شادی میں لہنگے کے بجائے پرانا پینٹ سوٹ، انڈین دلہن کی تعریف بھی، ٹرولنگ بھی

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برِصغیر میں عروسی لباس سے مراد عموماً لہنگا ہی لیا جاتا ہے مگر انڈیا کی سنجنا رشی اپنی شادی میں ایک پرانے زمانے کا خاکستری مائل نیلے رنگ کا پینٹ سوٹ پہن کر جا پہنچیں، 'بس بات یہ ہے کہ مجھے سوٹ پسند ہیں۔'

مگر شادی کے لباس کا ان کا انتخاب صرف ان کی ذاتی پسند نہیں بلکہ فیشن میں ایک پرعزم اقدام بھی تھا جس کے بعد کئی لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا مزید دلہنیں بھی سوٹ کے حق میں روایتی عروسی ملبوسات کو چھوڑ دیں گی؟

مغرب میں عروسی پینٹ سوٹ حالیہ سالوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔ ڈیزائنرز اپنی عروسی کلیکشنز میں پینٹوں کو فروغ دے رہے ہیں اور انھیں مایہ ناز شخصیات کی جانب سے بھی قبولیت حاصل ہوئی ہے۔

گذشتہ سال گیم آف تھرونز میں سانسا سٹارک کا کردار ادا کرنے والی سوفی ٹرنر نے موسیقار جو جوناس سے لاس ویگاس میں شادی کرتے ہوئے سفید پینٹ پہنی تھی۔

مگر سنجنا کے کپڑے انڈیا کے لحاظ سے نہایت غیر معمولی تھے جہاں دلہنیں عام طور پر ریشمی ساڑھیاں یا سجاوٹ سے بھرپور لہنگے پہنتے ہیں۔ پسندیدہ رنگ سرخ ہوتا ہے اور کئی لہنگوں پر تو سونے اور چاندی کے مہنگے تاروں سے کڑھائی بھی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

منگیتر کی آخری خواہش، دلہن کا اکیلے ہی فوٹو شوٹ

‘اللہ کی موجودگی میں شادی ضروری ہے، لوگوں کی موجودگی ضروری نہیں’

خواب پرتعیش شادی کے لیکن بارات میں گنتی کے چار لوگ

ایک برائیڈل میگزین کی سابق ایڈیٹر نوپور مہتا کہتی ہیں: ‘میں نے کبھی کسی انڈین دلہن کو ایسے کپڑے پہنے ہوئے نہیں دیکھا۔ دلہنیں عام طور پر روایتی انڈین لباس پہننا پسند کرتی ہیں جس کے ساتھ وہ اپنی والدہ یا نانی سے ملنے والے روایتی زیورات پہنتی ہیں۔’

‘یہ چیز بالکل نئی تھی اور وہ سب سے نمایاں نظر آ رہی تھیں۔’

انتیس سالہ سنجنا رشی ایک انڈین امریکی انٹرپرینیور ہیں جنھوں نے دلی سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخص 33 سالہ دھروو مہاجن سے دارالحکومت نئی دلی میں 20 ستمبر کو شادی کی۔

گذشتہ سال انڈیا لوٹنے سے قبل وہ امریکہ میں کارپوریٹ ماہرِ قانون کے طور پر کام کرتی تھیں اور یہ جوڑا تقریباً ایک سال سے ایک ساتھ رہ رہا تھا۔

انھوں نے ستمبر میں امریکہ میں شادی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جہاں دلہن کے بھائی اور اُن کے زیادہ تر دوست رہتے ہیں، جبکہ اُن کی دوسری روایتی انڈین شادی نومبر میں دلی میں ہونی تھی۔

مگر پھر کووڈ آ گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس سے ہمارے تمام منصوبے ‘بکھر کر رہ گئے۔’



امریکہ کے برعکس انڈیا میں غیر شادی شدہ جوڑوں کے ایک ساتھ رہنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور سنجنا کا کہنا ہے کہ بھلے ہی اُن کے والدین ‘انتہائی ترقی پسند ہیں، مگر دوستوں، پڑوسیوں اور رشتے داروں کی جانب سے اس تعلق کو رسمی شکل دینے کے لیے بہت زیادہ دباؤ تھا۔’

چنانچہ اگست کے اواخر میں ‘ایک صبح اٹھی اور کہا، چلو بس شادی کر لیتے ہیں۔’

سنجنا کہتی ہیں کہ جس وقت انھوں نے شادی کرنے کا سوچا، انھیں اسی وقت معلوم تھا کہ ان کا لباس کیا ہوگا۔

انھوں نے مجھے بتایا: ‘مجھے معلوم تھا کہ میں پینٹ سوٹ پہنوں گی اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کون سا ہوگا۔’

رشی ‘ماحول دوست فیشن’ پر یقین رکھتی ہیں اور عام طور پر بہت سے استعمال شدہ کپڑے خریدتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ یہ سوٹ اٹلی کے ایک بوتیک میں بہت عرصہ قبل دیکھا تھا۔

‘یہ ایک پہلے پہنا جا چکا پرانی طرز کا سوٹ تھا جسے 1990 کی دہائی میں اطالوی ڈیزائنر گیانفرینکو فیرے نے بنایا تھا۔ مجھے یہ جان کر حیرانی اور خوشی ہوئی تھی کہ جب میں نے شادی کا فیصلہ کیا تو یہ تب بھی دستیاب تھا۔’

امریکہ میں کارپوریٹ ماہرِ قانون کے طور پر کام کرتے ہوئے ان کی عمومی پسند سوٹ ہی ہوا کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق وہ تمام خواتین جنھیں وہ اپنے لیے مثال سمجھتی تھیں، سوٹ ہی پہنتی تھیں۔

‘مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ پینٹ سوٹ پہنی ہوئی خواتین میں کچھ بہت بارعب ہوتا ہے۔ مجھے یہ پسند تھے اور میں ہمیشہ یہ پہنا کرتی تھی۔’

اور وہ کہتی ہیں کہ یہ قابلِ فہم بھی تھا کیونکہ اُن کی شادی کی تقریب بہت ہی کم لوگوں پر مشتمل تھی جس میں دولہا، دلہن اور پجاری سمیت کُل 11 افراد شریک تھے۔

‘صرف ہمارے والدین اور ہمارے دادا دادی نانا نانی ہی شریک تھے۔ شادی دھروو کے گھر کے عقبی حصے میں منعقد ہوئی۔ سب لوگوں نے عام سے کپڑے پہن رکھے تھے اس لیے بہت ہی عجیب ہوتا اگر میں سجاوٹ سے بھرپور جوڑا پہن کر شادی میں جا پہنچتی۔ واقعی میں ضرورت سے زیادہ کپڑے پہنے ہوئے لگتی۔’



دھروو کہتے ہیں کہ انھیں توقع نہیں تھی کہ اُن کی منگیتر پینٹ سوٹ پہن کر شادی میں آئیں گی۔

‘میں نے جب تک انھیں دیکھا نہیں تھا، تب تک مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا پہنیں گی، مگر اس سے فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ سنجنا جو بھی پہنیں گی وہ اُس میں شاندار ہی لگیں گی۔’

وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت جب انھوں نے پہلی مرتبہ انھیں دیکھا تو ‘پہلے تو میری نظر ہی اس جانب نہیں گئی کہ وہ پینٹ پہنے ہوئے ہیں، میں نے صرف یہ نوٹ کیا کہ وہ کتنی حسین لگ رہی تھیں۔ وہ کسی پری کی طرح لگ رہی تھیں، نہایت خوبصورت۔’

وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘میں اُن کی تعریف میں اور بہت کچھ کہہ سکتا ہوں۔’

سنجنا کے شادی کے جوڑے نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔

جب انھوں نے چند تصاویر انسٹاگرام پر پوسٹ کیں تو دوستوں اور فالوورز نے ان کی تعریفیں کیں، انھیں خوبصورت، زبردست اور انھیں سب سے ‘کُول’ دلہن قرار دیا۔

فیشن ڈیزائنرز اور فیشن پر نظر رکھنے والوں نے بھی ان کے انتخاب کی داد دی۔

ڈیزائنر مسابا گپتا نے لکھا: ‘اوہ خدایا! آپ کتنی زبردست لگ رہی ہیں۔’ اداکارہ سونم کپور کی بہن بولی وڈ پروڈیوسر ریا کپور نے ان کے روپ کو ‘زبردست’ قرار دیا۔

انڈیا میں خواتین کے صفِ اول کے ڈیزائنر آنند بھوشن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں سنجنا کے کپڑے بہت پسند آئے اور ‘یہ کسی دلہن کے لیے ایک بہت پیارا روپ ہے۔’

‘جب میں نے ان کی تصویر دیکھی تو جو پہلی چیز میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ ‘اگر [سیکس اینڈ دی سٹی کی اداکارہ] کیری بریڈشا انڈین ہوتیں تو وہ اپنی شادی پر ایسا ہی کچھ پہنتیں۔’



مگر دلہنوں کے فیشن سے متعلق چند سوشل اکاؤنٹس نے ان کی تصاویر شیئر کیں اور ٹرولز نے ان کے خلاف محاذ کھول لیا۔

اپنے تبصروں میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے انڈین ثقافت کو بدنام کیا ہے اور ان کے شوہر کو ‘خبردار’ کیا کہ وہ ‘توجہ کی بھوکی’ ایک خاتون کے ساتھ پھنس گئے ہیں جو فیمینزم کے نام پر کچھ بھی کریں گی۔

کچھ نے کہا کہ وہ کبھی بھی انڈین روایات کو نہیں سمجھ سکیں گی کیونکہ ان کا ذہن مغربی ثقافت سے انتہائی مغلوب ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘کچھ لوگوں نے تو مجھے خود کو مار لینے کے لیے بھی کہا۔’

سنجنا کہتی ہیں کہ وہ اس تنقید کی وجہ نہیں سمجھ پائیں کیونکہ ‘انڈین مرد اپنی شادیوں میں پینٹ سوٹ پہنتے ہیں اور کوئی انھیں کچھ نہیں کہتا، پر اگر کوئی خاتون ایسا کرے تو ہر کسی کی انگلیاں اُن کی جانب اٹھنے لگتی ہیں۔’

‘مگر مجھے لگتا ہے کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ خواتین کو ہمیشہ سخت ترین معیارات کا پابند بنایا جاتا ہے۔’

اور ایسا صرف انڈیا میں نہیں ہے۔ پینٹ پہننے کے لیے خواتین کی جدوجہد طویل اور تلخ ہے اور یہ اب بھی عالمی طور پر جاری ہے۔ کئی ثقافتیں، یہاں تک کہ جدید معاشروں میں بھی جوڑے چھوڑنے والی خواتین کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

سنہ 2013 تک فرانس میں خواتین کے لیے پینٹ پہننا غیر قانونی تھا بھلے ہی اس پابندی کو ایک طویل عرصے تک نظرانداز رکھا گیا تھا۔

جنوبی کوریا میں طالبات کو کچھ عرصہ قبل ہی اپنے یونیفارمز کے ساتھ آنے والی سکرٹس کے متبادل کے طور پر پینٹ پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔

امریکہ کی ریاست شمالی کیرولینا میں طالبات کو سکول میں پینٹ پہننے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے عدالت جانا پڑا، حالانکہ وہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ پینسلوینیا میں 18 سالہ طالبہ نے گذشتہ سال اپنے سکول پر پینٹ پہننے کی اجازت کے لیے مقدمہ دائر کیا اور وہ جیت گئیں۔

انڈیا میں بھی خواتین کے پینٹ پہننے پر ایسی ہی مزاحمت نظر آتی ہے۔

آنند کہتے ہیں کہ ‘ویسے تو انڈیا میں خواتین صدیوں سے سلے ہوئے پاجامے پہنتی رہی ہیں مگر بڑے شہروں سے باہر نکلیں تو اب بھی کئی قدامت پسند خاندان خواتین کو پاجامے یا پینٹ نہیں پہننے دیتے۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘پدرشاہی سے مغلوب معاشرے میں مرد خواتین کے بارے میں کافی عدم تحفظ کے شکار ہیں چنانچہ وہ خواتین کے رویوں، ان کے تولیدی حقوق، وہ کیا پہنتی ہیں، کیسے بات کرتی ہیں اور ہنستی ہیں، سب پر اپنی مرضی جتانا چاہتے ہیں۔’



سنجنا کہتی ہیں کہ پینٹ سوٹ پہننے سے اُن کا مقصد کوئی پیغام دینا نہیں تھا، مگر وہ اعتراف کرتی ہیں کہ انھوں نے جانے انجانے میں ایسا کیا ہوگ

‘مجھے احساس ہے کہ تمام خواتین، خاص طور پر انڈیا میں اپنی پسند کے مطابق کپڑے پہننے کے لیے آزاد نہیں ہیں۔ میں نے جب انسٹاگرام پر اپنی تصاویر ڈالیں تو کئی خواتین نے لکھا کہ میری تصاویر دیکھ کر انھیں بھی اپنے والدین یا اپنے سسرالیوں کے سامنے اپنے عروسی لباس کے بارے میں بات کرنے کے بارے میں ہمت ملی ہے۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘کچھ حد تک تو مجھے یہ سُن کر بہت خوشی ہوئی تھی، مگر پھر مجھے یہ سوچ کر تھوڑی فکر بھی ہوئی کہ ‘میں دوسرے لوگوں کی زندگیوں اور گھروں میں مسائل پیدا کر رہی ہوں۔’

تو کیا کسی دلہن کا خاکستری مائل نیلے رنگ کا پینٹ سوٹ پہننا دوسروں کو بھی ایسے کپڑے پہننے کے لیے متاثر کر سکتا ہے؟

آنند بھوشن کہتے ہیں کہ اُن کا غیر معمولی انتخاب ‘ایک چنگاری’ بن سکتا ہے۔ ‘یا تو اس سے آگ بھڑکے گی، یا یہ بجھ جائے گی۔’

‘مجھے امید ہے کہ یہ بجھے گی نہیں۔’ ا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17327 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp