گندی مندی باتیں اور عورت کے حقوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

مگر ہم کریں گے۔ سچی مچی کریں گے۔ کیونکہ سنا ہے عورت کی ”نہ“ کا مطلب ”ہاں“ ہو تا ہے۔ مگر یہ سنا ہوا دور جا چکا ہے۔ اب دور ہے ”ہراسمنٹ“ کو سمجھنے کا۔ جس کا مطلب مرد کو ڈگری لینے کے بعد بھی سمجھ اس لئے نہیں آ رہا کہ اس کا سماج ہے۔ اور اس کی سوچ محدود ہے۔ ڈگری اس کی نوکری اور خاندان کا تاج ہے۔ علم نہیں ہے، علم ان پڑھ کے پاس بھی ہو سکتا ہے۔

تو بات تھی گندی مندی باتوں کی۔ آئیے مل کے کرتے ہیں۔

”اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی تمہیں سمجھ نہیں کہ جسمانی لمس تمہاری ضرورت ہے، تمہارا حق ہے۔ تو یقین کرو تمہاری اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ بس تمہیں اس کے لئے ایک دن تو کسی پہ اعتبار کر نا ہو گا۔ یقین کرو تم مجھ پہ اعتبار کر سکتی ہو۔ رشتے صرف اعتبار کے ہوتے ہیں۔ ورنہ تو خون کے رشتے بھی بے معنی ہیں۔ میں تیار ہوں۔ بتاؤ تم کب آ رہی ہو؟ تم آ جاؤ، جہاں تک ضرورت ہو گی میں تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔ میں نے پوری دنیا دیکھی ہے اور سیکھا ہے کہ انسان کو اپنا حق خود لینا پڑتا ہے۔ باہر کی عورت کو دیکھو، اس نے اپنا حق خود لیا ہے۔ وہ پانچ دن کام کرتی ہے اور دو دن ریلیکس کرتی ہے۔ وہ جسمانی تھکن جو پانچ دن اس میں بس جاتی ہے۔ وہ دو دن میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر اسے اتار دیتی ہے۔ یہ اعتبار کا رشتہ ہے جو تمہیں کسی پہ تو کرنا ہو گا۔ جو تم یہاں کی سوسائٹی میں کسی پہ نہیں کر سکتی؟ جسم تمہارا ہے، اس پہ تمہارا حق ہے۔ ڈرتی کیوں ہو؟ اس کو آرام دو، انگریز عورت کی طرح جیو، تم پانچ دن کام کرتی ہو۔ دو دن تمہارے بھی تو ہونے چاہئیں۔ تم ہر ویک اینڈ پہ یہاں آ جایا کرو، اب تم پہ ہے کہ موت کا انتخاب کرو یا زندگی کا۔ میں زندگی کا رستہ ہوں۔ تم موت کی کہانی ہو۔ میں نے تم جیسی عورتوں کو مرتے ہی دیکھا ہے۔

اور گندی مندی بات بھی کرنی ہے سچی مچی

” جیو میری جان جیو۔ دیکھو مجھے، یہ میرا جسم ہے اور میں اس کے ساتھ جیتی ہوں۔ میں نے ایک شوہر بھی رکھا ہوا ہے۔ بس تم بھی رکھ لو۔ یہ رکھنے کی چیز ہے تاکہ دنیا والے کچھ نہ کہہ سکیں۔ جیسے ہم اپنے گھر کی حفاظت کے لئے کتا رکھتے ہیں۔ میں زیادہ دیر کسی کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ کچھ دن کسی کے ساتھ افئیر کیا۔ مزا کیا اور بس آ گے بڑھ گئے۔ ضروری نہیں کہ اپنی زندگی اپنے شوہر کے ساتھ شیئر کی جائے۔ ہم اپنے گھر کی ہر بات اپنے حفاظتی کتوں کے ساتھ تو شیئر نہیں کرتے ناں۔ میری جان نہ تو محبت کچھ ہوتی، نہ ہی رومانس، نہ ہی عشق، نہ ہی کیمسٹری میچ، نہ سول میٹ، یہ سب بکواس ہے۔ تم بھی ایک جسم ہو، مرد بھی ایک جسم ہے۔ جو وقتی طور پہ ملتے ہیں۔ اور جدا ہو جاتے ہیں۔ کمینی تجھے میں لڑکوں کے نمبرز دیتی ہو۔ مزا کر اور آ گے بڑھ جا۔ جسمانی محبت ذہن کا کینوس وسیع کرتی ہے۔ اپنا کینوس بڑھا۔ ہر نئی رات کے بعد میری پینٹنگ میں نئے رنگ آ جاتے ہیں۔ تو بھی اپنی زندگی میں یہ رنگ لا اور جی۔ اپنی لئے جی۔ مر تو جانا ہے۔ بہت سوں کے کام آ کے مر میری جان۔

ابھی گندی باتیں ختم نہیں ہوئیں اجی یہ کب ختم ہوتی ہیں۔ یہ اس لسی کی مانند ہیں جن میں پانی ڈالتے جائیں بڑھاتے جائیں۔

”اذان ہو تے ہی وہ خامشی سے بیٹھ کر اذان غور سے سننے لگا۔ نہ صرف سن رہا تھا۔ جواب بھی دے رہا تھا۔ اذان ختم ہو تے ہی گویا ہوا“ یہ گناہ اور ثواب کا چکر اپنے ذہن سے نکال دو۔ ہمارے ہاں کی عورت نے اسے ہی ابھی تک دماغ میں بسا رکھا ہے۔ اسی کے تابع ہو کر اس نے اپنی زندگی کے سب رنگ اور مزے خود ہی چھین لیے ہیں۔ اس کو علم ہی نہیں ہو پایا کہ بنانے والے نے اسے کس معراج پہ بنایا ہے۔ اس گناہ اس ثواب کے چکر نے جس مصنوعی عورت کو جنم دیا ہے۔ وہ تم ہو۔ اور تم جیسی عورتیں ہیں۔ جن کی وجہ سے نفسیاتی ڈاکٹر کمائی کر رہے ہیں یا وکیل اور جج۔ مگر تم خود اس کو کمائی کا ذریعہ نہیں بناتی۔ عورت کی کمائی حلال ہے حلال۔ وہ کسی سے گفٹ بھی لیتی ہے تو اس کے بدلے جو جسم دیتی ہے وہ اتنا نایاب ہے کہ اس کو اندازہ ہی نہیں کہ دنیا میں اس کے جسم کی جتنی بھی قیمت لگے کم ہے۔ اور جب وہ اتنی قیمتی چیز دیتی ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ اس کی قیمت لے۔ یہ سرکولیشن آف منی ہے۔ جو دولت کو معاشرے میں پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ سمجھو اس بات تو اور اپنے ذہن سے گناہ اور ثواب کو نکال کر جیو۔ جب یہ بات ذہن سے نکل جائے تو میرے پاس آ جانا۔ نہیں تو کسی اور کے پہلو میں ہی چلی جانا۔ میں تمہیں بھرپور جیتے دیکھنا چاہتا ہوں،

ہائے یہ گندی مندی باتیں، میرا سر دکھنے لگا ہے مگر یہ ختم ہو نے کو نہیں آ رہیں

” جان من تم فطرت سے منہ پھیر رہی ہو۔ تم خود سے منہ چھپا رہی ہو۔ کیا تمہارا جسم کوئی دنیا کی نایاب چیز ہے جس کو تم بچا لو گی تو قبر میں کیڑے بھی نہیں کھائیں گے۔ یہ استعمال کرنے کی چیز ہے۔ زندگی کی طرح استعمال کرو معافی مانگو اور مر جاؤ۔ کیا دل نہیں کرتا کوئی تم میں اتر جائے؟ نکاح تو نیت پہ ہے۔ اور نیت کی لکھت پڑھت نہیں ہوتی۔ یہ تو آج کے دور کی تبدیلی ہے کہ چند کاغذ مرد و عورت کو ایک ہو نے کی اجازت دیتے ہیں۔ پہلے یہ کب تھا۔ ہم تو فطرت پہ پیدا ہوئے ہیں۔ جہاں جانور اپنی طاقت کی بنیاد پہ کسی بھی فی میل کو جیت لیتے ہیں اور اس پہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ فی میل اس کے سامنے خود کو جھکا دیتی ہے۔ کبھی نیشل جیو گرافک دیکھو۔ تو تمہارے نالج میں اضافہ ہو،

”تم بہت ہاٹ ہو۔ کنکی لگتی ہو حقیقت میں۔ مجھے تمہاری ہی تلاش تھی۔ مگر جس کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ کبھی وقت پہ نہیں ملتا۔ مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب مل جائے تو جی لینا چاہیے۔ میں تمہارے ساتھ اپنی اگلی ساری زندگی جینا چاہتا ہوں۔ مگر یہاں کے معاشرے کی طرح جہاں میں رہتا ہوں۔ جہاں شادی جائیداد کے لئے سب سے بڑا رسک ہے۔ اثاثے آدھے آدھے تقسیم کرنے پڑتے ہیں،

”اربے یار تو یو ں کر ناں، میرے شوہر سے شادی کر لے۔ ہم تو الگ اس لئے ہوئے کہ ہماری کیمسٹری میچ نہیں ہوئی۔ مگر وہ ہمارا مسئلہ تھا۔ تمہارے کیس میں کیمسٹری نام کی چیز نہیں ہوتی۔ میں نے تو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کی، پو ری دنیا دیکھی۔ زندگی دیکھی، قانون سمجھے۔ اس کو ایک بند زبان عورت چاہیے تھی۔ وہ میں ہو نہیں سکتی تھی۔ تم تو گھر کے چار دیواری میں رہی ہو۔ تم کو کیا پتا اس بہار کا۔ تمہارا کیمسٹری کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا۔ تم جیسیوں کو تو گھر کی عادت ہو جاتی ہے اسی کے بدلے تم کو سب کچھ مل جاتا ہے کہ زبان نہیں چلاتیں تمہاری جیسی عورتیں، کیونکہ ان کی زبان ہوتی نہیں۔ اور جب تم نے والدین سے اپنے حق کے لئے بغاوت نہیں کی تو شوہر سے کرو گی؟ باقی اس کی کمزوریاں میں بتا دوں گی سائز وائز بھی۔ یہ کہتے ہوئے وہ ایک شاطرانہ قہقہہ لگانے لگی،

ابھی اتنی گندی مندی باتیں ہیں کہ میرے دل کے دھڑکنوں کو روک دینے کے لئے بہت ہیں۔ مگر قاری خود بھی سمجھ دار ہوتا ہے۔

اگر اس سب کے جواب میں قاری مجھے عورت کا صیغہ استعمال کرنے کی اجازت دیں تو عرض کرنا ہے۔

اے مذکر ومونث منحوسو۔

عورت کا حق جسم سے جسم تک ہی نہیں ہے۔ تمہارے سب جواز یک طرفہ اور شاطرانہ ہیں۔ تمہاری سوچ تمہاری اپنی ذات کی طرح دھند آلود ہیں۔ عقل کا ادھورا استعمال ہے۔ جسمانی لذت کا حصول میرا حق ہے۔ مگر لذت پسند کے بنا بے معنی ہے۔ میری پسند بھی اہم ہے۔ جسم پہ میرا پورا حق ہے مگر اس جسم کا ایک حصہ گود بھی ہے، فطرت نے اس میں ممتا رکھی ہے۔ اس ممتا پہ بھی میرا پورا حق ہے۔ اور مجھے اختیار ہے کہ میں تمہاری ساری توانائی کو گٹر میں بہا دوں یا خود میں سمو لوں۔ اور اپنی گود کو تسکین دے کر، اس بچے کو اس کے باپ کا نہ صرف نام بتا سکوں، اس کی شفقت بھی دلوا سکوں۔ مجھے حق ہے کہ میں بھی تمہاری طرح فضول اور ذمہ داریوں سے دور ی کے فلسفے اگا سکوں کیونکہ میں بھی تو منافق معاشرے میں رہتی ہوں اور تم کو اس عورت کی مانند کتے کی طرح رکھوں جس کی موجودگی میں زمانہ کچھ نہیں کہتا۔ مجھ کو حق ہے کہ میں اپنی مرضی سے کسی کی تسکین کا سامان بنوں یا نہ بنوں۔ اور مونث محافظ! مجھ کو حق ہے کہ جس شوہر کو تم نے جوتی کی نوک پہ رکھا ہے۔ میں اس کو جوتی سے نیچے رکھوں یا آسمان سے اوپر۔ عورت کو اس کی زندگی اور اس کے جسم پہ پورا حق ہے مگر اس کے باوجود ہم کیوں بھول جاتے ہیں اس کے پورے جسم کے اوپر بھی ایک عدد ڈبہ ہے۔ اس کا ڈبہ بھی ممکن ہے کام کرتا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ الگ کام کرتا ہو۔ اس کے کچھ الگ فلسفے اور تجربے ہوں۔ اور وہ تم سے میل ہی نہ کھاتے ہو۔

اے ظالمو، جسم کا حق تمہاری بہنوں کو بھی تو تھا، جن کو سر اٹھانے سے قبل، تم نے کسی کے ساتھ نکاح نام کے غیرفطری رشتوں میں باندھ رکھا ہے۔ سب غیر فطری رشتے پہلے اپنے گھروں کے اندر توڑو۔ اس کے بعد سماج میں سر اٹھا کر نکلنا۔ انگریز مرد کی طرح بنو، تعلق خفیہ کیوں رکھے جائیں، سب کو بتاؤ ناں یہ میری گرل فرینڈ ہے۔ میں کیوں آؤں، تم کیوں نہیں آ سکتے؟ ابھی تو تمہاری زبان تمہارے والدین کے سامنے نہیں کھلتی، تمہارے اپنے حق کے لئے۔ کیو نکہ وراثت کھو جانے کا خدشہ لاحق ہے۔ جیسے انگریز عورت سے آدھے ہو جانے کا خوف موجود ہے۔ تم خود تو سماج سے بغاوت نہیں کر سکے۔ ہمیں کیا درس دیتے ہو۔ اپنے جسم کی نہیں، پہلے اپنے حق کی جنگ سماج سے لڑو۔ تاکہ تم دو ٹانگوں سے نکل کر ایک نارمل انسان بن سکو۔

انسان کا سب سے پہلا حق اس کو اپنے مطابق زندگی گزارنے کا ہے۔ وہ کسی کے فلسفے کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ ہمیں اس کا احترام کر نا ہو گا۔ لہذا سو کالڈ غلام و بیمار ذہن کو فطرت، حق، مرضی، لذت کے محدود دائرے سے نکالنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •