صنا مارن: فن لینڈ میں خواتین کی زیرقیادت مخلوط حکومت کیسی چل رہی ہے؟

میگھا موہن اور یوسف ایلڈین - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Sanna Marin smiling
BBC
دنیا بھر کی نگاہیں فن لینڈ میں خواتین کی مخلوط حکومت کی سرپرستی کرنے والی وزیرِ اعظم صنا مارن کے پہلے سال پر ٹکیں ہیں۔

کوورنا وائرس کے بحران کے دوران ان کی پرسکون اور فیصلہ کن قیادت کی تعریف کی گئی ہے۔ لیکن صنفی اقلیتوں والے گروپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کا غیر روایتی پس منظر واقعی ’پسماندہ‘ قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے مددگار ثابت ہوگا؟

وزیر اعظم کے دفتر سے ہاؤس آف سٹیٹ تک 200 میٹر سے بھی کم پیدل سفر ہے، جہاں وزیر اعظم صنا مارن اپنی حکومت کے اہم ترین امور میں سے ایک مساوات پروگرام پر ہونے والے اجلاس کی صدارت کرنے والی ہیں۔

وہ فالتو باتوں کے موڈ میں نہیں ہیں، لیکن ہنی مون کے بعد پہلے ہی ہفتے میں کون کام پر واپس جانا چاہے گا؟ کسی نامعلوم مقام پر مختصر وقت گزارنے کے بعد اچانک ہی ان کی چھوٹی بیٹی کے والد سے شادی کا اہتمام کیا گیا۔

شادی کے لباس میں ملبوس صنا کی شوہر مارکوس رائکونن کے ساتھ تصویر ان کے ذاتی انسٹاگرام پر ایک غیر متوقع پوسٹ تھی۔ تصویر میں صنا اپنے شوہر، سابقہ ​​پیشہ ور فٹبالر اور ان کے 16 سال کے ساتھی ماکوس کو گلے لگا رہی ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے اپنی بیٹی ایما کو دودھ پلاتے ہوئے اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی۔

https://www.instagram.com/p/CDYooLZD6vz/


ہیلسنکی میں بحیرہ بالٹک کے کنارے، کیسنرانٹا کے خوبصورت گراؤنڈ میں وزیر اعظم کی خوبصورت نقوش سے سجی لکڑی سے بنی سرکاری رہائشی گاہ میں لی گئی اس تصویر میں جوڑے نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا ہے اور وہ مسکرا رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں، فیشن بلاگر، پوڈکاسٹر سے لے کر ہائی سکول کے طلبا تک سبھی نے بڑے پیمانے پر اس تصویر کو شیئر کیا – ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ صنا مارن کی سب سے زیادہ شئیر کی جانے والی دوسری تصویر تھی۔

ایک درجن سے زائد صحافی فن لینڈ کے ہاؤس آف سٹیٹ کی سیڑھیوں پر ان کا انتظار کر رہے ہیں جہاں بند دروازوں کے پیچھے مخلوط حکومت کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔

صنا کی خواتین محافظ ان کے پیچھے چل رہی ہیں۔ رپورٹروں کے قریب پہنچنے پر وہ کہتی ہیں ’مجھے ان سے کیا کہنا ہے، میں نے اس کی کوئی تیاری نہیں کی۔ وہ میرے سے کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں اور میں ایمانداری سے انھیں جواب دوں گی۔‘

اس ہفتے شاید ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی بہت سے سوالات ہوں گے۔

مضبوط لہجے میں صنا کہتی ہیں ’نہیں، وہ ہمیں درپیش مسائل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن شاید آخر میں ذاتی زندگی کے متعلق بھی پوچھیں گے۔‘

Sanna Marin speaks to journalists outside the House of Estates

BBC

رپورٹروں میں سے کچھ نے ماسک پہنے ہوئے ہیں، کچھ نے لمبی چھڑی والے مائیک پکڑ رکھے ہوئے ہیں۔ جب وہ ان کے سامنے آتی ہیں تو سب سنبھل کر ان کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں۔

وہ اس میٹنگ میں پہنچنے والی پہلی سیاستدان ہیں اور انھوں نے ٹھیک کہا تھا، فینیش میڈیا ان سے ملک کو درپیش مسائل کے متعلق پوچھتا ہے۔

اور چار گھنٹے کی ملاقاتوں کے بعد، وہ ان سے دوبارہ بات کرنے کے لیے باہر رک گئیں۔

یہاں سے سب سے آخر میں جانے والی سیاستدان بھی وہی ہیں۔

https://twitter.com/TNiskakangas/status/1203729511658995713


صنا مارن کی پہلی تصویر جو وائرل ہوئی تھی وہ ان کی نئی ملازمت کے پہلے ہی دن، دسمبر 2019 یعنی 200 دن سے بھی ذرا پہلے لی گئی تھی۔ تصویر میں اس وقت 34 سالہ صنا مارن، فن لینڈ کی نئی اور کم عمر ترین وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان سیاستدانوں کے ساتھ کھڑی مسکراتی نظر آ رہی تھیں جو ان کی مخلوط حکومت میں شامل ہوں گی۔

وہ سب عورتیں تھیں۔ اس تصویر کی اشاعت کے وقت، پانچ جماعتی اتحاد کی صرف ایک رہنما کی عمر 34 سال سے زیادہ تھی۔

اپنی کابینہ کے ساتھ پوڈیم پر کھڑے ہوکر انھوں نے فوٹوگرافروں کو بتایا کہ وہ نوجوان نسل کی نمائندگی کرتی ہیں اور انھوں نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ دنیا کو دکھانے کا ایک موقع ہے کہ ’ہم فنس کون ہیں۔‘

یہ پیغام روایتی سیاسی حلقوں سے باہر والوں تک پہنچا۔

’ریج اگینسٹ دا مشین‘ کے گٹارسٹ ٹام موریلو نے اپنے انسٹاگرام پیج پر اس اتحاد کی ایک تصویریہ کہتے ہوئے شائع کی کہ صنا مارن امریکی راک بینڈ کی مداح ہیں۔ صنا نے پوسٹ کو لائیک کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔

اخبارات نے ایسی شہہ سرخیاں لگائیں:

’فن لینڈ میں نسوانیت کا دور آ گیا ہے۔‘

’فن لینڈ کی پارلیمنٹ: صنفی مساوات کی علمبردار۔‘

’عورت راج: جس کا ہمیں انتظار تھا۔‘

سیکسسٹ میمز بھی بنیں، جن میں سوانا میں اکھٹے نہاتے ہوئے خواتین کو فیصلے کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی کی 100 خواتین کی فہرست میں اس سال کون کون شامل ہے؟

’بیٹے کی قبر ہوتی تو اسی سے دل بہلا لیتی۔۔۔‘

’بچے کی چیخوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔۔۔‘

فنلینڈ کی سیاسی تاریخ اور عورتیں

اس طرح کے اتحاد کے لیے کئی طریقوں سے پہلے ہی راہ مرحلہ وار ہموار کی جا چکی تھی۔ اگر کوئی ملک ونڈر ویمن آئلینڈ بننے والا تھا تو وہ فن لینڈ ہی تھا۔

1906 میں یہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا تھا جہاں خواتین کو مکمل ووٹنگ اور پارلیمانی حقوق دیے گئے، دوسرے مغربی ممالک پہلی جنگ عظیم کے بعد تک ایسا نہیں کر پائے تھے۔

اگلے سال 19 خواتین پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئیں۔ اور 2000 میں فن لینڈ نے اپنی پہلی خاتون صدر، ٹاراجا ہالونین منتخب کیں۔ ایک خاتون وزیر اعظم، انیلی جاٹینمکی، 2003 میں ان کے بعد آئیں۔

2019 کے آخر تک اور ایک اور خاتون وزیر اعظم کے بعد، مرکز سے بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے وزیر اعظم انیتے رینے کی جگہ مارن کو اقتدار سنبھالنے کے لیے منتخب کیا۔ انیتے نے پوسٹل ہڑتال سے نمٹنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے، ان پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

اس تقرری نے صنا مران کو ملک کی سب سے کم عمر ترین رہنما بنا دیا۔

100 Women branding

BBC

بی بی سی نے دنیا بھر سے سنہ 2020 میں جن متاثر کن اور بااثر 100 خواتین کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے، ان میں صنا مارن بھی شامل ہیں۔


فنلینڈ کی حکومت اور کووڈ 19

صنا مارن کے اقتدار میں آنے کے لگ بھگ تین ماہ بعد، 11 مارچ کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کو عالمی وبا قرار دیا۔ لیکن مارن کابینہ اس سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔

16 مارچ تک، فن لینڈ ناصرف لاک ڈاؤن میں تھا بلکہ انھوں نے ایمرجنسی پاور ایکٹ کو بھی متحرک کردیا تھا جو آخری مرتبہ دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہوا تھا، اس ایکٹ نے حکومت کو اجرتوں کو باقاعدہ بنانے کا اختیار دیا تھا اور ’مزدوری کے حصول کے لیے لازمی طور پر افرادی قوت کی تقرری‘ کی ضرورت تھی۔

میڈیا میں اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لیکن رائے شماری میں عوام نے اس کی حمایت کی۔

فن لینڈ کے عوام کو ایک واضح ہدایت دی گئی تھی: جہاں تک ممکن ہو گھر میں رہیں۔ ہلکی علامات والے ہر فرد کو ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دی گئی تھی اور منصوبوں میں ہم آہنگی کے لیے لیبارٹریوں، ڈاکٹروں اور کلینک کے مابین باقاعدہ آن لائن ملاقاتیں طے کی گئیں۔

صنا مارن اور ان کی کابینہ کی چار ساتھیوں نے ہفتہ وار کورونا وائرس پر بریفنگ دی جس میں شہریوں اور میڈیا دونوں کے سوالات کو شامل کیا گیا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کا کام صرف بچوں کے سوالات کا جواب دینا تھا۔

https://www.instagram.com/p/CE2ZoYrBtq5/


تائیوان، جرمنی اور نیوزی لینڈ کے سربراہوں کی طرح ان کی تعریف کی گئی، جس سے کچھ لوگوں نے ایسے سوال بھی کرنے شروع کیے کہ کیا خواتین رہنما کسی بحران سے زیادہ بہتر انداز میں نمٹتی ہیں؟

صنا مارن نے بی بی سی کو بتایا ’ایسے ممالک بھی ہیں جہاں مرد حکمران ہیں اور انھوں نے بھی بہتر انداز میں اس بحران کا مقابلہ کیا ہے۔ لہذا مجھے نہیں لگتا کہ صرف خواتین بہتر رہی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں ان ممالک پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جنھوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

5.5 ملین آبادی والے فن لینڈ میں صرف 370 اموات ہوچکی ہیں، جس کی شرح فی ملین آبادی میں 60 کے قریب اموات ہیں۔

برطانیہ میں اموات کی شرح اس سے 10 گنا زیادہ ہے۔

صنا کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں کچھ چیزیں جو ہم نے فن لینڈ میں سیکھی ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ سائنس دانوں کو سننا ضروری ہے تاکہ وہ تمام علم کو استعمال کر سکیں، اور غیر یقینی صورتحال میں جرات مندانہ فیصلے کریں – مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔‘

’ہمارا ایک ایسا معاشرہ ہے جو اعتماد پر مبنی ہے۔ لوگ حکومت پر اعتماد کرتے ہیں، انھیں جمہوری احکامات پر اعتماد ہے۔‘

Li Andersson at school

BBC
وزیر تعلیم اور بائیں بازو اتحاد کی رہنما، 33 سالہ لی اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ‘ہر جماعت میں سب اچھا نہیں ہوتا۔’

جون میں ایمرجنسی ایکٹ کی پابندیاں پہلے سے بنائے گئے منصوبے سے پہلے ہی ختم کردی گئیں، لیکن اس اتحاد کو ایک اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب نائب وزیر اعظم اور سینٹر پارٹی کی رہنما، کٹری کلونیمی – صنا مارن کی چار اتحادی رہنماؤں میں سے سب سے کم عمر – اخراجات کے سکینڈل کی وجہ سے مستعفی ہوگئیں۔ ستمبر میں ان کی جگہ ایک اور خاتون انیکا سرائیکو نے لے لی ہے۔

عوامی سطح پر یہ اتحاد متحد نظر آیا، لیکن نجی طور پر ان کے درمیان اختلافات کی اطلاعات تھیں۔

وزیر تعلیم اور بائیں بازو اتحاد کی رہنما، 33 سالہ لی اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ’ہر جماعت میں سب اچھا نہیں ہوتا۔‘

’بعض اوقات اس طرح کی صورتحال میں بند دروازوں کے پیچھے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں کچھ لوگوں کا ایسا کہنا ہے کہ چونکہ آپ ایک عورت ہیں اس لیے آپ ایک مخصوص قسم کی پالیسی بنائیں گی، یا جب آپ سبھی عورتیں ہوتی ہیں تو آپ کے لیے اتفاق کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔‘

صنا اور سیاست

اپنی جوانی میں مارن کسی ایسے مستقبل کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی جہاں وہ اپنے شوہر اور ان کی دو سالہ بیٹی ایما کے ساتھ کیسنرانٹا میں رہ رہی ہوں۔

وہ کہتی ہیں ’سیاستدان بننا اور سیاست کرنے کا بہت دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ میں جہاں رہتی تھی، وہ بالکل الگ قسم کی دنیا تھی۔‘

انھوں نے 2016 میں اپنے ذاتی بلاگ میں لکھا تھا کہ ’فن لینڈ میں رہنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، میرا خاندان بھی دکھی کہانیاں سے بھرا ہوا ہے۔‘

صنا کی پرورش ان کی والدہ اور والدہ کی گرل فرینڈ پیرککالا نے کی۔ ان کا بچپن فن لینڈ کے جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے میں گزرا۔ اپنے خاندان کے بارے میں وہ لکھتی ہیں ایک ’رین بو فیملی‘ جو مسلسل مالی مسائل کا شکار تھی۔

یتیم خانے میں پلنے والی ان کی والدہ نے اپنے شرابی خاوند سے طلاق لینے کے بعد حکومت سے ملنے والے خرچے پر گزارا کیا۔ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کم عمری ہی سے صنا مارن نے کئی نوکریاں کیں۔

صنا میں بہت آگے جا کر کچھ بڑا کرنے کے کوئی آثار بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پیرکالا ہائی سکول میں ان کی ٹیچر، پاسی کیروین، صنا کو ایک ’اوسط درجے کی طالب علم‘ کہتی ہیں، جنھیں 15 سال کی عمر میں اپنے گریڈز میں بہتری لانے کے لیے اضافی ہوم ورک کے لیے کہا گیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ 20 کی دہائی میں ان میں سیاسی شعور تب آیا جب انھوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ صرف اپنے حالات ہی نہیں، بلکہ آس پاس کے دیگر افراد کی زندگی میں بھی بہتری لانا ممکن ہے۔

مارن گورنمنٹ کے مساوات پروگرام کے پیچھے یہی محرک ہے، جس میں ایسی پالیسیاں شامل ہیں جو والدین کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کو یکساں طور پر بانٹنے، گھریلو تشدد کو ختم کرنے، صنفی تنخواہوں میں امتیاز کو ختم کرنے اور غریب پس منظر اور تارکین وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا۔

ٹرانس ایکٹ میں بھی اصلاحات لانے کے منصوبے ہیں، ایک ایسا قانون جس کے تحت فی الحال قانونی طور پر صنف کی شناخت کے خواہاں افراد کو سالوں تک ذہنی صحت کی سکریننگ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اگر وہ پہلے سے بانجھ نہیں ہیں تو زبردستی ان کی نس بندی بھی کی جاتی ہے۔

Trans rights activist

BBC
سرگرم کارکن کاسپر کیویستو کا کہنا ہے کہ پچھلی تمام حکومتیں جنھوں نے قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، کو قدامت پسندوں کے دباؤ کے باعث پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

صنا مارن کا کہنا ہے کہ ’ہر فرد کو اپنی اپنی شناخت کا تعین کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ اور پروگرام اس کی حمایت کرتا ہے۔‘

کیا وہ ٹرانس خواتین کو خواتین سمجھتی ہیں؟

وہ مضبوط لہجے میں کہتی ہیں ’لوگوں کی شناخت کا تعین میرا کام نہیں ہے۔ ہر ایک کو اپنی شناخت کا حق ہے۔ میں کون ہوتی ہوں انھیں یہ بتانے والی۔‘

وہ واحد حکومتی رہنما ہوسکتی ہیں جنھوں نے صنف کی خود شناسی کے متعلق اس طرح کھلے عام بات کی ہو۔

ٹرانس رائٹس مہم چلانے والے ’پسماندہ‘ ٹرانس ایکٹ میں اصلاحات کے لیے سالوں سے لابنگ کر رہے ہیں، اور کچھ کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی بھی شک ہے کہ یہ حکومت ایسا کر پائے گی۔

سرگرم کارکن کاسپر کیویستو کا کہنا ہے کہ پچھلی تمام حکومتیں جنھوں نے قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، کو قدامت پسندوں کے دباؤ کے باعث پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارے پاس دنیا کی سب سے کم عمر خاتون رہنما ہیں، لیکن وہ تن تنہا صرف ایک اکیلی رہنما ہیں۔ حقیقی تبدیلی لانے کے لیے انھیں نظام کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔‘

لیکن اس بار اتحاد میں شامل پانچوں جماعتیں اصلاحات کے حق میں ہیں اور آئندہ سال اس کے بارے میں ایک بیل پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔

صنا مارن کا کہنا ہے کہ ’فن لینڈ میں ہمیشہ سے مخلوط حکومتیں رہی ہیں۔ لہذا ہم سمجھوتہ کے عادی ہیں اور مختلف جماعتوں اور نظریات کے مابین اتفاق رائے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Three women at a table

BBC
فی الحال فن لینڈ کی پارلیمنٹ میں صرف ایک سیاہ فام خاتون رکن اسمبلی بیلا فورسگرین ہیں

اپریل میں وبائی بیماری سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کے باعث، ملک کے 85 فیصد افراد نے ان کے لیے پسندیدگی اور حمایت کا اظہار کیا۔ لیکن صنا کا کہنا ہے کہ وہ رائے شماری کے نتائج کو نہیں دیکھتی ہیں۔

ان پر تنقید بھی ہوتی رہتی ہے۔ بلیک لائیوز میٹر کے عالمی مظاہروں کے دوران، فن لینڈ کے کچھ سیاہ فام افراد نے سوشل میڈیا پر اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ ان کا مساوات کا منصوبہ متعدد شکلوں میں عدم مساوات کے مسائل کو حل کرتا ہے، تاہم یہ منصوبہ یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ عدم مساوات کا سب سے زیادہ نشانہ وہی افراد بنتے ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔

یورپی کونسل کی 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فن لینڈ میں افریقی نژاد 63 فیصد افراد کو باقاعدگی سے نسل پرستی کا سامنا رہا- جو کہ یورپ میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

اور فی الحال فن لینڈ کی پارلیمنٹ میں صرف ایک سیاہ فام خاتون رکن اسمبلی بیلا فورسگرین ہیں۔

فن لینڈ کی گرین لیگ کی 35 سالہ رہنما ماریا اوہسالو کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں سے متفق ہیں جو کہتے ہیں کہ عوامی زندگی میں تنوع کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے چاہیے۔

’پانچ تعلیم یافتہ سفید فام خواتین رہنما کافی نہیں ہیں۔ اگر واقعی ہم یہاں مساوات کی بات کریں، تو یہ ابھی تک کہیں نظر نہیں آتی۔‘

صنا مارن کا کہنا تھا ’یقینا ہمارے پس منظر، زندگی میں ہمارے سامنے موجود امکانات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ٹھیک کرنا صرف میرا نہیں بلکہ پورے فن لینڈ کا کام ہے۔

اور ان کا اصرار ہے کہ مساوات کے پروگرام سے نسلی اقلیتوں کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وہ کہتی ہیں „ہم سب کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ہم کس طرح پروگرام کو ایک حقیقت بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ میرا مشن ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17241 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp