عمرانی علوم کے زوال کا المیہ


ہمارے معاشرے میں جو مروجہ علوم پائے جاتے ہیں، ان کو عمرانی علوم اور سائنسی علوم میں منقسم کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے قطع نظر یہ تمام علوم کسی بھی معاشرے کی ذہنی، مادی اور سماجی ترقی کے لئے لازم عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے وجود سے انکار گویا ایک طبعی عنصر سے محرومی کے مترادف ہے۔ یہ تمام علوم جو ہر دور کے اندر رائج رہے ہیں اور اقوام عالم نے اس امانت کو نہایت دیانت اور ایمانداری کے ساتھ نسلاً در نسلاً آنے والی نسلوں کو منتقل کیا ہے، اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے، ۔ تاہم مملکت خداداد پاکستان میں البتہ یہ عمرانی علوم نہایت زبوں حالی کا شکار اور ہماری بے حسی و بے رحمی پہ نوحہ کناں ہیں۔ اور جس برے طریقے سے ان علوم کی ساخت کو کچل کر، ان کے وجود کو مسخ کیا جا رہا ہے، اس سے بعید نہیں کہ یہ علوم ہماری دانشگاہوں سے کوچ کر جائیں۔

ہمارے ہاں وہ نسل جو اس وقت پچاس یا ساٹھ کے پیٹے میں ہے، ان کے ساتھ اگر گفت و شنید کی جائے تو نہ صرف وہ نہایت شستہ ہوتی ہے، بلکہ ان کا ادبی ذوق بھی بہت اعلی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی مثال ہمارے سرکاری ٹی وی کے وہ ڈرامے بھی ہیں، کہ جن سے مجھ جیسے ہیچمدان اپنی اردو فہمی کی اصلاح اور قلم کو پکڑنے کا طریقہ سیکھتے تھے۔ تاہم وہ چیز جو اس دور کے ادب، روز مرہ اور معاشرتی بناوٹ میں غالب تھی، اس کی تشکیل کا ایک وافر حصہ ان عمرانی علوم کی طرف سے ہی آیا کرتا تھا۔

مگر جیسے جیسے ہم زمانے کی دوڑ میں آگے بڑھتے گئے، ان عمرانی علوم میں نئی جہات اور زاویے متعارف کرانے کی بجائے ان کے وجود کو ہی مٹانے کے درپے ہو گئے، اور اب نوبت با ایں جا رسید کہ آپ کو خال خال وہ اشخاص اردگرد نظر آئیں گے، جو تاریخ، وقائع نگاری، فلسفہ، منطق، ادب عالیہ اور فارسی زبان جیسے علوم پہ دسترس رکھتے ہوں، اور جن کا ادبی و ذہنی نقطہ نظر اس قدر بلند اور وسیع ہو کہ آپ ان سے عصر حاضر کے رجحانات اور روز فردا کی بابت کوئی بصیرت آموز گفتگو کر سکیں۔

میں آج جب پلٹ کر اس زمانے کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے ہر سو اہل علم کا وہ چمن دکھائی دیتا ہے، جہاں ہر پھول اپنے حصے کی خوشبو سے پورے چمن کو مہکا رہا ہے، اور وہ شجر سایہ دار بھی نظر آتے ہیں، جو اپنے دامن میں ہر مسلک، قوم اور نسل کے فرد کو پناہ فراہم کر رہے ہیں۔ مگر صاحب! زمانہ اب رفتار بدلتا ہے اور ہمارے اذہان و قلوب میں عمرانی علوم کی جگہ سائنسی علوم کی حکمرانی قائم ہوتی ہے، جس کی بایں وجہ محض اور محض معاشی ہے، علمی نہیں۔

ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ اس کا شاید واضح جواب تو کسی کے پاس نہ ہو، تاہم اتنا ضرور واضح ہے کہ بھیڑ چال کی اس دوڑ میں جہاں کئی اقدار پامال ہوئیں، وہاں یہ عمرانی علوم بھی اسباب متروکہ کی طرح حاشیہ نگاہ و خیال سے اوجھل ہوتے چلے گئے اور آج کس قدر دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، کئی ایسی درسگاہیں بھی ہمارے ملک میں موجود ہیں، جہاں ان عمرانی علوم کے امین اساتذہ تو موجود ہیں، مگر ان سے یہ علوم حاصل کرنے کے مشتاق ندارد بلکہ عنقا ہیں۔

ان عمرانی علوم کی جگہ سائنسی علوم سے رغبت نے ہمارے معاشی مسائل کو تو شاید انفرادی سطح پہ حل کر دیا ہو، مگر بین الاقوامی دنیا میں ہم آج بھی سائنسی علوم میں پسماندہ ہی گردانے جاتے ہیں۔ لیکن دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ سائنسی علوم میں حد درجہ رغبت دکھلانے کے باوجود اقوام عالم میں ہمارا وقار تو بہتر نہ ہوا، البتہ عمرانی علوم سے منہ موڑ کر ہم نے لسانی و صوبائی تعصب، ادبی گراوٹ، اختلاف رائے میں کم سوادی اور اپنے شاندار علمی ورثے سے محرومیت جیسے مسائل کو اپنے ہاں جنم دیا۔

ہماری آج کی نسل کا ادبی و ذہنی معیار کس قدر پست ہو چکا، اس کی جھلک دیکھنے کے لئے ان کے ساتھ گفتگو فرمائیے اور لبوں سے نکلتی ”گل افشانی“ کا مظاہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھیے۔ یہ عمرانی علوم جہاں ہمیں نت نئے افکار سکھاتے تھے، وہیں اختلاف رائے، احترام آدمیت اور طریق تکلم کی طرف بھی رہنمائی کرتے تھے، جس کی بدولت دو اشخاص یا مکاتب فکر میں اختلاف ہونے کے باوجود بھی ایک باہمی محبت، الفت اور ربط کا سلسلہ قائم رہتا تھا۔

یہ عمرانی علوم جن میں فلسفہ، تاریخ اور ادب زیادہ نمایاں ہیں، کسی بھی قوم کے ماتھے کا نہ صرف جھومر ہوتے ہیں، بلکہ اس کے چہرے کی بناوٹ اور اس کے خد و خال کو بھی واضح کرتے ہیں، جن کی بدولت وہ اقوام عالم میں اپنی انفرادی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ان اوصاف سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ علوم قومی سطح کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح، پر بھی انسان کے اذہان و قلوب میں وہ وسعت پیدا کرتے ہیں، جن سے اس کے اندر ایک زندہ دل دھڑکتا ہے اور وہ ایک عضو متحرک کی طرح اپنے معاشرے کی تشکیل نو میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ عمرانی علوم ہی ہوتے ہیں، جو کسی بھی قوم کو اس کے علمی اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے میں محرک کا کام دیتے ہیں، اور یوں وہ قوم اپنا علمی ذخیرہ جو اس کے اسلاف اپنی شبانہ روز محنت سے کتب میں محفوظ کر کے جاتے ہیں، اس کو سینے سے لگا کر نہ صرف وفادار فرزند کا ثبوت فراہم کرتی ہے، بلکہ دوسری اقوام کو بھی اپنے علمی و تہذیبی سرمایہ کی بدولت اپنے شاندار ماضی اور اسلاف سے روشناس کرواتی ہے۔

Facebook Comments HS