دوستیوں کی فصل کٹنے کا دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں 2000 میں نیو یارک سٹیٹ کے شہر Olean میں ملنے تو منیر سلیمی کو گیا تھا جو وہاں کے ایک ہسپتال میں Pulmonologist تھا مگراس نے بتایا کہ ظہیرالدین بابر بھی یہیں ہے اور وہ Gastroenterologist ہے. ظہیر الدین بابر جسے ہم ظہیر پپو کہا کرتے تھے، گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف ایس سی کرنے کے دوران بھی میرا نہ صرف ہم جماعت تھا بلکہ ایک سیکشن میں تھا. میں اقبال ہوسٹل میں رہتا تھا اور وہ لاہور میں ہی اپنے گھرمیں اپنے والدین کے ساتھ. اس کے والد کی انارکلی میں دکان تھی.

ظہیر کنگ ایڈرورڈ میڈیکل کالج لاہور کی بجائے نان ٹیگ سیٹ پر نشتر میڈیکل کالج میں داخل ہوا جہاں مجھے بھی داخلہ ملا تھا کیونکہ ان دنوں جن علاقوں کا ڈومیسائل ہوتا اسی خطے کے میڈیکل کالج میں ‌داخل ہونا پڑتا تھا اگرچہ میری خواہش کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخل ہونے کی تھی. یوں ظہیر وہاں بھی میرا ہم جماعت ہوا. اگر میرے کمرے میں کوئی مہمان آ جاتا تو میں سونے کی خاطر ظہیر کے پاس چلا جاتا، جہاں ہمیں اس کی چارپائی مل کر استعمال کرنی ہوتی. ظہیر اگر کبھی تنگ ہوا بھی تو اس نے کبھی کہا ہرگز نہیں. اگرچہ ہم بالکل بھی ہم خیال نہیں تھے، وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے اور میں بائیں بازو والوں کا ہم خیال مگر ہم دوست تھے.

ظہیر کو اس کے بچوں ایسے چہرے، مستعدی، کم سن لڑکے ایسے بدن اور کچھ چھوٹے قد کے سبب جی سی میں ہی پپو اس لیے کہا جانے لگا تھا کیونکہ کلاس کے اسی سیکشن میں اس کا ایک ہم نام تھا جو کچھ فربہ، معنک اور سست خرام تھا جسے یار لوگوں نے ظہیر دادی کا نام دیا تھا. بتاتا چلوں کہ نشہ کرنے والوں کا پاکستان بھر میں معروف معالج صداقت علی بھی جی سی میں ہمارا ہم جماعت تھا اور ایک ہی سیکشن میں جسے اس کے کھلتے رنگ کے سبب ملک شیک پکارا جاتا.

دوسرے ہی روز ہم منیر کی گاڑی میں ظہیر کے ہاں کھانے پر گئے تھے. ظہیر بہت مصروف ڈاکٹر تھا، اب اس کے چہرے پر جھریاں بن گئی تھی کیونکہ اس کی جلد شروع سے بہت نرم تھی. ظہیر نہ صرف بہت تپاک سے ملا بلکہ اس نے وہاں ایک ایسے شخص کو بھی مدعو کیا ہوا تھا، جو جی سی میں ہم سے ایک سال آگے تھا مگر اقبال ہوسٹل کا ہی مکین تھا. پھر وہ لیاقت میڈیکل کالج حیدرآباد جا کر داخل ہوا تھا. ایک عرصے کے بعد الف الرحمٰن، ظہیر کی وساطت سے ہی کہاں جا کے ملا تھا. کھانے کے بعد ظہیر نے مجھے پینٹ، شرٹ اور ٹائی کا تحفہ دیا ساتھ ہی بار بار کہا یار مجاہد ایک بار پھر آنا جو میں نہ جا سکا.

تین چار سال پہلے منیر سلیمی سے فون پہ بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ظہیر بیمار تھا اس لیے وہ کنبے سمیت لاہور منتقل ہو چکا ہے. میں چونکہ روس میں تھا نہ میں نے اس کا نمبر مانگا نہ سلیمی نے دیا. چند روز پیشتر ہمارے نشتر میڈیکل کالج کے ہم جماعت ڈاکٹرز کے وٹس ایپ گروپ پر منیر سلیمی نے ظہیرالدین بابر کی رحلت کی خبر دی. لاہور میں مقیم ہم جماعت دوست اچنبھے میں پڑ گئے کہ کسی کو بھی ظہیر کے لاہور میں ہونے، اس کے مرض اور آخری چند ماہ میں بستر سے لگے رہنے کی خبر تک نہ ہوئی.
جب اس کا گلہ درج کیا گیا تو منیر سلیمی نے بتایا کہ کئی سال پہلے ڈاکٹر ظہیرالدین بابر کو نسیان کا مرض شروع ہوا تھا، پہلے وہ Olean سے Virginia منتقل ہوا اور جب نسیان زیادہ بڑھ گیا تو اس کے کنبے والے اسے لاہور لے گئے تھے. سلیمی کا خیال تھا کہ کنبہ نہیں چاہتا ہوگا کہ کوئی سب کچھ بھول جانے والے دوست کی عیادت کی خاطر آئے، اس لیے اس نے کسی کو اس بارے میں بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ انفرادی طور پر وہ دوستوں کو ظہیر کے عارضے سے متعلق مطلع کرتا رہا تھا.
بتایا گیا کہ کئی سال امریکہ میں بہت مصروف اور معروف رہنے والے ڈاکٹر نے آخری عمر بستر سے لگ کے بسر کی تھی. میں ‌ سوچ میں پڑ گیا کہ اگر انجام یہی ہونا ہو تو سب کچھ انسان کس لیے کرتا ہے. اولاد کی خاطر، یہی ہے نا? مگر ایسا بھی ہوا کہ کوئی موت کے منہ سے واپس آ گیا جیسے کینیڈا کے بارڈر کے نزدیک ظہیر کے شہر Olean سے کوئی اڑھائی تین سو کلومیٹر ادھر نیویارک سٹی کی جانب شہر Biminghton کے معروف نیورو سرجن سعید احمد باجوہ جو ظہیر کی مانند جی سی سے ہی میرا نشتر میڈیکل کالج تک کا دوست ہے، کوئی دو برس پہلے ایک عام آپریشن کے دوران پھیپھڑوں کے بیٹھ جانے (جیسا Covid. 19 سے ہوتا ہے) سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوا اور ایک سال کی تشویشناک حالت کے بعد جس میں وینٹی لیٹر تک جانا، کوما میں رہنا شامل تھا بالآخر خدا کے فضل وکرم سے رو بہ صحت ہو گیا.

ظہیر الدین بابر کی ایسی بے بسی جس کا اسے یقیناً احساس نہیں تھا اور پھر بستر سے لگ کے موت سے غیر آگاہ ہوتے ہوئے انتقال کر جانے کا شدید صدمہ ہوا مگر کیا کیا جائے ہم سب فانی ہیں اور رفتنی. موت کیسے، کہاں اور کب آتی ہے تا حال کوئی اس بارے میں پیشگی مطلع ہونے سے قاصر ہے تاہم جانا سب کو ہے. اور آج کل تو ویسے ہی کورونا کی وجہ سے موت عام ہے اور غالب کے بقول ویسی ہی کہ:

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •