کورونا، روس۔ پاکستان اور اسرائیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس میں پہلی سے پانچویں جماعت کے بچے بچیاں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے باقاعدہ سکول جا رہے ہیں جبکہ چھٹی سے گیارہویں تک سکول کے طالبعلم گھروں میں بیٹھے آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 25 دسمبر تک جاری رہے گا۔ تحقیق کے مطابق بچے کورونا وائرس کیریئر نہیں ہوتے بلکہ انہیں بڑے کورونا سے متاثر کرتے ہیں۔ چنانچہ سکول کے اساتذہ ماسک اوڑھتے ہیں مگر بچے نہیں۔

پاکستان میں اس کے برعکس فیصلہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بچے سکول سے کورونا لے کر آ رہے ہیں۔ یہ بات روس کے بیان کی تائید یوں کرتی ہے کہ والدین احتیاط نہیں کرتے۔ بڑے کنبوں میں رہنے کا ابھی تک رواج ہے چنانچہ بچے بڑوں سے متاثر ہوتے ہوں گے جو سکول جا کر کے دوسرے بچوں کو متاثر کر دیتے ہوں گے۔

سکولوں میں بچوں کا درجہ حرارت ہر روز لیا جاتا ہے۔ اگر درجہ حرارت بڑھا ہوا ہو یا بچہ کھانس رہا ہوتو اسے گھر بھیج دیتے ہیں اور اگر کسی کلاس کے بچے کو بخار زیادہ ہو جائے تو ڈاکٹر سے رپورٹ ملتے ہی کلاس کے اس پورے سیکشن کو تین ہفتوں کے لیے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

روس میں کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کا اعشاریہ 25000 روز سے تجاوز کر چکا ہے مگر ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح ان خطوں میں زیادہ ہے جہاں جون تک کم رہی تھی اور وہاں جہاں جون تک زیادہ تھی یعنی روس کے یورپی حصے میں، جس میں روس کا دارالحکومت ماسکو اور پرانا دارالحکومت سینٹ پیٹرز برگ بھی آتے ہیں میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے۔ اس کے باوجود 65 برس سے بڑی عمر کے افراد اور نابالغوں کو صرف خریداری کے لیے، ماسک اور دستانے پہن کر جانے کی اجازت ہے یا گھروں کے آس پاس سیر کرنے کی۔ ان عمروں کے افراد کے ٹرانسپورٹ کے مفت یا رعایتی کارڈ 29 نومبر تک منسوخ ہیں۔

روس کے شہری بھی اگر سختی نہ ہو تو احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ اس لیے بڑی دکانوں اور ٹرانسپورٹ میں جائزہ لینے، انتباہ کرنے یا جرمانہ کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری افراد موجود ہوتے ہیں، اگرچہ وہ بہت زیادہ سختی نہیں کرتے تاہم لوگ ان کی وجہ سے احتیاط کرنے میں چوکسی دکھاتے ہیں۔ لیکن ایک معتد بہ حصہ ٹرانسپورٹ میں دستانے استعمال نہیں کرتا اور اکثر لوگ بالخصوص خواتین نے ماسک ناک سے نیچے یا ٹھوڑی تک کیے ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں عرب ملکوں کی مستعدی کا نہ تو کورونا سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی روس سے البتہ کورونا کی وبا کے اس کم سیاستی عہد میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی بات پاکستان سے متعلق بھی چل نکلی ہے کیونکہ شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کو سنوارنے پر تلے ہوئے ہیں اور اسرائیل امریکہ سے بہت نزدیک ہے بلکہ اسرائیل امریکہ کی پالیسیاں مرتب کروانے میں اچھا بھلا کردار ادا کرتا ہے۔

فوری طور پہ نہ سہی لیکن کچھ عرصہ بعد سعودی عرب اسرائیل کو بہرحال تسلیم کر لے گا۔ اس کے بعد پاکستان کے پاس اسے تسلیم کیے بن چارہ نہیں ہوگا۔ ویسے بھی کون سی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ پاکستان کے ہمسایہ ملک تو ہندوستان اور افغانستان ہیں جن کے ساتھ تعلقات کی نوعیت سبھی پر واضح ہے۔ البتہ اسرائیل کے ہمسایہ ملک اردن اور مصر دہائیاں پہلے اسرائیل کو تسلیم کرچکے تھے۔ ماسوائے شام اور لبنان کے۔ شام گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ کی وجہ سے اور لبنان ایران سے تعلق کی بنا پر۔ عراق میں بھی یہی صورتحال رہی مگر وہاں بھی برف پگھل جائے گی۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قضیہ کورونا کی وبا کے خلاف ویکسین وسیع پیمانے پر استعمال کیے جانے تک حل ہو جائے گا، پاکستان میں بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •