ضلع سوات میں بچوں کی اموات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال پانچ ہزار سے زائد نومولود یا دوران زچگی بچوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔

ان اموات میں زیادہ تر 18 سال سے کم عمر حاملہ خواتین کے پیٹ میں پلنے والے ان بچوں کی ہوتی ہے جن کو اس دنیا میں آنکھ کھولنا نصیب نہیں ہوتا۔ بچے تو ماں کی پیٹ میں یا پیدائش کے فوراً بعد ہی مر جاتے ہیں، لیکن یہ کم عمر ماں کے لئے عمر بھر کی اذیت اور روگ بن جاتی ہے۔

ہم نے سوات میں سرکاری ہسپتال بشمول سینٹر ہسپتال مینگورہ، سول ہسپتال خوازہ خیلہ، مٹہ ہسپتال، بریکوٹ ہسپتال اور مدین سول ہسپتال سے اپنے ذرائع سے ڈیٹا جمع کروایا۔

سرکاری ہسپتال سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف سوات میں ہر سال پانچ ہزار کے قریب بچوں کی اموات 18 سال سے کم عمر ماؤں کے پیٹ میں ہی ہو جاتی ہے، جبکہ دوسرے طرف سوات میں موجود 50 سے زیادہ پرائیویٹ ہسپتالوں کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال کے منتظمین کہتے ہیں کہ ان کے پاس ان معلومات کو محفوظ کرنے کا کوئی منظم طریقہ کار نہیں۔

ضلع سوات میں ایک معروف گائناکالوجسٹ کا موقف ہے کہ ”جب ایک ماں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہوتی ہے اور وہ پریگنینٹ (حاملہ) ہو جاتی ہے، اور کم غذائیت کے ساتھ وہ گھر کے کام کاج سنبھالتی ہیں، ان کا جسم اتنا مضبوط نہیں ہوتا تو پیٹ میں موجود بچے پر دباؤ آ جاتا ہے اور اس وجہ سے بچہ ضائع ہوجاتا ہے، جس میں ڈاکٹرز کچھ نہیں کر سکتے، اس وجہ سے سوات میں نو عمر لڑکیوں کے پیٹ میں بچے مرنے کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے“ ۔

سوات میں موجود ذہنی امراض کے ماہرین اور ڈاکٹرز سے جو دو سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اس کے مطابق سوات میں ہر سال تین ہزار سے زیادہ نوعمر شادی شدہ یا ایک مرے ہوئے بچے کی ماں عورتوں کو ذہنی امراض کے شعبے میں منتقل کیا جاتا ہے یا ذہنی امراض کی ادویات تجویز کیے جاتے ہیں۔

کچھ مریضائیں کچھ مہینوں کی کونسلنگ یا ادویات کے ذریعے اس دردناک صدمے سے باہر آ جاتی ہیں، لیکن بعض بچیاں اس صدمے کو برداشت نہیں کر پاتیں، اور خود کو اس صورتحال کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے خودکشی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

”کیا سوات میں 18 سال سے کم عمر بچیاں خود کشیاں بھی کرتے ہیں؟“ اس سوال کے جواب میں سوات کے علاقائی اخبارات سے معلومات جمع کی گئیں، صرف سال 2020 کے اخبارات میں سوات میں درجنوں افراد کی خودکشیاں رپورٹ ہوئی تھیں، جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر چھ بچیاں بھی شامل ہیں۔

سوات میں قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اخبارات میں صرف یہ رپورٹ کیا گیا کہ ”فلاں جگہ گھریلو تنازعات یا گھریلو چپقلش سے تنگ آ کر نوجوان لڑکی نے خودکشی کر لی“ ۔

اخبارات سے صرف اتنا معلوم ہوا کہ سوات میں کم عمر بچیاں (لڑکیاں ) خودکشیاں کرتی ہیں۔ لیکن کسی اخبار میں خودکشی کرنے کی اصل وجہ نہیں بتائی گئی۔ اخبارات سے ملا ہوا ڈیٹا اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ یہ لڑکیاں شادی شدہ تھیں یا غیر شادی شدہ۔

مدین کے گاؤں تیرات میں ہوئے ایک ایسے واقعے کے بارے میں ایک ذرائع نے بتایا ”کہ مدین سے تین کلو میٹر نیچے تیرات گاؤں میں ستمبر 2020 میں ایک لڑکی نے اپنی شادی کی صبح گھر کے کچن میں زہر کھا کر خودکشی کی تھی“ ۔ مزید معلومات کے مطابق مبینہ خودکشی کرنے والی لڑکی کے لئے بہت رشتے پہلے سے آ چکے تھے، لیکن لڑکی اپنے ماں باپ سے انکار کرتی رہی، آخر میں ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ لڑکے کا رشتہ آیا، ماں باپ نے اپنے بیٹی کی رضامندی کے بغیر شادی کا فیصلہ کر دیا، روایات کی وجہ سے لڑکی اپنے والدین کو منع نہ کر سکی اور خودکشی کر لی۔

سوات میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں کی شادیاں ان کی مرضی جانے بغیر کی جاتی ہے۔

سماجی کارکن حدیقہ بشیر، جنہیں اس سال یونائیٹڈ نیشن نے نوجوان رکن چنا ہے، کافی عرصہ سے سوات میں کمسن بچوں کی شادیوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”کم عمر بچیوں کو زیورات اور نئے کپڑوں کا لالچ دے کر ان کو سکول سے نکال کر، ایک انجان گھر کی ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہے، اور بعد میں ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے“ ۔

پاکستان میں 19 لاکھ سے زیادہ کم عمر لڑکیاں شادی کی بندھن میں بندھی ہوئی ہیں جبکہ قانون کی رو سے ”جو بھی 18 سال سے زیادہ عمر کا مرد، 18 سال سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کا معاہدہ کرتا ہے، اسے ایک ماہ تک کی عمومی قید کی سزا ہو سکتی ہے، یا 1000 روپے تک جرمانہ یا دونوں۔

سماجی کارکن نیلم چٹان نے بتایا کہ ”پچھلے پانچ سال میں کم عمر بچیوں کا ایک کیس سوات میں رپورٹ ہوا ہے جس میں صرف روز نامچہ درج تھا، ایف ای آر درج نہیں ہوئی“ ۔

اس موضوع پر ہم نے سوات میں موجود علماء کرام کے ساتھ بھی مشاورت کی۔ مفتی اسد اللہ نے ہمیں بتایا ”اسلام کبھی کسی معصوم کی جان لینے کی اجازت نہیں دے سکتا، دو صورتیں ہو سکتیں ہیں، یا تو یہ لوگ اپنی روایات بدلیں کہ گھر میں آئی ہوئی بہو کو نوکرانی نہ بنایا جائے، اور یا پھر ایسی شادی ہی نہ کریں جس سے فائدہ کم اور نقصان اتنا زیادہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سہیل خان، سوات کی دیگر تحریریں