جی سی یونیورسٹی ایک درگاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کرہ ارض پر انسان غالباً یکتا تخلیق ہے جو غیر مختتم خواہشات سے بھرا ہوا مشوش مگر متفکر خانہ رکھتا ہے جس کو موجودہ ناگہانی زیست کے لئے اچھوتی اور قیمتی اشیاء درکار ہیں۔ لیکن کیا اس کی حس استلذاذ ان اشیاء کے لئے ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ ؟ یقیناً نہیں۔ لہٰذا شاہراۂ شعور پر عقل بیساکھیوں پر چلتی دکھائی دیتی ہے اور عشق فرس پر سوار، عقل پہ گرد اڑاتے ہوا پوری شان کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ عقل کے برعکس عشق کا خاصا ہی یہ ہے کہ اس میں حس استلذاذ ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔

عشق و عقل میرا موضوع نہیں مگر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لئے عشق کا لفظ مجبوراً برتنا پڑے گا۔ گوہر و الماس کو شب و روز تکتے رہنے سے ان کی جاذبیت و اہمیت جرعہ مے جتنی رہ جاتی ہے کہ جس کا نشہ کچھ پل رہا اور پھر اتر گیا، دوسری جانب سنگ و خشت سے بنی ہوئی اس عمارت میں نجانے ایسا کیا ہے جس کا نشہ صرف نشے کی حالت میں اترتا ہے۔ حضرت میر تقی میر کا ایک مصرعہ یاد آ گیا:

بے منت بادہ نشہ دارم کہ رساست
(شراب کے احسان کے بغیر وہ نشہ رکھتا ہوں جو کامل ہے )

ہر شے کا انحطاط ناگزیر ہے کیونکہ کوئی شے ایسی نہیں جو وقت کی دسترس سے باہر ہو۔ اسی انحطاط کو موت کہا جاتا ہے۔ سرگشکئی خاکسار یہ ہے کہ کیا اس قانون کا اطلاق اس عمارت پر نہیں ہوتا؟ یہ جتنی پرانی ہوئے جا رہی ہے اتنی ہی جوان ہو رہی ہے۔ اگر دھوپ میں بزرگی کا جلال جھلکتا ہے جس میں مشاہیر مفکرین اور شعرا کے علم و ہنر کا حسن انگشت بدنداں کرتا ہے تو شام ہوتے ہی یہ عمارت ہمدرد دوست کا روپ دھار لیتی ہے۔ ایسا دوست جس کی قربت کا احساس دل کو گداز کر دے۔ سردیوں کی چاند راتیں بالخصوص اسی موسم میں شام کی بارش کوئی ہجر زدہ یہاں کبھی نہ دیکھے!

مین لائبریری کی پرانی کتب بڑے تکبر سے الماریوں کو زینت بخشے ہوئے ہیں، وہ کتب جنھوں نے کئی ذہین لوگوں کے گرم پوروں کے اچھوتے لمس کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے، انھیں چھوتے ہی عجیب جہان طلسمات کھلتا ہے۔ عصر مابعد جدیدیت میں stream of consciousness کی آڑ میں عمارت سے کتب پر آنے کی معذرت چاہوں گا۔

موضوع کی طرف دوبارہ آتے ہیں کہ بعد از رخصت یہ عقدہ کھلا کہ یہاں سے گیا ہوا ہر باذوق فرد جب واپس جب اس کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو در و دیوار کو سینے سے لگا لگا کر گزرے لمحات کی خوشبو کیسے محسوس کر لیتا ہے۔ یہ عمارت مسلسل محبت بانٹ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، عمارت دیکھ کر دل للچاتا ہے اور ہر فرد جو کسی بھی طرح اس سے منسلک ہوتا ہے، خواہش کرتا ہے کہ جس طرح انسانی بینائی اس عمارت کا احاطہ کرتی ہے اے کاش اس طرح وہ کیمرے میں خود کے ساتھ اسے ایک تصویر میں محفوظ کر لے مگر شومئی قسمت۔ کیمرے میں ایسی شوق بینائی کہاں!

سراسیمگی کا عجیب عالم تھا کہ ایک شب جب ٹاؤر کے ماتھے پر چاند سجا تھا، سماعتوں میں سرد ہوا کی دھیمی سرگوشیاں، دھواں چھا رہا تھا جس نے اپنا آپ ہوا کے سپرد کر دیا تھا اور اس طرح وہ دھواں کبھی یہاں لے جاتی کبھی وہاں۔ چند گھر کو جاتے ہوئے خاموش طلبہ و طالبات اور دور مال روڈ پہ چلتی کسی گاڑی کا ہارن جو غور کرنے پر سنائی دیتا، جھڑتے ہوئے پتوں سے مین عمارت کی طرف آتی سڑک اب لوگوں کی کم اور آوارہ پتوں کی رہگزر زیادہ لگ رہی تھی، سرکتے پتوں کا ساز بڑا بھیانک ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی زخم پر جبراً خارش کر رہا ہو۔ ان میں ایک میں تھا جو اس بالکنی سے یہ سب دیکھ رہا تھا جس کا رخ سیکٹری ایٹ کے سنگل کی جانب تھا جس پر سرخ بتی جل رہی تھی۔ طبعیت مائل تھی اس کے باوجود شعر نہ ہوا۔ اچانک سکوت ٹوٹا، یہ ایک بزرگ سیکورٹی گارڈ کی آواز تھی بیٹا کیا روگ ہے جو گھر نہیں جاتے۔ میں نا چاہتے ہوئے بھی اٹھا۔ آہ بھری۔ اور گھر نکل آیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).