کوویڈ۔ 19 اور تعلیمی زوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر کل سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کالج کے طلباء تعطیلات کی خوشی میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے حق میں نعرہ زن ہیں کہ جب تک سورج چاند رہے گا۔ شفقت تیرا نام رہے گا، کیونکہ تم نے تمام تعلیمی ادارے بند کر کے قوم و ملک کو کوویڈ۔ 19 جیسی مہلک بیماری سے مرنے سے بچایا ہے، مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ جب ہمارے ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ حکومت نے ایک ایسی بیماری سے قوم کے بچوں کو بچایا تھا جس میں شرح اموات 2 فیصد تھی اور نوجوانوں اور بچوں میں اتنی امیونٹی تھی کہ وہ اس بیماری سے آسانی سے صحت یاب ہو جاتے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو ہمارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے درپے ہیں؟ وہ کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جن کا مقصد قوم کو جاہل اور ان پڑھ رکھنا ہے اور ان کے ہاتھوں میں ایسی ڈگریاں تھمانا ہے جو صرف کاغذ کا ایک پرزہ ہوں۔ گزشتہ سال اقوام عالم کے لئے ایک حیران کن اور تباہ کن سال رہا۔ کوویڈ۔ 19 نے جہاں لاکھوں لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا وہاں عالمی معیشت کا بھی بیڑہ غرق ہو گیا اور نوبت تباہ حالی تک پہنچ چکی ہے۔

اس خطرناک صورت حال میں بھی پاکستانی قوم کی سنجیدگی کی یہ حالت ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ بھی کسی بازار یا مارکیٹ میں دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ عام اور رش والی جگہوں پر بھی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے بلکہ میرے خیال کے مطابق حکومت اور عوام صرف اس دن کے انتظار میں ہیں جب پورے ملک میں ایک بار پھر کرونا بے قابو ہو جائے تاکہ لاک ڈاؤن ہو سکے۔ سکولوں کی بندش کے لئے والدین، اساتذہ اور بچوں کی بے تابی ایک قابل توجہ اور حیران کن عمل ہے۔

پاکستان کی زیادہ تر عوام، بچوں کے والدین اور اساتذہ اس امر پر شاداں و فرحاں ہیں کہ کب سکول بند ہوتے ہیں تاکہ ہمارے بچے سکول جانے کی بجائے گھر بیٹھ جائیں حالانکہ میرے خیال میں اس وقت پورے پاکستان میں سکول ہی واحد جگہ ہیں جہاں ایس او پیز پر عمل درآمد بھی کیا جا رہا اور روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی اور مستقبل کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک انسان کے لئے آکسیجن، لیکن گزشتہ سال حکومت کی تعلیم کش پالیسی یوں بھی واضح ہے کہ صوبہ پنجاب میں پنجاب ایگزامینیشن کمیشن نے پنجم جماعت کا امتحان نہیں لیا اور بچوں کو سکول کے امتحان کی بنیاد پر ہی پروموٹ کر کے جماعت ششم میں بھیج دیا گیا جبکہ شنید یہ تھی کہ اس سال جماعت ہشتم کا امتحان بھی نہیں ہو گا۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ جماعت دہم کا امتحان بھی ختم کرنے کی نوید سنائی جا رہی ہے اور سیکنڈری لیول پر بھی سمیسٹر سسٹم لاگو کیا جا رہا ہے۔ دروغ بر گردن راوی اگر ایسا ہو گیا تو آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیسی قوم تیار ہو گی؟ ابھی اساتذہ اور ادارے سات ماہ کی طویل تعطیلات کے بعد اپنے اپنے سکول کے بچوں کی تعلیم کے لئے ذہن سازی میں ہی مصروف تھے کہ نیا شگوفہ پھوٹ نکلا کہ ہمیں اپنی قوم کے بچوں سے شدید محبت ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کوویڈ 19 جیسی بیماری ہماری قوم کے مستقبل سے کھیلے اس لئے بچوں کو 26 نومبر سے پھر گھر بٹھانے کا واضح اعلان ہو چکا ہے۔

اب ہو گا کیا کہ یہی بچے گھروں میں محبوس ہونے کی بجائے اپنی نانی یا دادی اماں کے گھر سدھاریں گے اور دوسرے شہروں اور علاقوں کی سیر کرنے کے ساتھ ساتھ پارکوں اور پبلک جگہوں پر ہمیں نظر آئیں گے۔ ابھی مکمل لاک ڈاؤن کی کوئی صورت بھی نہیں تھی اور اداروں کو زبردستی بند کرنے کی پالیسی عوام کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

ساتھ ساتھ اعلان یہ بھی کیا جار ہا ہے کہ تمام بچوں کو آن لائن تعلیم دی جائے گی۔ اب فیصلہ آپ سب کریں کہ کیا ہر بچے کے گھر میں سمارٹ فون اور انٹر نیٹ کنکشن موجود ہے؟ کیا اس ملک کے تمام اساتذہ اس قابل ہیں کہ وہ اپنی اپنی کلاس کے بچوں کو جدید خطوط پر آن لائن تعلیم دے سکیں؟ پیارے وطن کی صورت حال تو یہ ہے کہ مفت تقسیم کی گئی نصاب کی کتب سے دیہات کے طلباء پتیسا خرید لیتے ہیں اور اگر اساتذہ ان کو کوئی چھوٹا موٹا لالچ نہ دیں وہ سکول نہیں آتے کجا یہ کہ ایک مخصوص وقت پر وہ آن لائن کلاسیں لیں۔

نجی اور حکومتی سکولوں میں صورت حال یہ ہے کہ سکول سے بھگوڑے اور خارج شدہ طلباء و طالبات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ہر سکول کی تعداد بجائے بڑھنے کے 40 فیصد کے قریب کم ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ بے روزگاری کی بنا پر والدین اور عوام کی اکثریت یا تو نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں یا اپنے معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے اپنے بچوں کو کام کاج پر بھیج چکے ہیں۔ نجی سکولوں میں نئے داخلے بھی اس لئے نہیں ہو رہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ خود والدین بھی شش و پنج کا شکار ہیں کہ ہو سکتا ہے سکول بند ہو جائیں تو ہمیں دو سے تین ماہ کی اضافی فیس ادا کرنا پڑے گی اس لئے بہتر ہے کہ جب تک مکمل طور پر سکول نہیں کھلتے بچوں کو گھر ہی بٹھا لیا جائے۔

کوویڈ۔ 19 کی بیماری روز اول سے ہی متنازعہ اور موضوع بحث رہی اور خاص طور پر پاکستانی عوام نے اس بیماری کو سرے سے ہی اہمیت نہیں دی کیونکہ ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ بھوک رہی ہے نہ کہ بیماری، جس کی وجہ سے عوام نے اس بیماری سے بچنے کے لئے کوئی احتیاطی تدابیر بھی نہیں اپنائیں۔ اب حکومت کسی بھی صورت میں پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہے بلکہ کچھ احباب کا تو یہ بھی خیال ہے کہ پی ڈٰی ایم کے جلسے حکومتی حلقوں کے دل پر تیر چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے کرونا کے پھیلاؤ کی آڑ میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

لیکن میں اس نظریہ کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ مستقبل قریب میں مجھے کہیں بھی ایسی آثار نظر نہیں آرہے کہ حکومت کے کسی بھی ستون میں کوئی دراڑ نظر آ رہی ہو۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ یہاں امداد اور غیر ملکی دباؤ کی گیم کھیلی جا رہی اور ہم بین الاقوامی طاقتوں کے سخت دباؤ کے تحت تمام ایسے فیصلے کرنے کے پابند ہیں جو ملکی اور قومی مفادات کے خلاف ہیں۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں تو سکولوں کی بندش کی وجہ سے نہ صرف یونیفارم بنانے والے بلکہ کتابیں چھاپنے، بیچنے اور بائنڈنگ کرنے والوں کے کاروبار کے علاوہ، سکول بیج، ٹائی، جرابیں اور پنسل، شارپنر اور ایریزر بنانے والے اداروں کا کاروبار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔

ہمارے ہاں تو ہم بچوں کو کھینچ کھانچ کر سکول تک لاتے ہیں ان کی والدین کی منتیں کرتے ہیں خود جاتے ہیں بچوں کے پاس کاپیاں اور کتابیں تک نہیں ہوتیں لیکن کسی نہ کسی طرح ان کا سلسلہ تعلیم جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور ان حالات میں بھی بہت سے بچے ماشاء اللہ بہت اگے نکل جاتے ہیں اخر کار وہ خود کو سدھار لیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو کورونا ایک ایسی وبا ہے جس کے اختتام کے لئے کوئی وقت مقررہ نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ پوری دنیا کو کینسر، ٹی بی اور پولیو کی طرح اس بیماری سے بھی سمجھوتہ کر کے جینا پڑے تو پھر کیا ہو گا؟

کیا ہم ایسے ہی ہاتھ ہر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہی رہیں گے؟ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کوئی بھی قوم کسی بھی بیماری یا وبا کے خوف سے معمولات زندگی کو ترک نہیں کر سکتی لیکن احتیاط کا دامن ہاتھ میں پکڑ کر ہم جی بھی سکتے ہیں اور روزی روٹی بھی کر سکتے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں بازاروں، عوام الناس کی رش والی جگہوں، پارکس اور چڑیا گھروں کے ساتھ ساتھ ریستورانوں اور ہوٹلوں میں اتنا ایس ایس۔ او۔ پیز کا خیال نہیں رکھا جار ہا جتنا تعلیمی اداروں میں رکھا جا رہا ہے اور اس امر کی پوری قوم گواہ ہے کہ تمام نجی اور پبلک تعلیمی ادارے حتی المقدور کوشش کر رہے ہیں کہ سکول اور کالجز بند نہ ہوں تاکہ بچوں کی تعلیم کا ہرج نہ ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •