کورونا وائرس، لاک ڈاؤن اور وہم

یہ 21 مارچ کی شام تھی اور دفتری امور سے فراغت کا وقت ہوا چاہتا تھا، اسی لمحے اطلاع موصول ہوئی کہ 22 مارچ سے 24 مارچ تک تین روزہ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ چین میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں اور مسائل کے پیش نظر پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک اپنے اپنے ملکوں کو لاک ڈاؤن کی طرف لے جا رہے تھے تاہم پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر کورونا وائرس کو سازش قرار دیا جا رہا تھا اور طرح طرح سے وائرس سے مقابلے بارے تضحیک آمیز ویڈیوز، تصاویر، پیغامات جاری کیے جا رہے تھے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن کے باقاعدہ مراسلے جاری ہونے پر کچھ تشویش ہوئی مگر دل کو سہارا دیا کہ ہم مسلمان ہونے کے ناتے دیگر تمام مذاہب سے افضل ہیں اور ان شا اللہ ہم اس وائرس سے محفوظ رہیں گے، اپنے تئیں ایس او پیز پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا اور گھر کو بھی واقعتاً قرنطینہ میں بدل دیا، بچوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی اور ازحد ضروری کام کے لیے باہر جانے پر پی پی ایز کا استعمال یقینی بنانا شروع کر دیا۔

لاک ڈاؤن کی ڈیڈ لائن آنے سے قبل ہی توسیع کی خبریں سنتے ہی ماتھا ٹھنکا کہ کاروبار پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھا اور اب مکمل ہی بند کر کے گھروں میں بند ہونے پر کس طرح گزر بسر ہوگی، انہی سوچوں میں گم آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن بھی بڑھتا گیا اور جمع پونجی بھی خاتمے کی جانب رواں دواں تھی، کورونا وائرس کی تباہ کاریاں اور جگہ جگہ سے ہلاکتوں کی خبروں نے گزر بسر کی ٹیشن کو بھی کہیں دو ر جا پھینکا تھا مگر دل میں ایک خوف بھی جگا دیا تھا جس کی وجہ سے ہوا یہ کہ رات کو سوتے وقت اچانک آنکھ کھل جاتی یا چھینک اور کھانسی آتی تو فکر لاحق ہونے لگتی کہ کہیں خدانخواستہ ہم بھی کورونا وائرس کی زد میں تو نہیں آ گئے۔

یہ چھینکیں کیوں بار بار آ رہی ہیں، کھانسی کیوں بڑھ رہی ہے ایسے میں جسم پر ٹمپریچر بھی محسوس ہونے لگتا اور پھر گلے میں خراش یا درد سے مزید پریشانی بڑھنے لگتی، اسی طرح رات آنکھوں میں کٹتی اور دن بھر دیگر پریشانیوں کا سامنا رہتا کبھی کوئی بچہ ضد کر لیتا کہ باہر جاکر چیز خریدنی ہے تو کبھی کوئی بچہ کھیلتے کھیلتے ہی کسی بات پر اس قدر بگڑ جاتا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہم خود باہر نکل پڑتے کہ انہیں کچھ دے دلا کر خاموش کرائیں، اس افراتفری میں کورونا سے بچاؤ کی تدابیر، دستانے، ماسک، سینی ٹائزر سب ہوا ہو جاتے اور بغیر احتیاطی تدابیر دکان پر جا پہنچتے اور بچوں کے لیے کچھ خرید کر گھر پہنچتے تو گھر والے جو اتنے دنوں سے حفاظتی اقدامات کی عادت کو اپنائے ہوئے تھے فوراً باتھ روم کی جانب اشارہ کر دیتے کہ پہلے ہاتھ منہ دھوکر آئیں اور پھر کمروں میں داخلے کی اجازت ملتی۔

اس طرح دن گزرنے لگے، لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ ہم نے بھی اٹھایا مگر پی پی ایز کو استعمال کرتے ہوئے باہر نکلتے اور کام نمٹا کر واپس پہنچتے مگر اس دوران جب بھی چھینک، کھانسی یا گلے میں خراش، درد کی شکایت ہوتی تو وائرس کے خوف کا وہم دن بھر اور پھر ساری رات پیچھا نہ چھوڑتا، کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی کبھی جسم میں بے پناہ درد محسوس ہوتا تو کبھی گلے میں کانٹے چبھنے لگتے جس پر پکا یقین ہونے لگتا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور بار بار گھر سے باہر جانے پر ہم بھی کچھ کچھ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں مگر کسی سے ذکر کرنے کی جرات نہ کرتے کہ کہیں انتظامیہ کے کانوں میں خبر پہنچی تو بغیر تصدیق ہی قرنطینہ کردیں گے اور وہاں پر نا جانے کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے۔

گرمی کی شدت میں اضافے اور کورونا کی تباہ کاریوں میں کمی کی خبر سنتے ہی دل کو تسلی بھی دینا شروع کردی کہ اب کورونا کی خیر نہیں پاکستان کے بعض شہروں میں تو اس قدر گرمی پڑتی ہے کہ کورونا خود توبہ کر کے یہاں سے فرار ہوگا۔ ان تمام باتوں اور تسلیوں کے باوجود دل میں کورونا وائرس کا خوف اس قدر زیادہ ہے کہ معمولی سی کھانسی اور چھینک سے پیدا ہونے والا وہم دن کا سکون اور رات کی نیند چھین رہا ہے۔

اسی خوف نے مسجدوں سے دور کر دیا ہے، دوستوں، رشتہ داروں، عزیزوں سے حتیٰ کہ اپنے بچوں سے بھی دور کر دیا ہے کہ پتہ نہیں کب کون کورونا کی لپیٹ میں آ جائے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا کنبہ متاثر ہو جائے۔ ایک خوف یہ بھی کہ اگر خدانخواستہ کوئی جھوٹے منہ ہی کہہ دے کہ انہیں کورونا ہے تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ آج اس لاک ڈاؤن کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ہمیں اسی خوف اور وہم نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ پاک اپنی خاص رحمت سے امت مسلمہ اور پوری انسانیت کو اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ اس لیے سب لوگوں کو چاہیے کہ کسی بھی قسم کی بیماری کا مذاق اڑانے کی بجائے حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور اپنے پیاروں، چاہنے والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی، انتظامی پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہیے۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران اللہ پاک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر چیز پر وہ قادر مطلق ہے جو کو چاہے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے اور جس پر چاہے اپنے گھر کے دروازے بند کردے۔ مگر ہم کم فہم اور کم عقل لوگ اللہ تعالیٰ کی حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر جان بوجھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words