بچپن کو
انہی معصوم خوشیوں کو انہی رنگین لمحوں کو

کس قدر سادہ اور خوبصورت زمانہ تھا، ہر قسم کے فکروفاقہ سے آزاد، امارت اور غربت کے احساس سے بالاتر، پورا گاؤں ایک ہی خاندان کی طرح ہی لگتا تھا۔ اگر گاؤں کے کسی گھر میں کوئی بیمار ہو جاتا، تو پورا گاؤں تیمارداری کے لئے آ جاتا، اور ہر قسم کے دیسی ٹوٹکے استعمال کیے جاتے، حیرت کی بات یہ تھی، کہ لوگ ان سے ٹھیک بھی ہو جاتے۔ تب شاید لوگوں میں خلوص بھی خالص تھا، جس کی تپش ہر قسم کی بیگانگی اور تکلف کے پردے اٹھا دیتی تھی۔

جاڑے کی آمد کے ساتھ ہی ہر گھر میں السی کی پنیاں، چنے کی دال اور ماش کی دال کے حلوے بنائے جاتے، نشاستہ بنایا جاتا جس کے بنانے کا طریقہ بہت مشکل تھا۔ گو کہ ہم اس وقت چھوٹے تھے، لیکن یاد پڑتا ہے، پہلے کئی دنوں گندم بھگوئی جاتی، ہر روز اس کا پانی بدلا جاتا، پھر اسے دھوپ میں سوکھنے کے لئے رکھا جاتا، چونکہ ہمیں بہت پسند تھا، اس لئے ہر روز امی جی کے سر پہ سوار ہوتے کب تیار ہو گا۔ خیر کافی تگ و دو کے بعد بنتا۔

پھتے کمہار (نام تو اس کا فتح محمد تھا۔ لیکن گاؤں کے لوگ نام بگاڑنے میں کافی ماہر ہوتے ہیں ) سے دیسی گھی کی جلیباں بنوائی جاتیں۔ چاول اور کالے چنے کے دانے بھنوا کے گڑ اور گھی ڈال کے مرنڈا بنتا۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں گاؤں کی عورتیں ہفتے میں ایک دفعہ کسی ایک گھر میں رت جگا مناتیں، اور چرخہ کاتتی۔ چونکہ امی جی کو ایسا کوئی شوق نہیں تھا، وہ صرف نٹنگ کرتی تھیں، اور دو تین دن میں سویٹر بنا لیتیں۔ ہمیں ان سے اس رت جگے میں شامل ہونے کے لئے اجازت لینا پڑتی۔

سب عورتیں اپنے اپنے گھروں سے کھانے پینے کی اشیا لے آتیں، کچھ سریلی بیبیاں ٹپے اور لوک گیت گاتیں ایک طرف کوئلوں والی انگیٹھی رکھی ہوتی، بس پھر چرخے کی کوک اور لوک گیتوں کی ہوک عجیب سماں باندھ دیتی۔ ہمارے گھر میں چرخہ نہیں تھا، لیکن ادھر ادھر ہم یہ شوق ضرور پورا کرتے اور عقل دنگ رہ جاتی، کہ روئی میں سے دھاگہ کیسے نکل آتا ہے۔ آہ آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آ گئے،

جب ہمارا نیا گھر بنا تو کئی سال چار دیواری نہیں تھی، گھر کے آگے بہت بڑا صحن تھا۔ سارے گاؤں کے بچے ادھر کھیلتے، سٹاپو، رسی کودنا، کوکلا چھپاکی سب کھیل لڑکے لڑکیاں مل کر کھیلتے تھے، نہ کبھی ماں باپ نے منع کیا، اور نہ کبھی فرق محسوس ہوا۔ جب گاؤں میں پہلی بار کسی نے ٹی وی خریدا، تو ہمارے صحن میں رکھ کے سارے گاؤں کو ڈرامہ دکھایا گیا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک تالاب تھا، جب گھروں کی لپائی کا موسم آتا تو لڑکیاں کمال مہارت سے ایک تسلے سمیت اس میں ڈبکی لگاتیں، اور پھر چکنی مٹی سے بھرے ہوئے تسلے سمیت برآمد ہوتیں، ہم حیرت سے عقل کے گھوڑے دوڑاتے رہتے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔

ایک دن ہمت کر کے پانی میں جھانکا، دیکھیں تو صحیح کہ کیا ماجرا ہے، دیکھا تو ہوش اڑ گئے، نیچے تو نیلا آسمان نظر آ رہا تھا، بس پھر کیا تھا خوفزدہ ہو کر دور بھاگے۔ پھر مٹی میں توڑی ملائی جاتی اور کچے گھروں کی لپائی کی جاتی۔ یہ سارا عمل بہت ہی محنت طلب تھا۔ اور وہ عورتیں کسی بھی منجھے ہوئے آرٹسٹ سے کم ہر گز نہ لگتیں۔ ہمارا دل بھی مچلتا کہ کاش ہم بھی مٹی سے یہ سب کر سکیں، لیکن امی کچھ ایسا ویسا کرنے کی ہر گز اجازت نہ دیتیں، وہ ایک بہت ڈسپلنڈ ماں تھیں۔ ہمیں مٹی سے کھیلنے کی، گرمیوں میں دوپہر کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن ہم بھی چوری چھپے یہ شوق پورے کر لیتے تھے۔

گرمیوں کی دوپہر میں جب امی جی ہمیں کمروں میں لٹا کے مطمئن ہو کر اپنے کمرے میں چلی جاتیں تو ہم چپکے سے اٹھتے، اور یہ جا وہ جا۔ جونہی کا نوں میں گولے برف والے کی آواز پڑتی، تو چوری چوری ایک بڑے ڈونگے میں برف اور لال پیلے شربت ڈلواتے، اور مزے لے لے کر کھاتے۔ گر میوں کی لمبی دوپہروں میں ہی عورتیں چھاؤں میں بیٹھ کے رنگ برنگ کا میدہ گوندھ کے ہاتھوں سے سویاں بناتیں، جو پپوٹوں کی سویاں کے نام سے مشہور ہیں، اور پنجاب میں بہت کھائی جاتیں ہیں۔

چھت پہ کھلے آسمان تلے سونے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ تھا۔ سر شام ہی مچھر دانیاں لگا دی جاتیں تاکہ مچھر سے بچا جا سکے۔ اور صبح سویرے چڑیوں کی چہچہاہٹ، دودھ بلونے کی آواز، اور کھیتوں میں بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی ٹن ٹن سے آنکھ کھل جانا، ایک سہانی صبح کا آغاز ہو تا تھا سردیوں میں دوپہر کے کھانے کے بعد کینو مالٹے مونگ پھلی لے کے گاؤں سے دور پرالی کے کسی اونچے ڈھیر پہ بیٹھ کے کھانا، اور گپیں لگانا۔ رات کے اندھیرے میں بوگن ویلیا کی بیلوں پہ جگنو دیے کی طرح ٹمٹماتے، ان کو پکڑنے کی کوشش کرنا۔ یہ سب بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔

ہاں بس آنکھوں میں ٹھہر سا گیا ہے
وہ بچپن وہ جگنوؤں کا حبیب موسم

گڈے گڑیا کا بیاہ رچایا جاتا، سارے ہم عمر لڑکے لڑکیاں باراتی بنتے، اور باقاعدہ بارات جاتی، جس کی خوب خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ بہت سادہ پر خلوص اور اپنائیت سے بھر پور دور تھا۔ اب ایک خواب سا لگتا ہے۔ زمانے نے کروٹ بدلی، وقت کا پہیہ گھوما، اور گاؤں کا رہن سہن بھی تبدیل ہوتا گیا۔ نہ وہ لوگ رہے نہ وہ ماحول رہا، ماں باپ بھی ملک عدم سدھار گئے۔ رب ذوالجلال ان کو اپنی جوار رحمت میں رکھے آمین۔

کچھ ایسے سوئے ہیں سونے والے، کہ جاگنا حشر تک قسم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •