سچے افراد کی کمی ہو تو ایسی اقوام کسی کی آئیڈیل نہیں ہوتیں
قدیم معاشرت کے زیر اثر شخصیت پرستی کی لعنت نے کبھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس خطہ زمین کے چھوٹے ذہن، چھوٹی سوچ اور ذات کے دائرے کے اندر رہنے والے غلام لوگ ہمیشہ سے بت پرستی (شخصیت پرستی) جیسے شرک اور لعنت کے گرویدہ رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس خطے کا ایک حصہ ہے کل جب جنرل ایوب خان اس ملک کا صدر تھا تو ہر جگہ ”ایوب خان“ شاباش، واہ واہ، تعریف، خوشامد ”۔
ذوالفقار علی بھٹو آیا تو ”جئے جئے بھٹو جئے“ ۔ میاں نواز شریف نے مسند اقتدار سنبھالا تو ”میاں دے نعرے وجن گے“ ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ”میں کسی سے نہیں ڈرتا“ ، ”سب سے پہلے پاکستان“ ، ”وردی میں دس بار صدر بنانے کی صدائیں“ گونجتی رہیں اور بے نظیر بھٹو کے عہد حکومت میں ”بی بی تیرے جانثار، بے شمار بے شمار“ ، ”بے نظیر سارے صوبوں کی زنجیر“ جیسے دلفریب نعرے بلند ہوتے رہے۔ عمران خان آیا تو ”دو نہیں ایک پاکستان“ ، ”نیا پاکستان“ کا راگ مقبول عام ہوا۔
ان سب سیاسی قیادتوں نے ہمیں ایک ہی سبق پڑھایا ”ہم آزاد ہیں“ ، ہم آزاد ہیں ”۔ مگر سوال یہ ہے کہ عزیز لیڈران کرام! یہ تو بتائیں کون سی آزادی کی بات کرتے ہیں؟ کیا آپ کرپشن کرنے کی آزادی کی بات کرتے ہیں؟ کیا یہاں ملاوٹ کرنے کی آزادی مراد ہے؟ کیا بنت حوا کے ساتھ سرعام ظلم و زیادتی کرنے کی آزادی؟ کیا میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کی آزادی؟ کیا ملاوٹ کرنے کی آزادی؟ اسمبلیوں میں ضمیر بیچنے کی آزادی؟ آزادانہ دھونس دھاندلی والے معاشرہ کے آزاد لوگ، ظلم و زیادتی پر خاموش رہنے والے آزاد لوگ، جھوٹے اور بے ضمیر آزاد لوگ اور آخر میں انسانی قانون سے آزاد معاشرے کے آزاد لوگ۔ کیا کیا سناؤ اور کہاں تک سناؤ۔ کیا تم اس آزادی کی بات کرتے ہو؟ جس معاشرے میں مجبور اور بے بس انسان دو ٹکے کے فرد کے سامنے جھک جاتا ہو، اپنی عزتیں گروی رکھ دے، ظلم پر زبانیں گنگ ہوجائیں اور کانوں میں سیسہ ڈال کر نیم وا آنکھوں کے ساتھ بدلتے منظر دیکھے۔ کیا یہ انسانی معاشرہ کہلانے کا حقدار ہے؟
منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے، یا کیا ہے
حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
اس وقت کچھ سیاسی جماعتوں کی تیز مگر ناکام یلغار کے ساتھ کچھ مذہبی جماعتیں دین کے نام کا چورن بھی بیچنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن یہ بات ہمارے ملک میں کچھ انہونی بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں ہمیشہ سے ہر طرح کا کارڈ استعمال ہوتا آیا ہے وہ مذہبی ہو، لسانی ہو، علاقائی ہو یا سیاسی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے شراب پر پابندی لگوائی، ضیاء الحق نے جمعہ کی چھٹی کروائی، بے نظیر بھٹو نے چادر لے لی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ لی، میاں نواز شریف تو ویسے ہی مذہبی ووٹ والوں کے لیے کوئی دوسرا موجود نہ ہونے کی وجہ سے قابل قبول تھے اور اب عمران خان کے ہاتھ میں بھی تسبیح نظر آتی ہے۔
مذہب کارڈ کا استعمال برا نہیں ہے کیونکہ ایک مسلمان کی ساری زندگی اس کارڈ کی عملی تصویر ہوتی ہے۔ اصل بات نیت کی ہے۔ مذہب کو فلاح انسانیت کے لیے استعمال کرو، معاشرے میں عدل و انصاف کو ممکن بنانے کے لیے مذہب سے مدد لو، فلاحی ریاست کے قیام کے لیے مذہب سے ہدایات لو، رواداری اور برد باری کے اسباق دین سے لو، ان باتوں پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ یاد رہے! دنیا کے عظیم انسان پاک سوہنے نبی ﷺ نے صرف چند سالوں میں دین کی مضبوط بنیاد پر مسلمانوں کی ایک شاندار جماعت تیار کر لی، مذہب کے نام کی برکات سے جس طرح عرب کے بدؤ ایک کتاب کے ماننے والے بن گئے تھے اگر پاکستان کو مخلص اور نیک قیادت نصیب ہو گئی جو حضور ﷺ کے روشن راستوں پر چلنے والی ہوئی تو یقیناً ایک مختصر سے وقت میں لاکھوں فرزندان توحید جنم لیں گے جو چلتے پھرتے اسلام کے پیروکار ہوں گے۔
کاش! ہم پاکستانی بھی ایک جھنڈے تلے متحد ہو جائیں۔ مگر افسوس پاکستانی سیاست کے سیاسی اور مذہبی رہنماء صرف مادی فائدہ دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں چند سال پہلے تک مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے مسلح افراد کے ونگ بنا رکھے تھے اس سیاسی اور مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے ہمارے ملک کا سکون غارت ہو گیا تھا، انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، قتل و خون کا ایک لامتناہی اور لمبا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور نتیجہ میں جمہور کا بیڑا غرق ہو گیا، اخلاقی اقدار کا ستیا ناس ہو گیا۔
یہی وجہ ہے کہ آئے دن ڈاکٹرز ہڑتال پر ہوتے ہیں OPD خالی ہوتی ہے اور مریض بلک رہے ہوتے ہیں، شر پسند وکیل صاحبان جج حضرات کو گلے سے پکڑ کر کھینچتے اور گالیاں دیتے ہیں، سیاست دان اسمبلیوں میں بیٹھے ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، منبروں پر بیٹھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے ایسے میں ستائے ہوئے عوام کسی پر الزام لگ جانے پر تحقیق کیے بغیر موقع پر ہی ہلاک کر دیتے ہیں اس عدم برداشت کے رویے میں روز بروز شدت آ رہی ہے۔
یہی سیاسی رہنماء کورونا کے پہلے دور میں کورونا پر سخت اقدامات کے حامی تھے مگر اب جلسے جلوس پر مصر ہیں اگرچہ پیپلز پارٹی اپنے صوبے سندھ میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا رہی ہے، اسمبلیوں اور سینٹ کے اجلاس کورونا کے اثرات سے بچنے کے لیے ملتوی کیے جا رہے ہیں مگر انتقام کی آگ میں جلتی اپوزیشن معصوم عوام کو کورونا کی بھٹی کا ایندھن بنانے پر تیار ہے۔ یہ سچ ہے کہ جس قوم میں سچے، فرض شناس اور دیانت دار افراد کی کمی ہو اور اخلاقی قدریں زوال پذیر ہو، وہ اقوام دنیاوی ترقی حاصل کر نے کے باوجود کسی کی بھی آئیڈیل نہیں ہوتی ہے۔ تاریخ ایسی اقوام کے نام جلد ہی اپنے صفحوں سے کھرچ دیتی ہے۔ خدا ہم پر رحم کرے۔


